آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’ایک برس دہلی میں ہیضے کی بڑی سخت وبا آئی۔ نصوح نے ہیضہ کیا اور سمجھا کہ مرا چاہتا ہے۔ یاس کے عالَم میں اُس کو مواخذۂ عاقبت کا تصوّر بندھا۔ ڈاکٹر نے اُس کو خواب آور دوا دی تھی۔ سو گیا، تو وہی تصوّر اُس کو خواب موحش بن کر نظر آیا۔ ہیضے کا اِتنا زور ہوا کہ ایک حکیم بقا کے کوچے سے ہر روز تیس تیس، چالیس چالیس آدمی چھیجنے لگے۔ ایک بازار موت کا تو البتہ گرم تھا، ورنہ جدھر جائو، سنّاٹا اور ویرانی۔ جس طرف نگاہ کرو، وحشت و پریشانی۔ جن بازاروں میں آدھی آدھی رات تک کھوّے سے کھوّا چِھلتا تھا، ایسے اُجڑے پڑے تھے کہ دن دوپہر جاتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا تھا۔ کٹوروں کی جھنکار موقوف۔ سودے والوں کی پکار بند، ملنا جلنا، اختلاط و ملاقات، آمد و شد، بیمار پُرسی و عبادت، باز دید زیارت، مہمان داری و ضیافت کی کُل رسمیں لوگوں نے اُٹھا دیں۔ ہر شخص اپنی حالت میں مبتلا، مصیبت میں گرفتار، زندگی سے مایوس۔ کہنے کو زندہ پر مُردہ سے بدتر۔ 

نہ دِل میں ہمّت، نہ ہاتھ پائوں میں سکت۔ یا تو گھر میں اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر پڑ رہا یا کسی بیمار کی تیمارداری کی یا کسی عزیز آشنا کا مرنا یاد کرکے رو پیٹ لیا۔‘‘ ڈپٹی نذیر احمد کے شہرۂ آفاق ناول’’توبتہ النّصوح‘‘میں دہلی کا الم ناک نوحہ پڑھا، تو کورونا کی ستائی دنیا آنکھوں میں گھوم گئی۔ پانچ ماہ بیت گئے، مشرق سے مغرب تک پوری دنیا ایک ایسی آفت کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے، جس کے بارے میں یہ علم بھی نہیں کہ آخر اس سے جان کب چُھٹے گی؟ یہ وائرس 55 لاکھ افراد کو براہِ راست شکار کر چُکا ہے، ڈھائی لاکھ افراد جان گنوا چُکے اور نہ جانے کتنے ہی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جن تک یہ وائرس نہیں پہنچ سکا، اُنہیں بھی ایسے معاشی، سماجی اور نفسیاتی زخم دیے ہیں کہ بھرنے کے لیے اِک مدّت چاہیے۔ دنیا پر خوف کی گہری چادر تَنی ہوئی ہے۔ لوگ ہفتوں، مہینوں بعد گھروں سے نکل رہے ہیں کہ کاروبارِ حیات بھی چلانا ہے، مگر دل ہزار اندیشوں، وسوسوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اِک بے بسی، لاچارگی ہے، اُمید کی شمعیں بھی بہت ہیں، لیکن آخر کو انسان، انسان ہے، آنکھ دیکھے خطرے کو کیسے جُھٹلا دے۔ تو صاحبو! اِس بار ان کرب ناک مناظر کے درمیان افق پر عید کا چاند چمکے گا، تو وہ بھی خوش آمدید کے روایتی اور مسحور کُن بول سُننے کو ترسے ہی گا۔

عید کا تصوّر ہمیشہ ہی سے سحر انگیز اور خوش کُن رہا ہے۔ یہ لفظ سماعتوں میں کچھ ایسی مٹھاس گھول دیتا ہے کہ جسم کا انگ انگ خوشیوں سے چہکنے لگتا ہے۔ بچپن میں’’آہا … کل عید ہے‘‘ جیسے تصوّر ہی سے ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔مگر آج عید بہت بوجھل قدموں سے دروازے پر آئی ہے اور کچھ ایسے رُوکھے پن سے دستک دے رہی ہے، جیسے اِس کا بھی دل یہی چاہتا ہو کہ دروازہ نہ ہی کُھلے تو اچھا ہے۔ ایسی سُونی سُونی، روٹھی روٹھی عید کبھی دیکھی، نہ سُنی۔ گویا اب کے عید منانی نہیں، گزارنی ہے۔ شاید حالیؔ نے اِسی سے متعلق کہا تھا ؎’’رہ گیا دے کر چاند دِکھائی … چاند ہوا، پر عید نہ آئی۔‘‘ اور میر تقی میر نے کہا تھا ؎’’محرّم ہمارا کبھو عید ہو‘‘ لیکن میر صاحب! اِس بار تو ہماری عید ہی محرّم ہو گئی۔

عید تو عید ہے، ہر ہی جگہ ہنستے کھیلتے منائی جاتی ہے، مگر عید کی مشرقی روایات کی تو اِک الگ ہی شان ہے۔ عید کسے کہتے ہیں؟ اِس کا پتا ہمارے ہاں ہی چلتا ہے۔ اِس روز جمعے کے جمعے نہانے والا بھی جسم سے میل کچیل اُتار کر خود کو خوش بوئوں میں بساتا ہے۔ لڑکیاں تو چاند رات ہی کو عید کر لیتی ہیں، مہندی کے نت نئے ڈیزائنز پر بحث مباحثے، چوڑیوں کی کھنکھناہٹیں، سرگوشیوں میں کی گئی باتوں پر قہقہے، عید جوڑے کا آخری ٹچ، بنائو سنگھار کے سو سو جتن اور پھر خوشیوں بَھری رات اِسی طرح گزار کر صبح نہار منہ کچن کا رُخ کر لیتی ہیں۔ طرح طرح کی میٹھی ڈشز بن رہی ہیں اور پلیٹیں ایک سے دوسرے گھر آجا رہی ہیں۔ 

گھر کے مَردوں کی نمازِ عید کی تیاری اور پھر سب کا مل کر عیدگاہ کے لیے نکلنا بھی کس قدر دِل فریب منظر ہوتا ہے۔ خواتین نمازِ عید کی تیاری میں مَردوں کی مدد کرتی ہیں۔ رنگ برنگے ہینگر کیے گئے کپڑوں کے جوڑے لائے جارہے ہیں، تو کہیں اُن کے سامنے نئے چمکتے جوتے رکھے جارہے ہیں۔ مائیں اپنے ہاتھوں سے چھوٹے بچّوں کی تیل، کنگھی کر رہی ہیں، اُنہیں بنا سنوار رہی ہیں۔ بہنیں بھی آگے پیچھے پِھر رہی ہیں۔’’ یہ لا، وہ رکھ‘‘، سب اِسی میں مگن ہیں۔ اب سب تیار ہیں، دُلہے لگ رہے ہیں دُلہے۔ جب سب نمازِ عید کے لیے جانے لگتے ہیں، تو مائیں اپنے بچّوں کو جس محبّت سے دیکھتی ہیں، شاید وہ دنیا کا سب سے خُوب صُورت منظر ہوتا ہے، مگر صاحبو! اب کے تو یہ سب خواب ہے، خواب! کچھ تو حکومتی پابندیاں ہیں، پھر احتیاط بھی لازم ٹھہری، سو، نمازِ عید کے اجتماعات میں اب وہ رونقیں کہاں۔ 

ایسے میں اس سے جُڑی تمام روایات کہیں دُور، بہت دُور افسردہ کھڑی نظر آئیں گی۔ ایک زمانے میں عوامی اجتماعات کے مقام پر خودکش بم باروں کے خوف سے دِل اُچھلتا تھا اور اب’’کورونا بم بار‘‘ کا خوف بِھیڑ میں جانے سے روکتا ہے۔ خودکش بم بار سے بچنے کے تو کئی طریقے تھے، کئی علامات سے اُسے شناخت کیا جاسکتا تھا، پھر جان بچانے کے لیے یہ مشورہ بھی دیا جاتا کہ اگر نماز کے دَوران امام کے علاوہ کسی اور طرف سے’’ اللہ اکبر‘‘ کی صدا بلند ہو، تو فوراً سجدے میں گر جائیں، مگر’’کورونا بم بار‘‘ کی شناخت ممکن نہیں۔ کیا خبر، کون اپنے وجود میں اس وائرس کو اُٹھائے اُٹھائے پِھر رہا ہے۔ اِسی لیے دُور دُور رہنا ہی زندگی کے قریب قریب رہنا ہے۔ پھر یہ کہ عید کے موقعے پر ایک دوسرے سے گلے ملنا ہماری روایت، بلکہ عید کی شناخت ہے۔ بہت سے لوگ سال بھر میں صرف عید ہی کے روز کسی سے گلے ملتے ہیں، جب کہ کئی ایک کسی سے گلے ملنے کے لیے ہی عید کا انتظار کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو خبر ہو کہ اِس بار یہ موقع بھی میسّر نہیں۔

ہلالِ عید اور عید پر گلے ملنا، اُردو ادب میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے موضوعات میں شامل ہیں۔ شعراء کا تو یہ خاص موضوع ہے، وہ ایک دوسرے سے کم ہی گلے ملتے ہیں، مگر کسی حقیقی یا فرضی کردار کے گلے لگنے کے لیے تڑپتے پِھرتے ہیں۔ ایک شاعر نے تو غصّے میں یہاں تک کہہ دیا ؎’’محبّتوں میں دِکھاوے کی دوستی نہ مِلا… اگر گلے نہیں ملتا، تو ہاتھ بھی نہ مِلا۔‘‘ اِس بار یہ دونوں کام ہو رہے ہیں، کوئی گلے ملے گا اور نہ ہاتھ ملائے گا۔ اور اس کا سبب کسی کی ’’بے وفائی‘‘ نہیں، بلکہ’’کورونا بھائی‘‘ ہے۔ بشیر بدر کا شعر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ پیش ہے ؎’’اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا … جس کو گلے لگایا’’اُسے کورونا‘‘ہو گیا۔‘‘ ویسے تو عید پر سب سے معافیاں تلافیاں کرتے پِھرتے ہیں، مگر ایک اللہ کی بندی، جو اپنے نکاح میں ہوتی ہے، اُس سے نہ جانے کیوں کِھچے کِھچے رہتے ہیں۔ 

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ہمارے ہاں بہت سے شعراء عید کے موقعے پر بھی انتہائی دُکھ بَھرے اشعار کہتے ہیں۔ گویا یومِ عید نہ ہوا، خود ساختہ بے وفائوں پر لعن طن کا کوئی دن ہوگیا۔ سال بھر جن کی تعریف میں اشعار گھڑ گھڑ کر لوگوں کے کان پکاتے رہتے ہیں، عید کا چاند نظر آتے ہی اُن کے پیچھے شعر لے کر پڑجاتے ہیں۔ چاند دیکھتے ہی’’ احساس پروگرام‘‘ میں 12 ہزار روپے نہ ملنے والوں کی سی صُورت بنا لیتے ہیں۔ پھر عید پر گھر میں پڑے سب سے پرانے کپڑے، وہ بھی بغیر استری کے پہن لیتے ہیں، تاکہ مظلومیت جوبن پر نظر آئے۔ البتہ اِس بار کورونا نے شعراء کو گولڈن چانس دیا ہے کی وہ اِس سے پیدا شدہ صُورتِ حال کو بنیاد بنا کر دِل کی خُوب بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ ہمارے محلّے کے شاعر، فانی صاحب کے پان کے کھوکھے کے پاس سے گزرو، تو ہمیشہ ’’قمیص تیری کالی…‘‘ جیسے ’’روندو‘‘ گانے بج رہے ہوتے ہیں۔ اِس بار ہم نے کہا’’ صاحب! موقع بڑا اچھا ہے، اُس بے وفا کو’’ کورونا‘‘ کا نام دے ڈالو، کوئی اُس کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔‘‘ تھوڑی دیر کچھ سوچا اور پھر گھورتے ہوئے بولے’’ابے! مشورہ تو ٹھیک ہے، مگر اس ’’ کورونا‘‘ نے مجھے ہی کاٹ لیا تو…؟ بے وفا اور بدلحاظ تو وہ پہلے ہی ہے۔‘‘

بہت سے افراد کو شک ہے کہ کورونا وائرس کے دل میں خواتین کے لیے کوئی نرم گوشہ ضرور ہے۔ اعداد و شمار سے بھی اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ دنیا بھر میں بہت کم خواتین کورونا کا شکار ہوئیں اور جو ہوئیں، وہ بھی کسی غلط فہمی کا نتیجہ لگتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ لاک ڈائون میں بیوٹی پارلرز بند ہونے کی وجہ سے کورونا بھی دھوکا کھا گیا ہو۔ اُس نے شکیلہ کو شکیل، جمیلہ کو جمیل اور فرزانہ کو فراز سمجھ لیا ہو۔ کورونا کی دغا بازی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عین عید سے چند دن قبل اس نے ہفتے میں چار دن( پیر، منگل، بدھ، جمعرات) چھٹّی کرلی، جس پر بازار کُھل گئے اور یوں خواتین کو عید کی تیاری کا موقع فراہم کردیا۔ ثابت ہوا کورونا ہو یا کوئی طوفان، خواتین کو شاپنگ سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یاد آیا، پاکستان میں بازار کُھلے، تو امریکا اور چین ٹینشن میں آگئے۔ 

اُنہوں نے سوچا، ضرور کورونا کی ویکسین بنالی گئی ہوگئی، تب ہی تو عوام کو یوں کُھلا چھوڑ دیا گیا۔ اُنھوں نے فوری طور پر حکومت سے رابطہ کیا، تو ہماری جانب سے اُنھیں تسلّی کروائی گئی کہ’’ پریشان مت ہوں، ہم صرف مریض بناتے ہیں، دوا نہیں۔‘‘ جب تک مارکیٹس بند تھیں، تاجر ہاتھوں میں تسبیحاں تھامے نظر آتے تھے، مگر جیسے ہی دُکانوں کے شٹر اُٹھے، اُنھوں نے بھی تسبیح رکھ کر چُھریاں تھام لیں۔ توبہ ہے، ان کا کورونا بھی کچھ نہ بگاڑ سکا۔ پھر یہ کہ کورونا صرف خواتین ہی نہیں، بلکہ ہونہار طلبہ کے لیے بھی خوشی کا پیغام بن کر آیا ہے۔ ایک تو دے چُھٹّی پر چُھٹّی، اوپر سے پڑھنے کی بھی ٹینشن نہیں، بغیر امتحان اگلی کلاسز میں پہنچانے کا اعلان کردیا گیا۔ عمران خان کی طرف سے طلبہ کے لیے یہ ’’عید گفٹ‘‘ ہے۔ 

چوں کہ وہ خود بھی لمبے چوڑے امتحانات میں پڑے بغیر پاس ہونے کے قائل ہیں، اِس لیے اُنہوں نے طلبہ کا دُکھ بھی محسوس کیا۔ ویسے کپتان واقعی خوش قسمت ہیں، اُنھیں ہر جگہ غیبی مدد مل جاتی ہے۔ ان کی شادی ہی دیکھ لیجیے، تعویذ لینے گئے تھے اور تیسری بیوی ساتھ لیتے آئے۔ لیکن پیارے بچّو! دھیان رہے، ایسا نہ ہو کہ تم سارا سارا دن خوشی کے مارے چھت پر پتنگیں اُڑاتے رہو اور پیچھے سے حکومت یوٹرن لے لے۔ اس کے فیصلے چینی مال جیسے ہیں، کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ شادی بیاہ کی باتوں سے یاد آیا، یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق، لاک ڈائون کے سبب اگلے مہینوں میں عالمی سطح پر 11 کروڑ، 16 لاکھ بچّوں کا اضافہ ہوگا اور اُن میں سے2 کروڑ، 90 لاکھ جنوبی ایشیا میں پیدا ہوں گے، جن میں سے50 لاکھ بچّے پاکستان کے حصّے میں آنے کی توقّع ہے۔ یعنی اگلی عید پر گھروں میں خاصی چیائوں میائوں ہو رہی ہو گی۔

عید اور دعوت تو گویا آپس میں بہن بھائی ہیں۔ عید کے ایام میں خُوب دعوتیں اُڑائی جاتی ہیں، ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ خاص طور پر عید کا دوسرا دن تو ’’یومِ سسرال‘‘ کی حیثیت اختیار کر چُکا ہے کہ اس روز سب رستے سسرال ہی کی طرف جاتے ہیں۔ شاید اِس بار یہ روایت بھی برقرار نہ رہ پائے۔ گھر آئے مہمان کو اگر لقمہ پھنسنے سے بھی کھانسی ہو گئی یا زیادہ کولڈ ڈرنک پینے سے نزلے کے آثار نمایاں ہو گئے، تو میزبان اُنہیں فوراً چلتا کرنے کے بہانے تراشنے لگیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس بار عید پر’’اپنے گھر پکائو، اپنے گھر کھائو‘‘ کا نعرہ گونج رہا ہے۔ چوں کہ یہ عید لاک ڈائون میں نرمی کے فوراً بعد آئی ہے، تو دو ڈھائی ماہ تک معاشی سرگرمیوں سے دُور رہنے والے ابھی تک سنبھل نہیں پائے ہیں۔ 

خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے کی حالت بہت خراب ہے۔ ہم عید سادگی سے منا رہے ہیں، دعوتوں کا سلسلہ محدود کر دیا ہے، آنا جانا بھی کم ہی رہے گا، تو اِس سے کچھ بچت بھی ہوگی؟ تو پھر کیا خیال ہے، اِس بچت سے کسی دوسرے کی’’ عید‘‘ نہ کروا دی جائے…؟؟