آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

معاشرتی دوری کا فارمولاکورونا سے بچا سکتا ہے

راچڈیل (نمائندہ جنگ) کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے معاشرتی دوری کے فارمولے پر سختی سے عمل درآمد ہی عوام کو مہلک بیماری سے بچا سکتا ہے، معاشرتی دوری میں بے احتیاطی وائرس کے خوفناک پھیلائو اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ برطانوی حکومت کے سائنسی مشیر نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے اور اس کے انفیکشن سے بچنے کیلئے 6فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ معاشرتی دوری کے فارمولے کو اپنانے سے اگر وائرس کے شکار مریض سے آپ کا آمنا سامنا ہو تو انفیکشن سے محفوظ رہنے میں مدد ملے گی برطانیہ، سوئٹزر لینڈ، امریکہ،سپین اور اٹلی میں دو میٹرجرمنی، پولینڈ،نیدر لینڈ میں ڈیڑھ میٹر جب کہ آسٹریلیا، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں وائرس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ایک میٹر کے معاشرتی فاصلے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ برطانوی سائنسی مشیر کے مطابق تجربات کی روشنی میں سامنے آنے والے شواہد کے مطابق معاشرتی دوری سے موذی مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات اور حکومتی مشاورتی گروپ کے رکن پروفیسر رابرٹ ڈینگ وال نے کہا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یورپی ممالک نے معاشرتی فاصلے کیلئے آپس میں ایک میٹر کی دوری کی سفارش کی ہے مگر برطانیہ میں دو میٹر کے فاصلے کے فارمولے پر عمل کیا جا رہا ہے ڈنمارک میں بھی آپسی دوری کیلئے یہی طریقہ کار اپنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے کورونا وائرس موذی مرض ہے جو ناک ‘ منہ ‘ گلے کے ذریعے انسان کو متاثر کرتا ہے ایسے میں معاشرتی دوری ایک جگہ سے دوسری جگہ وائرس کی منتقلی روکنے میں معاون ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے سابق وزیر آئین ڈنکن اسمتھ نے اس پابندی میں نرمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پب ‘ ریستوران وغیرہ میں دو میٹر کا آپسی فاصلہ برقرار رکھنا ناممکن ہوگا اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈنگ وال نے معاشرتی دوری کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ ڈیڑھ میٹر تک کا فاصلہ ہمیں وائرس سے بچائو میں مدد دے سکتا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر بھی قابل قبول معیار ہوگا حکومت نے لاک ڈائون میں کسی حد تک نرمی کی ہے مگر عوام کو احتیاطی تدابیر سے دامن نہیں چھڑانا چاہیے کیونکہ یہ انکے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ سپر مارکیٹوں ‘ بازاروں اور دیگر خریداری مراکز پر معاشرتی دوری قائم رکھنے کیلئے موثر اقدامات ہونے چاہئیں ۔
یورپ سے سے مزید