ڈاکٹر فرحت ہاشمی
شام کے سائے بڑھنے لگے،مکانوں میں چراغ روشن ہو رہے تھے ۔ ایسے وقت میں مکہ کے لاابالی لوگ تفریحات،بے مقصد گپ شپ اور لہو و لعب میں مشغول تھے،مگر اس وقت بھی مکہ کا ایک گھر ایسا تھا،جہاں قریش کے ذمے دار لوگ باہمی مشاورت کے لیے جمع تھے۔ یہ مکہ کے ممتاز گھروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے گوداموں میں غلہ کے ذخیرے ہر وقت بھرے رہتے تھے۔غلام مختلف کاموں میں مصروف نظر آتے تھے۔ مکہ کے تاجر تجارتی امور پر صلاح و مشورہ کرنے آتے اور جب بھی کوئی اہم مسئلہ در پیش ہوتا تو سرداران قریش اس گھر کے دروازے پر دستک دیتے ۔ یہ گھر مکہّ کے معاشرتی ماحول میں ممتاز تھا اور تجارتی حلقوں میں بھی اسے ایک خاص مقام حاصل تھا۔اس شام بھی اس گھر میں قریش کے سردار جمع تھے۔ گھر کا مالک خویلد بن اسد ان کے استقبال اور خاطر مدارات میں مصروف تھا۔
اس کے لیے اتنے لوگوں کی خاطر مدارات کچھ مشکل نہ تھی، کیوںکہ وہ مکہ کا انتہائی مال دار انسان ہونے کے ساتھ مشاورت کے اہم ترین منصب کا حامل تھا ۔یہ منصب اسے اپنے خاندان سے موروثی طور پر ملا تھا جس کے لیے صاحب الرائے اور صاحب شعور ہونا ضروری تھا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے خویلد کوعقل و دانش کے ساتھ منصب اور دنیوی دولت سے نوازا تھا، وہاں اس کی بیوی فاطمہ کے بطن سے جس بچی نے جنم لیا،اس کی وجہ سے خویلد بن اسد اور فاطمہ بنت زائدہ کا نام رہتی دنیا تک تاریخ کے زندہ حروف میں شامل ہو گیا۔
عام الفیل کے واقعے سے پندرہ برس قبل یہ بچی پیدا ہوئی،جس کا نام خدیجہ رکھا گیا،جو کہ تاریخ میں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے نام سے یاد کی جاتی ہیں۔انہیں یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ﷺ کی سب سے پہلی رفیقۂ حیات بنیں۔پچیس سالہ انتہائی مسرور ازدواجی زندگی گزاری۔ان کی زندگی میں حضور اکرم ﷺنے دوسری شادی نہ کی۔ سوائے ابراہیم کے باقی چھ اولاد حضوراکرم ﷺ کی انہی سے ہوئیں۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری دم تک انہیںہمیشہ یاد رکھا اور جب بھی ان کی یاد آتی،آپ ﷺ غمگین ہو جاتے۔
حضرت خدیجہ ؓ شروع سے ہی نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں،اسی لیے ان کا لقب" طاہرہ " پڑ گیا ۔جب سن شعور کو پہنچیں تو ان کی شادی ابو ہالہ (ہند بن زرارہ) سے ہوئی۔ان سے دو بیٹے ہوئے اور ابو ہالہ کا انتقال ہو گیا۔حضرت خدیجہؓ کا دوسرا نکاح عتیق بن عائذ سے ہوا جس سے ایک بچی پیدا ہوئی۔ پھر دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا۔ اگر چہ ان کے پاس مال و دولت کی کمی تو نہ تھی،لیکن اب انہیں اپنے مال اور تجارت کی دیکھ بھال خود کرنی تھی، کیوںکہ ان کے والد کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔اگرچہ ان پر پے در پے صدمات آئے،لیکن انہوں نے نہایت ہمت اور عقل مندی سے کام لیااور اپنا کاروبار خود سنبھال لیا۔ شام سے یمن تک پھیلی ہوئی تجارت کو انہوں نے احسن طریقے سے جاری رکھا اوراس وسیع کاروبار کو چلانے کے لیے ان کے پاس ایک بڑا عملہ تھا جو متعدد عرب،یہودی اور عیسائی ملازموں پر مشتمل تھا۔ حسن تدبیر اور دیانت داری کی بدولت ان کی تجارت روز بروز ترقی کر رہی تھی۔
اب ان کی نظر یں ایسے شخص کی متلاشی تھیں جو بے حد قابل اور دیانت دار ہو، تاکہ وہ اپنے ملازمین کو اس کی سرکردگی میں تجارتی قافلوں کے ہمراہ اپنا مالِ تجارت دے کربھیجا کریں ۔ ایک مرتبہ جب قریش کے تجارتی قافلے کی روانگی کا وقت آیا تو ابوطالب نے حضور اکرمﷺ سے کہا:" تمہیں خدیجہ سے جا کر ملنا چاہیے،کیوںکہ ان کا مال شام جائے گا۔بہتر ہوتا کہ تم بھی ساتھ جاتے میر ے پاس روپیہ نہیں،ورنہ میں خود تمہارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا"۔ رسول اکرمﷺ کی شہرت"امین "کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ ﷺ کے حسن معاملات، راست بازی،صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاق کا چرچہ عام تھا ۔ حضرت خدیجہ ؓ نہایت عقل مند اور جوہر شناس خاتون تھیں،انہیں اس گفتگو کی بھی خبر ملی جو چچا اور بھتیجے کے درمیان ہوئی۔انہوں نے حضوراکرم ﷺکو پیغام دیا کہ آپؐ میرا مالِ تجارت شام لے کر جائیں جو معاوضہ میں اوروں کو دیتی ہوں، آپﷺ کو اس کا دگنا دوں گی ۔انہیں معلوم تھا کہ اتنے دیانت دار اور بہترین انسان سے دگنے پہ معاملہ کرنے کے باوجود انہیں سراسر فائدہ ہے۔اس بہترین پیش کش سے آپؐ نے فائدہ اٹھایا اور حضرت خدیجہ ؓ کے غلام میسرہ کے ساتھ مال تجارت لے کر بصریٰ تشریف لے گئے۔
حضرت خدیجہؓ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا، جس کی وجہ سے بہت سے معزز لوگ ان سے نکاح کرنے کے خواہاں تھے،مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بہترین فیصلہ کر لیا تھا۔ آپ ؐ تجارت سے واپس لوٹے تو آپؐ کی دیانت اور حسن معاملہ سے تجارت میں بہت نفع ہوا۔ اس کے علاوہ دورانِ سفر آپؐ کا بہترین اخلاق،راست گوئی اور آپؐکی غیر معمولی خوبیوں کا حال جو میسرہ نے دیکھا تھا،اس کا علم بھی حضرت خدیجہؓ کو ہوا تو انہوں نے عرب کے دستور کے مطابق اپنی سہیلی نفیسہ کی معرفت اپنا رشتہ بھجوایا،آپ ؐ نے اپنے چچا کے مشورے سے اسے قبول فرمایا ۔حضرت خدیجہؓ کے چچا ان کے ولی بنے اور حضور ﷺ کے چچا ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔
مہر 500طلائی درہم مقرر ہوئے اور حضرت خدیجہؓ کو ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ شادی انہوں نے اپنی رضا سے کی اور مال و دولت کی بجائے ایک بہترین انسان کو جیون ساتھی بنانے کومعیار رکھا۔ اس سے ان کی ذہانت اور اخلاقی خوبیوں کا علم ہوتا ہے کہ انہوں نے مادیت کی بجائے انسانی تقویٰ اور شرافت کو ترجیح دی، حالاںکہ انہوں نے آنکھ ہی دولت و ثروت میں کھولی اور مورخین کے مطابق تنہا حضرت خدیجہؓ کا تجارتی مال تمام قریش کے تجارتی مال کے برابر ہوتا تھا۔
شادی کے بعد انہوں نے اپنی توجہ اور محبت کا مرکز اپنے شوہر کو رکھا ۔ تجارت،کاروبار اور مال کی حیثیت ان کی نگاہ میں ثانوی رہی۔ تمام مال و دولت انہوں نے حضورﷺکے قدموں میں ڈھیر کر دیا اور تمام عمر ان کی کوشش محض یہی رہی کہ ان کا شوہر ان سے راضی رہے ۔ کیوںکہ گھر کا سکون دولت سے نہیں،بلکہ بہترین انسانی تعلقات سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کے چھوٹے چھوٹے کام بھی اپنے ہاتھ سے کرتیں،حالاںکہ ان کے ہاں لونڈیاں و غلام موجود تھے ۔آپ ؐ کی خدمت میں اپنے غلام"زید بن حارثہؓ " کو پیش کر دیا، تاکہ آپ ﷺکو ہر طرح کا آرام و سکون ملے۔ حضرت خدیجہؓ نے انہیں آزاد کر دیا،لیکن وہ اپنی خوشی سے آپؐ کی خدمت میں رہنے لگے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی ذہین نگاہیں ہمہ وقت آپ ؐ کی پسندونا پسند کو دیکھتیں اور آپؐ کو راضی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے گھر میں باہمی محبت اور سکون ہی نظر آتا تھا۔ آپؐ سے چھ بچے بھی پیدا ہوئے ۔ بڑے بیٹے قاسم ؓ پائوں پائوں چلنے لگے کہ انتقال ہو گیا۔ پھر بڑی صاحب زادی زینب ؓ پیدا ہوئیں۔ زمانۂ نبوت میںعبداللہ پیدا ہوئے اور "طیب" اور "طاہر"کے لقب سے مشہور ہوئے،لیکن صغر سنی میں ہی انتقال کر گئے، پھر حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ ،حضرت فاطمہ ؓ پیدا ہوئیں۔حضرت خدیجہؓ دونوں بیٹوں کے انتقال کے باوجود صبر و ضبط کی تصویر بنی رہیں ۔
نبوت سے چند سال قبل آپؐ کو سچے خواب دیکھائی دینے لگے۔ آپؐ غار حرا میں کئی کئی دن کا کھانا ساتھ لے جا کر وہاں قیام فرماتے اور غور و فکر کرتے،ایسے وقت میں حضرت خدیجہ ؓ بہترین معاون و مدد گار بنی رہیں۔آپؐ کے راستے میں حائل ہونے کی بجائے جب بھی آپؐ کا سامان خورونوشت ختم ہوتا، آپؐ کو مزید کھانا پینا فراہم کرتیں،تاکہ آپؐ بغیر تکلیف کے اپنا کام جاری رکھیں۔ایسے میں تمام کاروباری ذمے داری بھی احسن طریقے سے سنبھالنے لگیں اور گھر میں تمام بچوں کی پرورش و بہترین تربیت بھی کرتیں۔ ان کا کردار ایک بہترین معتدل خاتون کا کردار نظر آتا ہے جو بیک وقت اپنے کام اور فرائض کو بہ خوبی نبھاتی ہیں۔
اگرچہ صاحبِ ثروت ہونے کی وجہ سے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا ہوا تھا، لیکن مجموعی طور پر بچوں کے امور کی دیکھ بھال خود کرتیں، گھر میں جو چار بیٹیاں تھیں، ان کے ساتھ ان کے پہلے دو شوہروں کے بچے بھی تھے۔حضرت علی ؓ بھی انہی کے گھر پرورش پارہے تھے، کیوںکہ حضورﷺنے چچا کی معاشی تنگ دستی کی وجہ سے حضرت علی ؓ کو گود لے لیا تھا۔ ان کے علاوہ حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی تھے،جنہیں حضور ﷺ نے اپنا منہ بولہ بیٹا قرار دیا تھا۔ حضرت خدیجہؓ جو نہایت فراغ دل خاتون تھیں،ان سب بچوں کو یکساں محبت و شفقت سے پالتی رہیں۔یہ تمام بچے اسلامی تاریخ کے عظیم کردار بنے۔
آپؐ کو غار حرا میں چالیس برس کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور آپؐ کو جبرائیل ؑ نے آکر فرمایا :اقرأ پڑھیے،آپؐ نے فرمایا :میں پڑھا لکھا نہیں تو جبرائیلؑ نے دوبارہ کہا، پڑھیے۔پھر آپؐ نے فرمایا:میں پڑھا لکھا نہیں۔اس نے دوبارہ کہا: پڑھ،پھر آپ ؐ نے فرمایا:میں پڑھا لکھا نہیں۔اس نے پھربھینچا اور کہا’’اقرأ ‘‘آپؐ کا دل رب کی عظمت و جلال سے معمور ہو گیا۔ آپ ؐ گھر لوٹے اور حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھائو۔کپڑا اوڑھنے کے بعد ہیبت کم ہوئی تو اپنی مونس اور غم گسار بیوی کو پورا واقعہ سنایا اور فرمایا: "مجھے ڈر ہے"حضرت خدیجہؓ نے جس محبت سے آپؐ کو تسلی دی، تاریخ نے اسے ریکارڈ کر لیا ۔ فرمایا: ہر گز نہیں! قسم ہے اللہ کی وہ آپ ؐ کو کبھی بھی رسوا نہ کرے گا، یقیناً آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں،بے کسوں اور فقیروں کے معاون ہیں،آپ ؐ مہمان نوازی کرتے ہیں،اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں"۔ تسلی دینے کے ساتھ انہوں نے یہ بھی جان لیا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے،اسی لیے آپؐ کو ہمراہ لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں جو عیسائی عالم تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھتے تھے۔انہوں نے آپؐ سے سارا واقعہ سن کر کہا :"یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا کاش میںاس وقت تک زندہ رہتا جب آپؐ کی قوم آپؐ کو شہر بدر کرے گی۔
حضرت خدیجہ ؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ سب سے پہلے انہیں آپؐ کے نبی بننے کا علم ہوا۔آپؐ کی نبوت کی سب سے پہلے حضرت خدیجہ ؓنے تصدیق کی، اس طرح دنیا کی پہلی مسلمان حضرت خدیجہؓ تھیں اور یہ شرف ایک خاتون کو حاصل ہوا ۔حضرت خدیجہ ؓ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی، بلکہ آغاز اسلام سے ہی آپ ؐ کی سب سے بڑی معاون و مدد گار ثابت ہوئیں۔ کفار مکہ کی طرف سے آپ ؐ کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں تو حضرت خدیجہؓہر دم آپؐ کی دل جوئی کرتیں ۔رسول اللہﷺ کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو صدمہ پہنچتا، وہ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر دورہو جاتا، کیوںکہ وہ آپ ؐ کی باتوں کی تصدیق کرتیں اور مشرکین کے معاملے کو آپؐ کے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں۔گویا ایک شفیق و مونس بیوی کا رول ادا کرتیں اور آپؐ کے دکھ سکھ کی سچی ساتھی تھیں۔اسلام کے لیے حضرت خدیجہ ؓ نے اپنی ساری دولت آپؐ کے مشن کی کامیابی کے لیے وقف کر دی ۔ جان اور مال ہمیشہ انہوں نے آپ ؐ کی خوشی کے لیے پیش کیے ۔باوجود دولت و ثروت کے آپ ؐ کی خدمت خود کرتیں۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل ؑ نے آپﷺ کو کہاکہ حضرت خدیجہ ؓ برتن میںآپؐ کے کھانے یا پینے کے لیے کچھ لا رہی ہیں، آپ ؐ ان کو اللہ کا اور میرا سلام پہنچا دیں۔ گویا حضرت خدیجہ ؓ کو تمام قربانیوں اور آپؐ سے محبت و معاونت کا صلہ دنیا میں بھی مل گیا۔ ابن ہشام میں ہے :وہ اسلام کے متعلق آپؐ کی سچی مشیر کار تھیں۔
اسلام کے ابتدئی زمانے میں طرح طرح کے مصائب کا سامنا انہیں بھی کرنا پڑا، لیکن ان کے ایمان اور استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔ جوں جوں مخالفت و مظالم بڑھے ان کے ایمان و ایثار کا جذبہ مزید بڑھتا گیا ۔اسی زمانے ایک بارآ پؐ کے گھر واپس آنے میں دیر ہو گئی تو ڈھونڈنے نکل پڑیں۔حضرت خدیجہ ؓ نے حضور ﷺ کی غم گساری اور دل جوئی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ 7 نبوی میں قریش نے خاندان بنو ہاشم کے ساتھ ہر طرح کے لین دین و شادی بیاہ سے بائیکاٹ کردیا ۔ تمام خاندان بنو ہاشم شعب ابی طالب میں پناہ گزین ہوئے تو نازو نعم سے پلی ہوئیں یہ عظیم امّ المومنین اس مشکل وقت میں بھی پیچھے نہ ہٹیں اور تین سال اس گھاٹی میں آپ ؐ کے ساتھ محصور رہیں۔ یہ زمانہ اتنا سخت تھا کہ پتے کھا کھا کر گزارا ہوتا۔ تاہم اس زمانے میں بھی حضرت خدیجہ ؓ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا، لیکن یہ مشکلات بھی انہوں نے اسی ہمت اور صبر سے برداشت کیں، جس طرح انہوں نے زندگی کے باقی مصائب کو برداشت کیا۔
اسلام کی خاطر بیٹی کی جدائی بھی برداشت کی،جب حضرت رقیہ ؓ اور حضرت عثمانؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کا نواسہ بھی وہیں پیدا ہوا،لیکن حضرت خدیجہ ؓ کے عزم و استقلال کو کوئی چیز متزلزل نہ کر سکی۔وہ بہترین تاجر تھیں۔انہوں نے اللہ سے جس جنت کا سودا کیا تھا اس کی کامیابی کی بشارتیں انہیں دنیا میں ہی مل گئیں۔صحیح مسلم کی روایت کا آخری حصّہ ہے: انہیں جنت کے گھر کی خوش خبری دے دیں جس میں نہ کسی قسم کی گونج ہو گی،نہ تکلیف۔"
رمضان المبارک10 نبوی میں (ہجرت سے تین سال قبل) انتقال ہوا۔آپ ﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال )قرار دیا ۔ حضرت خدیجہ ؓ کے دنیا کے چلے جانے سے قریش کو اب کسی کا پا س نہ رہا تھا، کیوںکہ چچا ابوطالب کا بھی اسی سا ل انتقال ہو گیا تھا ۔ یہی دونوں قریش کی سختیوں کے آگے ڈھال بنتے اور آپؐ کو وہ زیادہ نہ ستا سکتے تھے،لیکن اب وہ نہایت بے رحمی سے آپؐ کو ستاتے۔آپؐ حضرت خدیجہؓ کے انتقال پہ بہت غمگین تھے۔حضرت فاطمہ ؓ اپنی والدہ کے لیے روتیں اور کہتیں: میری ماں کہاں ہے ؟میری ماں کہاں ہے ؟ ایسے میں آپؐ انہیں تسلی دیتے ۔
ان کی قبر میں آپؐ خود اترے اور مکہ کے قبرستان حجون میں دفن کیا۔اس وقت ان کی عمر 65 برس تھی،مگر آپؐ انہیں یاد کر کے ملول ہوتے۔ حضرت خدیجہؓ تمام مسلمان خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں کہ ایک بہترین بیوی اور ماں کی خصوصیت یہی ہے کہ دنیوی امور اور کاموں میں مشغول ہونے کے باوجود اپنے شوہر اور بچوں کو بھر پور محبت و توجہ دے ۔ان کی روحانی اور جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرے اور نیک شوہر کی معاون، مددگار،غم گسار اور جاںنثار بیوی بنے۔جیسے حضرت خدیجہؓ تھیں۔