آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا اٹلی میں کورونا کا دوسرا بدترین حملہ ہوسکتا ہے؟

تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ اٹلی جہاں اب لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، وہاں ممکنہ طور پر کورونا وائرس کا ایک اور مہلک اور خطرناک حملہ ہوسکتا ہے۔

 امپریل کالج لندن کے محقیقین نے ایک انتہائی گہری اور سنجیدگی پر مبنی  جائزہ رپورٹ تیارکی ہے۔ جس میں میتھمیٹیکل موڈیول کے ذریعے تحقیق کی گئی اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح وائرس دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں تین امکانی مراحل ہوسکتے ہیں۔

 ان مراحل کے مطابق اگر اطالوی شہری گھروں میں محدود رہتے ہیں یا پھر اپنی نقل و حرکت 20 اور 40 فیصد تک بڑھاتے ہیں۔

جائزہ رپورٹ کے مراحل کے مطابق اگر اٹلی کے لوگ اپنی روزمرہ زندگی کو 20 فیصد تک حرکت میں لاتے ہیں یعنی لاک ڈاؤن میں 20 فیصد تک نرمی کرتے ہیں تو اسکے نتیجے میں جو اموات ہونگی وہ پہلی لہر سے زیادہ ہونگی۔

یاد رہے کہ پہلی لہر میں 30 ہزار کے لگ بھگ اطالوی ہلاک ہوئے (یہ تعداد مارچ کے اوائل سے لیکر اب تک کی ہے)۔

 رپورٹ کے مطابق  اگر اٹلی کی حکومت نے لاک ڈاؤن سے پہلے کی سرگرمیوں کا 40 فیصد تک نرمی کا فیصلہ کیا تو پھر اضافی 23 ہزار اموات کا امکان ہے۔

 تحقیق کاروں نے یہاں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ انکی پیش بینی یا اندازے بدترین یا تاریک صورتحال کے حوالے سے لگائے گئے ہیں، یعنی  یہ خوش فہمی کے بجائے قنوطیت پر مبنی ہیں۔ اور اس میں انہوں نے احتیاطی اقدامات کو شامل نہیں کیا ہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ تحقیق میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹانے کے لیے کنٹیکٹ ٹریسنگ ایپس، سماجی دوری اور لازمی ماسک پہننے جیسی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس ہفتے اٹلی دو ماہ بعد اپنے لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوا ہے اور لاکھوں شہریوں کو فیکٹریوں میں اپنے کاموں پر جانے یا میل ملاپ والے مقامات پر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

جبکہ پبلک پارکس کھول دیئے گئے ہیں تاکہ لوگ ورزش کرسکیں اور خاندان آپس میں دوبارہ مل سکیں۔

 واضح رہے کہ مارچ کے اوائل میں اٹلی میں وائرس کا بدترین حملہ ہوا اور اس نے وائرس کے نقطہ آغاز چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا، شمالی اٹلی  میں لومبارڈی کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، اور پورے ملک میں 30 ہزار لوگ مارے گئے۔

 جس کے بعد حکومت نے پارکس، ریسٹورنٹ، شاپنگ سینٹرز، تعلیمی ادارے اور ہر قسم کا کاروبار بندکرکے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کردیا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید