آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکہ ہو، برطانیہ یا یورپی ممالک، آپ کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جائیں تو بڑی مشکل سے کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آئے گا۔ خریداری کرنا ہو، جہاز یا ٹرین پر سوار ہونا ہو، لوگ آپ کو قطار میں میں کھڑے نظر آئیں گے۔ 

ان ملکوں میں کوئی بندہ آپ کو کسی بلڈنگ کے اندر سگریٹ پیتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔ کوئی شخص آپ کو سڑک پر کیلے یا کسی اور فروٹ کا چھلکا پھینکتا ہوا نہیں ملے گا۔ 2001میں مجھے پہلی مرتبہ امریکہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ دیکھا کہ جس بندے کے ساتھ کتا ہے تو عموماً اس نے اپنے پاس شاپنگ بیگ اور ٹشو پیپر بھی رکھا ہوا ہے اور اگر کہیں کتا گندگی پھینک دیتا تو اس کا مالک ٹشو کے ذریعے اسے شاپنگ بیگ میں ڈال کر ٹھکانے لگا دیتا۔ 

پتا کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ اس بارے میں کوئی قانون موجود ہے اور نہ کتے کی اس حرکت پر مالک کو سزا ملتی ہے لیکن لوگوں کا اپنا احساسِ تمدن(Civic sence) اتنا مضبوط ہے کہ وہ اخلاقی طور پر ایسا کرتے ہیں۔ 

صفائی کو ہمارے نبیﷺ نے نصف ایمان قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک کے واش روم ہمارے کچن سے زیادہ صاف رہتے ہیں۔ دو مسلمان ممالک میں اگر میں نے صفائی کی حالت بہتر دیکھی ہے تو وہ ایک ترکی اور دوسرا ملائیشیا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان تو صفائی نہ ہونے یا پھر گندگی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ احساس تمدن یا سوک سنس تو دور کی بات ہے یہاں قانون کی پاسداری کمزوری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ قطار بنانا ہمیں اپنے وقار کے منافی نظر آتا ہے۔ 

ہمارے تو سیاحت کے مقامات اور پارکس میں بھی اس قدر گندگی نظر آتی ہے کہ انسان کا وہاں جانے کو جی نہیں کرتا۔ ہم نعرے تو زندہ قوم ہونے کے لگاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہےکہ ہم قوم نہیں انسانوں کا ہجوم ہیں جس میں آپ کو ہر ورائٹی کی مخلوق ملتی ہے۔ 

اب وہ ممالک جہاں قانون کا حددرجہ احترام ہے اور جہاں احساس تمدن زوروں پر ہے، ان ممالک میں تو کسی ایک نے بھی لاک ڈائون کے خاتمے کا رسک نہیں لیا لیکن ہمارے ہاں جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ہونے کے برابر ہیں، میں لوگوں کو آزاد اور کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

 امریکہ ہو، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، فرانس، سعودی عرب، ترکی یا متحدہ عرب امارات ان سب ممالک نے ہم سے بہت پہلے لاک ڈائون کر رکھا تھا لیکن آج تک ان میں سے کسی نے بھی لاک ڈائون مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ 

چند ایک نے معمولی سی نرمی کی ہے وہ بھی ایس او پیز کے ساتھ اور ان ایس او پیز پر ان کی روح کے مطابق عمل ہورہا ہے جبکہ ہم نے سب سے آخر میں لاک ڈائون کیا تھا اور سب سے پہلے ختم کیا، حالانکہ ہمارا لاک ڈائون بھی برائے نام تھا۔ 

دنیا کے صرف ان ممالک نے لاک ڈائون میں نرمی کی (واضح رہے کہ مذکورہ ممالک میں کسی نے بھی ابھی تک لاک ڈائون مکمل ختم نہیں کیا) جن کے ہاں کورونا کیسز اور اموات کا گراف تسلی بخش حد تک نیچے جانے لگا تھا لیکن پاکستان روئے زمین پر پہلا ملک ہے کہ جہاں کورونا کیسز اور اموات دونوں کا گراف اوپر جارہا تھا لیکن الٹی گنگا بہا کر ہماری حکومت نے لاک ڈائون ختم کردیا۔ 

مذکورہ تمام ممالک کی حکومتوں نے عوام کو کورونا کے ہر پہلو کے بارے میں ایجوکیٹ کیا۔ یوں وہ ممالک لاک ڈائون ختم کرنے کا رسک لے کر معاملہ عوام پر چھوڑ سکتے ہیں لیکن پھر بھی وہ لاک ڈائون سے کام لے رہے ہیں۔ 

دوسری طرف پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے کہ جہاں ابھی تک کورونا سے متعلق سازشی تھیوریز زوروں پر ہے۔ بہت سے لوگ آج بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں بلکہ حکومت اموات دکھا کر دنیا سے پیسے بٹورنا چاہتی ہے ۔ ایک اور طبقہ اسے یہود و ہنود کی سازش قرار دے کر کہہ رہا ہے کہ اس طریقے سے وہ ہمیں اپنی عبادت گاہوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس کورونا کی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہیں پہلے سے ویران ہو چکی ہیں۔ 

اسی طرح ان ممالک کی نسبت ہمارے ہاں طبی سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے پاس کورونا سے نمٹنے کا واحد راستہ لاک ڈائون اور وہ بھی حقیقی لاک ڈائون کا رہ جاتا ہے۔ 

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم باقی دنیا کے مقابلے میں پہلے لاک ڈائون کرتے اور سب سے آخر میں ختم کرتے لیکن ہم لاک ڈائون کی طرف سب سے آخر میں آئے اور سب سے پہلے ختم کیا حالانکہ ہمارا لاک ڈائون بھی برائے نام تھا۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ کورونا کے بڑھنے یا برقرار رہنے کا حکومت کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے۔ 

کورونا سے قبل مقتدر حلقوں اور حکومت کے تعلقات میں تنائو آگیا تھا اور ٹکرائو کا خطرہ تھا لیکن کورونا کی مصیبت سے مجبوراً دونوں کو ایک پیج پر آنا پڑا۔ اسی طرح معیشت کا بیڑہ کورونا سے پہلے غرق ہوا تھا اور جی ڈی پی گروتھ دو فی صدتک آگئی تھی(ابھی پتا چلا کہ دو سے بھی کم تھی) لیکن اب حکومت کورونا کی چادر سے معیشت کے میدان میں اپنی ناکامی کو ڈھانپ رہی ہے۔

 اگر کورونا نہ ہو تو میڈیا بیڈ گورننس اور حکومتی اسکینڈلز کا ذکر کرکے اسے اس کے وعدے یاد دلاتا لیکن جب تک کورونا ہے، میڈیا کسی اور موضوع کی طرف نہیں جا سکتا۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کو جس طرح مودی نے ہڑپ کر لیا اور ہمارے حکمران صرف تقریریں کرتے رہ گئے تو لامحالہ عوام اور کشمیریوں نے اس پر سوال اٹھانا تھا لیکن جب تک کورونا ہے، اس کی نوبت نہیں آئے گی۔ 

حکومت کے لئے کورونا کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ جب تک یہ وبا پھیلی ہے، اپوزیشن کی کوئی جماعت چاہے بھی تو حکومت کے خلاف جلسہ جلوس نہیں کر سکتی۔ نیتوں کا حال اللّٰہ جانتا ہے لیکن لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کےذہن میں کورونا کے یہ سیاسی فائدے بیٹھے ہوئے ہیں اور اس لئے جس قدر ڈاکٹرز اور دیگر باشعور طبقات پریشان ہیں۔

اس قدر وزیراعظم ہائوس میں سکون نظر آتا ہے۔ لگتا ہے کہ حکومتی ایوانوں میں آج کل ایک ہی صدا گونج رہی ہے اور وہ ہے شکریہ کورونا۔