• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروباری شخصیات کی ایک اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی تجویز

اسلام آباد (مہتاب حیدر) اعلیٰ کاروباری شخصیات نے ملک کی اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت کے سامنے ایک اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری کا تصور پیش کیا ہے تاکہ دولت مند افراد ایف بی آر کے خوف کے بغیر رقم استعمال میں لانے کیلئے سامنے آئیں۔ 

اعلیٰ سرکاری افسران نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ بعض کاروباری حلقوں نے حکومت کو ایک اور جنرل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری کی تجویز دی ہے اور ملک بھر میں کووڈ 19 وائرس پر قابو پانے کے بعد لاک ڈاؤن ختم ہونے پر اپنا مراعاتی منصوبہ ظاہر کریں گے۔ 

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی کی تجویز پر حالیہ دنوں بات چیت جاری ہے جیسا کہ تاجر برادری کے بعض اعلیٰ حلقوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کو غیر معمولی ردعمل کی ضرورت ہے۔ 

تاجروں نے دلیل دی کہ کاروباری سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں جیسا کہ غذا سے متعلق مصنوعات سوائے چند منتخب آئٹمز کے بڑے پیمانے پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں لیکن ٹرانزیکشنز کا وقوع تقریباً رک چکا ہے جس سے ٹیکس مشنری کی جانب سے مطلوبہ ٹیکس اکٹھا کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ 

اس طرح کے مراعاتی پیکج کے بغیر اقتصادی سرگرمیاں حتیٰ کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بھی مشکل ہی سے شروع ہوں گی۔ وزارت خزانہ کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایک بڑے تاجر نے حکومت کو اگلے چھ ماہ کیلئے ٹیکس اکٹھا نہ کرنے تک کی تجویز دی ہے۔ 

عہدیدار کا کہنا تھا کہ بڑے تاجروں کی خواہشات کی فہرست ختم ہونے والی نہیں جیسا کہ وہ اپنی سبسڈیز اور مراعات میں اضافے کے مقصد سے حکومت کے سامنے ہمیشہ ہی مقابلے میں مصروف رہتے ہیں۔

تاہم ایک ایف بی آر عہدیدار نے حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت کیسے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کو جرنل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر مطمئن کرے گی کیونکہ وہ اس وقت ان دو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان شدہ مراعاتی پیکج پر بات چیت کر رہے ہیں لیکن بطور پالیسی دونوں ادارے اور عالمی بینک نے عمومی طور پر اس طرح کی اسکیموں کی مخالفت کی۔

تازہ ترین