• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کرونا وائرس نے جہاں ہزاروں انسانوں کو اپنا شکار بنایا ہے وہاں کچھ ایسی اہم اور معروف شخصیات بھی ہیں جو اس کے دام سے بچ نکلی ہیں۔ مثلاً برطانوی ملکہ کے فرزند اور ولی عہد ہیں جن کی عمر 71 سال ہے انہیں کرونا کے ٹیسٹ میں متاثر پایا گیا تب انہوں نے شاہی محل سے دور ایک شاہی باغ میں تنہا رہائش اختیار کرلی اس احتیاط کی وجہ سے انہیں طبی ماہرین نے صحت مند قرار دے دیا

کرونا وائرس نے اس کرہ ارض پر چند ماہ میں جو قیامت ڈھائی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ اس وبائی بیماری نے زندگی کے تمام شعبوں کو شدید طور پر متاثر کیا خاص طور پر عالمی معیشت کو زبردست دھچکا پہنچا ہے اور مزید بعداز وقت سامنے آئے گا جس کے لئے پوری دنیا شدید پریشانی کا شکار ہے کہ مستقبل قریب میں کیا ہوگا؟ یہ سوال بہت نازک ہے جس پر دنیا کا مستقل ٹکا ہوا ہے۔

کرونا وائرس نے جہاں ہزاروں انسانوں کو اپنا شکار بنایا ہے وہاں کچھ ایسی اہم اور معروف شخصیات بھی ہیں جو اس کے دام سے بچ نکلی ہیں۔ مثلاً برطانوی ملکہ کے فرزند اور ولی عہد ہیں جن کی عمر 71 سال ہے انہیں کرونا کے ٹیسٹ میں متاثر پایا گیا تب انہوں نے شاہی محل سے دور ایک شاہی باغ میں تنہا رہائش اختیار کرلی اس احتیاط کی وجہ سے انہیں طبی ماہرین نے صحت مند قرار دے دیا۔

عباس کیارے نائجیریا کے صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف ہیں ان کی عمر ستر سال کے قریب ہے انہیں وائرس ٹیسٹ کے بعد متاثر قرار دیا گیا اس لئے وہ قرنطینہ میں ہیں۔ ڈاکٹروں کو امید ہے وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔

سانڈ پال امریکی سینٹ کے معروف رکن سیاستداں ہیں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ انہیں بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ دو ہفتوں کے بعد ان کا بھی طبی معائنہ ہوگا۔ 

وہ، جو ہارے اور جیتے
پرنس البرٹ دوئم

موناکو کے شہزادہ البرٹ دوئم کے طبی معائنہ میں کرونا کے جراثیم پائے گئے ہیں ڈاکٹروں نے انہیں بھی قرنطینہ میں رکھا ہے ان کا علاج جاری ہے۔

مائیکل برنیئر یورپی یونین کے اہم ترین سفارت کار ہیں، جنہوں نے بریکسٹ کے معاملے میں طویل مذاکرات کئے اور اب وہ کرونا وائرس کا شکار ہیں۔ قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں، امید ہے پوری احتیاط اور دوا سے وہ کرونا سے نکل آئیں گے۔

برازیل کے معروف سیاستداں اور وزیر برائے بجلی اور قدرتی وسائل گزشتہ دنوں کرونا کا شکار ہوئے انہیں فوری قرنطینہ میں رکھا گیا اور ان کا علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین کو امید ہے کہ وہ وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوجائیں گے۔ جرمنی کے معروف سیاستدان اور کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما بھی کرونا کے دائرے میں آگئے۔ 64 سالہ فریڈرک میرز نے اپنے آپ کو گھر میں رہ کر تنہائی اختیار کرلی امید ہے وہ صحت یاب ہوجائیں گے۔

آسڑیلیا کے وزیر داخلہ کاگزشتہ دنوں وائرس ٹیسٹ میں نتیجہ مثبت آیا انہیں فوری قرنطینہ رکھا گیا ہے اور علاج جاری ہے۔

موسمو ڈوریز ایرانی نائب صدر دیگر بیشتر ایرانی سفارت کاروں اور اعلیٰ افسران کی طرح کرونا کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ ان کا علاج جاری ہے مگر حالت تشویشناک ہے۔ ایران مشرق وسطی میں سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

وہ، جو ہارے اور جیتے
صوفیہ جارجیا اور جسٹسن ٹروڈو

صوفیہ جارجیا ٹریڈو کینیڈا کے وزیراعظم کی اہلیہ 12مارچ کو کرونا کا شکار ہوئیں مگر بروقت احتیاطی تدابیر اور قرنطینہ کے سبب اب وہ صحت یاب ہوچکی ہیں۔ اس دوران کینیڈا کے وزیراعظم نے بھی اپنے آپ کو تنہائی ہی میں رکھا تھا۔

بیگونا گو میز اسپین کے وزیراعظم کی اہلیہ ہیں۔ اسپین وائرس کا شدید شکار ہے وزیراعظم کی اہلیہ وائرس سے متاثر ہوئیں تو وزیراعظم اوران کی اہلیہ کو قرنطینہ میں دو ہفتے گزارنے پڑے اب وہ صحت یاب ہیں، مگر ملک میں لاک ڈاؤن ہے۔

مائیکل واز پولینڈ کے وزیر ماحولیات ہیں جو اوائل مارچ میں کرونا سے متاثر ہوئے انہیں دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنے پڑے اب وہ صحت یاب ہوگئے ہیں۔

وہ، جو ہارے اور جیتے
بورس جانسن

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن بھی مارچ میں وائرس سے متاثر ہوگئے تھے۔ فوری طور پر انہوں نے نواحی لندن کی ایک عمارت میں تنہائی میں پندرہ دن گزار دیئے بعدازاں طبی ماہرین نےانہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا۔ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔

پاکولیزمین اسرائیل کے وزیر صحت ہیں وہ بھی وائرس سے متاثر ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ بھی وائرس کا شکار ہوئیں۔ دونوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور علاج جاری ہے ان کا آخری معائنہ رواں ہفتے میں ہوگا۔

وہ، جو ہارے اور جیتے
علی لرجانی

علی لرجانی ایرانی پارلیمان کے اسپیکر ہیں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کی وجہ سے انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور علاج جاری ہے۔

ایران میں مزید سیکڑوں افراد روزانہ وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔


وہ، جو ہارے اور جیتے
ٹام ہانکس اور ریٹا ولسن

معروف ہالی ووڈ اداکار ٹام ہاکنس اور ان کی اہلیہ ریٹاولسن کو وائرس سے متاثر قرار پایا گیا اور ان دونوں کو فوری طور پر آسڑیلیا کے گولڈ کوسٹ اسپتال میں داخل کیا گیا، تادم تحریر وہ دونوں قرنطینہ میں ہیں ۔طبی ماہرین کو امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔

فرانس کی معروف اداکارہ اولگا کورلین کو گزشتہ عشرے میں وائرس سے متاثر پایا گیا۔ وہ قرنطینہ میں ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔ ادریس ایلبا معروف برطانوی اداکار اور موسیقار ہیں جن کو 16مارچ کو وائرس سے متاثر پایا گیا۔ مگر انہیں یقین ہے کہ وہ وائرس سے متاثر نہیں ہیں مگر پھر بھی احتیاط کے طور پر خود کو سب سے الگ تھلگ کرلیا بعد ازاں دو ہفتے بعد پھر طبی معائنہ کرایا اورصحت یاب قرار پائے۔

مذکورہ شخصیات نے احتیاط اور بروقت قرنطینہ یا خود تنہائی اختیار کرکے کرونا وائرس جیسے موذی وبائی مرض کو شکست دی ہے۔

وہ جو کرونا سے ہار گئے

وہ، جو ہارے اور جیتے
سید محمد میر محمدی

سید محمد محمدی معروف ایرانی سیاستدان تھے۔کورونا نے انہیں ہرا دیا۔ حکومت ایران میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ قم میں 1948 میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ مذہبی تھا والد اور دیگر بزرگان مذہبی اسکالرز رہے۔ 

محمد محمدی نے بھی مکمل مذہبی تعلیم کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی پھر سیاسی میدان میں آگئے۔ وہ ایران کی چھٹی اور ساتویں پارلیمانی کے یے رکن منتخب ہوئے۔ مرکزی ایرانی اسلامک پارٹی کے اہم رہنما بھی تھے۔

وہ، جو ہارے اور جیتے
فاطمہ رہبر

فاطمہ رہبر ایرانی پارلیمان کی رکن تھیں وہ 1964 میں ایران کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے صحافت میں ایم اے کیا پھر پالیسی اور حکمت عملی کے عنوان پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ وہ قدامت پسند سیاستدان اور متحدہ اسلامی جماعت کی اہم رہنما تھیں۔ وہ تین بار مسلسل ایرانی پارلیمان کے لیے منتخب ہوتی رہیں ہیں۔ انہوں یونیسکو میں نائب صدر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے امام خمینی فاؤنڈیشن میں بھی اہم خدمات سرانجام دی۔لیکن اتنی کام یابیوں کے بعد کرونا سے ہار گئیں۔

محمد علوی تبر 1930 میں ایران میں پیدا ہوئے۔ وہ ایرانی پارلیمان میں سینئر رکن رہے۔ انقلاب ایران کی جدوجہد میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ پاسداران گروپ کے سرگرم کارکن بھی رہے، لیکن ساری سرگرمیاں کورونا نے چھین لیں۔

حسین شیخ ہاسم ایرانی قدامت پسند فعال رہنما تھے۔ اہم سفارت کار اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے اہم مشیر بھی رہے۔ اس کے علاوہ ساتویں ایرانی پارلیمان کے رکن بھی تھے۔ بعدازاں انہیں شام میں سفیر تعینات کیا گیا تھا۔

٭ناصر شعبان ایرانی فوج کے اہم جنرل اور سینئر کمانڈر انقلابی فورس بھی تھے۔ انہوں نے 2011 میں جنگی موضوعات پر بیشتر کتابیں تحریر کی ہیں۔

ایتاک سلیمان 1930 میں ترکی میں پیدا ہوئے۔ 2004-2002 میں انہوں نے ترکی مسلح افواج کے سربراہ کے عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے فائر ڈائرکشن آفیسر اور گن پوزیشن آفیسر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انہیں ترکی کی مسلح افواج میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا وہ حال ہی میں ایران کے دورے پر تھے جہاں کرونا کا شکار ہوگئے۔

حامد کرم ایران کی پارلیمان میں چار سال رکن رہے۔ وہ ڈائریکٹر جنرل اسکالر شپ آفس اور طلبہ کے تبادلے کے بھی سربراہ رے۔ یونیورسٹی سائنس اور ٹیکنالوجی میں انتظامی امور کی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ 2017 کے انتخابات کے دوران وہ صدر حسن روحانی کے الیکشن میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔

جیو مانی روبینو اٹلی کے معروف سیاستدان تھے۔ وہ 1931 میں اٹلی میں پیدا ہوئے۔ کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کے سرگرم رہنما بھی رہے۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ ٹریڈ یونین میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اپنے حلقوں میں وہ بہت مقبول اور متحرک رہنما تھے۔

مارینو کوراہیمن اٹلی کے سیاسی خانوادے کے گھر 1937 میں پیدا ہوئے سیاست گھر سے ملی اعلیٰ تعلیم کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان کا انتخاب کیا اور اطالوی پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنما بن کر ابھرے۔ انہیں سیاسی، سماجی خدمات کے صلے میں اطالوی آڈر آف میرٹ پھر دوسری بار بھی انہیں آڈر آف دی میرٹ دیا گیا۔ وینیزا سٹی کے میئر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔

پیری آرٹس ہالینڈ کے متمول گھرانہ میں 1930 میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیتھولک پیپلز پارٹی اور پھر کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی میں کام کرتے رہے جس کی وجہ سے وہ مسلسل بیس سال اطالوی پارلیمان کے ممبر منتخب ہوتے رہے۔ نو برس تک ہالینڈ کے شہر برکیل کے میئر بھی رہے۔ ان کی خدمات پر انہیں مختلف ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

روڈیف گونزولے جنوبی امریکہ کی ریاست بورو گوئے میں 1949 میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرکے وہ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ پھر ڈائریکٹر ایجوکیشن اور ثقافت مقرر ہوئے۔ وزارت دفاع میں اہم عہدے پر فائز رہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی میں اہم خدمات سرانجام دیں، پارلیمان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں سرگرم رہے اس موضوع پر تین کتابیں بھی تحریر کیں۔ کورونا نے انہیں چوتھی کتاب لکھنے کا موقعہ ہی نہیں دیا اور زندگی کی بازی ہار دی۔

عثمان ریاض پاکستان کے نوجوان اور سرگرم ماہر طبیب تھے۔ وہ 1993 میں پیدا ہوئے تھے۔ عثمان ریاض ایک جری محب وطن اور عوامی خدمت سے سرشار نوجوان ڈاکٹر تھے جنہوں نے گلگت بلتستان میں فرنٹ لائن پر مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج میں دن رات ایک کردیئے۔ اسی وائرس نے ان کی جان لے لی جس سے وہ لڑ رہے تھے۔ گلگت بلتستان کے گورنر نے ڈاکٹر ریاض کی قربانی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نام سول ایوارڈ دیا جائے۔ دنیا بھر کے ڈاکٹروں نے ڈاکٹر ریاض کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

اس کرونا وائرس میں کراچی کے ایک ڈاکٹر سومرو نے جان دے دی۔ ان کے علاوہ دنیا بھر کے معروف صحافی، اداکار، کھلاڑی، موسیقار، پروفیسر، گلوکار، مصنف، ڈاکٹر، نرسیں، شاعر، گیت کار، ٹی وی فنکار، بزنس مین، بینکار، فیشن ڈیزائنر، مزاح نگار، آرکیٹکٹرن اور انجینئرز غرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گزر گئے۔ آگے آے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ اللہ خیر کرے۔