آپ آف لائن ہیں
ہفتہ7؍شوال المکرم 1441ھ30؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

طیارہ حادثہ: لاشیں ایدھی و چھیپا سرد خانے منتقل


گزشتہ روز پیش آنے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو سول اور جناح اسپتال سے سرد خانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق لاشیں ایدھی سرد خانہ سہراب گوٹھ اور چھیپا سرد خانہ ایف ٹی سی منتقل کی گئی ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک شناخت کی جانے والی لاشوں کی تعداد 19 ہے، جبکہ تمام لاشوں کو ڈی این اے کے نمونے لینے کے بعد منتقل کیا گیا ہے۔

ریسکیو ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ 96 لاشیں سرد خانوں میں موجود ہیں جبکہ ایک میت کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے، جناح اسپتال میں 66 لاشوں کو منتقل کیا گیا۔

حکام محکمۂ صحت کے مطابق جناح اسپتال میں خواتین کی 20 میتیں، مردوں کی 43 لاشیں اور 3 بچوں کی میتیں لائی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں 16 لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے، جبکہ 50 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی، 66 لاشوں کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

محکمہ ٔصحت کے حکام نے بتایا ہے کہ سول اسپتال میں طیارہ حادثے کی 31 لاشیں منتقل کی گئیں، جن میں خواتین کی 6 اور مردوں کی 25 لاشیں شامل ہیں۔

حکام محکمۂ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ سول اسپتال میں طیارہ حادثے کی 3 میتوں کی شناخت ہوئی ہے، جبکہ 28 لاشوں کی شناخت اب تک نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دوپہر کو لاہور سے کراچی آنے والی قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے: کراچی، طیارہ حادثے میں جاں بحق 19 افراد کی شناخت

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا تھا۔

طیارہ لینڈنگ اپروچ پر تھا کہ کراچی ایئر پورٹ کے جناح ٹرمینل سے محض چند کلومیٹر پہلے ملیر ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن کی آبادی پر گر گیا۔

حادثے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی جس نے قریب کی آبادی کو بھی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ طیارے کے مختلف حصے ٹوٹ کر آبادی میں بکھر گئے جنہوں نے مکانات کو نقصان پہنچایا تھا۔

پاک فوج، رینجرز، پولیس، سول ایوی ایشن، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں کی گئی تھیں۔

قومی خبریں سے مزید