• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیرمنصفانہ معاہدوں سے 100 ارب کا نقصان، آٹاچینی کے بعد وزیراعظم کا پاور مافیا کے خلاف ایکشن

آٹاچینی کے بعد وزیراعظم کا پاور مافیا کے خلاف ایکشن


راولپنڈی (جنگ نیوز)چینی اور آٹا اسکینڈل کے بعد وزیراعظم کا پاورمافیا کیخلاف ایکشن ، پاور سیکٹر اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ میں قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کرپشن کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بجلی کے پلانٹس 15فیصد کے بجائے 50سے 70فیصد تک منافع لیتے رہے ، کول پلانٹس کی لاگت بھی 30ارب ظاہر کی گئی، فیول کھپت میں خرد برد، ڈالرز میں گارینٹڈ منافع سے قومی خزانے کواربوں کا نقصان ، 1994 کے بعد آئی پی پیز کے مالکان نے 350 ارب روپے غیر منصفانہ طور پر وصول کیے۔ 

تفصیلات کے مطابق پاور سیکٹر پر ملکی تاریخ کی پہلی 278 صفحات پر مشتمل رپورٹ 9 رکنی کمیٹی نے تیار کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ 

وزیراعظم کو پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں قومی خزانے کے نقصان کی وجہ ٹیرف، فیول کھپت میں خرد برد، ڈالرز میں گارینٹڈ منافع کو قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے رپورٹ میں پاور پلانٹس کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1994 کے بعد آئی پی پیز کے مالکان نے 350 ارب روپے غیر منصفانہ طور پر وصول کیے۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15 فیصد منافع حاصل کرنے کے برعکس پاور پلانٹس سالانہ 50 تا 70 فیصد منافع حاصل کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب روپے اضافی ظاہر کر کے نیپرا سے بھاری ٹیرف لیا گیا جب کہ صرف کول پاورپلانٹس کی لاگت 30 ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے رپورٹ میں کمیٹی کی آئی پی پیز مالکان کے ساتھ ’’ٹیک اور پے‘‘کی بنیاد پر کپیسیٹی پے منٹ کا فارمولہ ختم کرنے اور 100 ارب روپے ریکوری کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

تازہ ترین