• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض اوقات معمولی غفلت یا بددیانتی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے، یہی کچھ ہوا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بیس لائن سروے کے دوران، جس میں بعض افراد نے مبیّنہ طور پر غریب، نادار اور مستحقین کا استحصال کرتے ہوئے اس فہرست میں اُن افراد کے نام بھی شامل کردیئے، جو نہ تو مستحق تھے اور نہ ہی حق دار، بلکہ اس فہرست میں کئی صاحبِ ثروت افراد، سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے نام شامل نظر آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ جس کا جتنا بس چلا، اس نے اتنا ہی اُس کفالتِ عامّہ کے پروگرام کو نقصان پہنچایا۔ سروے کے بعد دوسرا مرحلہ غریبوں تک ان کے لیے مختص امدادی رقم کی ترسیل تھی، مگر وہاں بھی مبینہ بدعنوانی کے باعث لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ حکومت نے تو مستحقین کو گھروں تک امداد پہنچانے کے لیے ایک نجی بینک سے معاہدہ کیا اور اس نے ایک فرنچائز سروس کو اس ضمن میں ذمّے داری سونپ دی تاکہ مستحقین کو ان کی دہلیز تک بحفاظت مختص رقم پہنچائی جاسکے، مگر فرنچائز مافیا، غریبوں کی مجموعی رقم سے پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک دھڑلے سےکٹوتی کرکے ادائیگی کرتا رہا۔ 

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہل کاروں سے ملی بھگت کرکے مستحقین کی لسٹیں حاصل کی گئیں، جو خواتین کئی ماہ سے لاعلمی کی وجہ سے رقم نہیں نکلوا سکی تھیں یا انتقال کرگئی تھیں یا پھر ان کا تعلق دُور دراز علاقوں سے تھا اور جن کی رقم کی وصولی کے لیے رسائی مشکل تھی، اس سب کے ضمن میں کرپشن مافیا کی تو لاٹری نکل آئی۔ ایک موبائل فون کمپنی کی ڈیوائس کے ذریعے تین ہزار سے پانچ ہزار روپے اور اکثر لوگوں کی کئی ماہ سے جمع شدہ رقم، جوکہ بیس سے تیس ہزار روپے تک تھی، نکلوالی گئی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’اس دھندے میں ایک فرنچائز کے علاوہ دیگر گروہ بھی ملوث تھے،جنہوں نے مستحق افراد کو گھروں تک رقم پہنچانے کی خدمات دینے کے نام پر فرنچائز سے ڈیوائسز حاصل کیں اور پھر گھروں میں بیٹھ کر ڈیوائس کے ذریعے مستحقین کی کئی کئی ماہ کی جمع شدہ رقم نکالتے رہے۔ نادرا کی جانب سے ڈیوائس پر اکثر خواتین کے انگوٹھوں کے نشانات واضح نہ ہونے کے باعث رقم نہیں نکل پاتی تھی، جس کے پیشِ نظر مذکورہ سہولت کے لیے انگوٹھے کی ڈیوائس پر وزیبلٹی سو فی صد سے کم کرکے صرف تیس سے پینتیس فی صد کردی گئی، جس کا فرنچائز یا پی سی او ڈیوائس مافیا نے ملی بھگت سے خوب فائدہ اٹھایا اور گھر بیٹھ کر اپنے بچّوں اور خواتین کے انگوٹھے کے نشانات استعمال کرتے رہے۔ 

اس طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر دھوکا دہی اور خورد برد کے ذریعے کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا۔‘‘ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ اوباڑو کے نواحی علاقے، مرید شاخ کے ایک گائوں، سچل میرانی کے رہائشی اور نجی موبائل کمپنی کے سُپروائزر، عاشق علی میرانی نے گزشتہ چار سال سے ایک موبائل کمپنی کی مختلف ڈیوائسزکے ذریعے بھاری رقم نکلوائی۔ اس کی دیکھا دیکھی اسی علاقے کے اکبر میرانی، فتح میرانی، شاہ نواز میرانی، آصف میرانی، مجید سچل میرانی سمیت گردونواح، سکھر سے گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، اوباڑو اور صادق آباد تک ایک درجن سے زاید افراد نے BISPکے اہل کاروں سے ملی بھگت کرکے ان مستحقین کی لسٹ حاصل کی، جو لاعلمی اور سہولت نہ ہونے کے باعث ایک عرصے سے رقم نہیں نکلوا رہے تھے یا پھر انتقال کرگئے تھے، اور پھراس مافیا نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ اس ضمن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام/ احساس پروگرام کے حکّام کا کہنا ہے کہ ان کا نجی بینک کے ساتھ معاہدہ تھا اور اس علاقے میں ابتدائی طور پر آٹھ لاکھ روپے کی کرپشن کی شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کی بینک سے ریکوری کرنے کے بعد معاہدہ ختم کردیا۔ 

ہماری معلومات کے مطابق بینک نے نجی فرنچائز کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں فنڈز کی خطیر رقم خورد برد کی، جس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ جب کہ متعدد فرنچائز، دکان داروں کے بینک اکائونٹس منجمد کرکے اُن کے شناختی کارڈ بلاک کردیئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے BISPکے اسسٹنٹ ڈویژنل ڈائریکٹر، شیخ جمیل نے بتایا کہ’’ اس کے علاوہ بھی دیگر شکایات موصول ہوئی تھیں۔ مثلاً کشمور میں ایک خاتون کا انگوٹھا لگوایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی رقم نہیں آئی، جب کہ رقم پی سی او سے فرنچائز اہل کاروں نے پہلے ہی نکال لی تھی۔ اب کس پر اعتبار کیا جائے؟ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے رقم نہیں ملی اور فرنچائز پی سی او مالک کا کہنا تھا کہ خاتون نے رقم لے لی ہے۔ اسی طرح یزمان کے علاقے کی ایک خاتون کی رقم ڈیرہ موڑ کے پی سی او سے نکال لی گئی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ رقم کس ایریا کی ڈیوائس سے نکالی گئی ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اصل حق دار نے نکلوائی ہے یا کسی اور شخص نے، کیوں کہ بائیومیٹرک کے استعمال سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اصل حق دار ہی نے نکلوائی ہے۔ اس کی شکایت کا طریقہ بھی بہت پیچیدہ ہے، خاتون کو ہیڈ آفس آکر درخواست دینی ہوتی ہے، جس پر تحقیقات شروع کی جاتی ہیں، تاہم ایسی متعدّد شکایات کے پیشِ نظرایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی اور اسی کمیٹی کی تحقیقات کے سبب مستفید ہونے والے ایسے افراد کے نام سامنے آئے جوکہ باضابطہ سرکاری ملازم تھے۔ 

اس دوران ایسے مستحقین کی بھی چھانٹی کردی گئی، جو موٹر سائیکل کے مالک ہیں، ایک ماہ میں موبائل فون کا ایک ہزار روپے سے زاید کا بیلنس استعمال کرتے ہیں یا پھر وہ افراد، جو خود یا خاتون کا شوہر کسی جہاز میں سفر کرچکے ہیں یا پھر ان کے گھرانے کے کسی فرد نے نادرا سے ایگزیکٹو فیس میں شناختی کارڈ بنوایا ہے۔ چند ماہ کی رقم کی ادائیگی کے بعد رقم کی ترسیل کے طریقۂ کار کوبھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ نجی بنک بذریعہ فرنچائز سے معاہدہ ختم کرکے ایک اور نجی بینک کے توسّط سے نئے معاہدے کے بعد رقم کی تقسیم شروع کی ہے۔ بائیومیٹرک میں بھی تیس سے پینتیس فی صد فزیبلٹی کو ختم کرکے سو فی صد یقینی کردیا گیا ہے، جس سے کسی اور کا انگوٹھا لگا کر رقم نکلوانے کی شکایت کا سدّباب ہوگیا ہے اور ڈیوائس ہولڈر کو بائیس روپے فی کس سروس مہیّا کرنے کی مد میں رقم کی ادائیگی بھی کی جارہی ہے۔ نیز، بینک نے ایجنٹ سے دو لاکھ روپے پیشگی زرِضمانت بھی حاصل کی ہے۔ 

جب کہ ڈیوائس شام سات بجے تک استعمال کرنے کی پابندی عاید کردی گئی ہے۔ تاہم، اب بھی بعض مقامات سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بارہ ہزار روپے کی ادائیگی پر ڈیوائس ایجنٹ پانچ سو روپے وصول کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ سکھر، نواب شاہ اور گھوٹکی میں پونے دولاکھ سے زائد افراد کو BISPکے تحت اقساط دی جارہی تھیں، تاہم بے نظیر انکم سپورٹ /احساس کفالت پروگرام میں لاک ڈائون ریلیف فنڈ بارہ ہزارروپے امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد کے ساتھ مجموعی تعداد چھے لاکھ کے قریب ہوگئی ہے۔ 

اسسٹنٹ ڈائریکٹر، احساس پروگرام اوباڑو، اعجاز چوہدری نے اس حوالے سے بتایا کہ’’ تحصیل اوباڑو میں مستقل بے نظیر انکم سپورٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے۔ جب کہ حالیہ کورونا لاک ڈائون کے باعث بارہ ہزار متاثرین/ دیہاڑی دار طبقہ کے اضافے کے ساتھ یہ تعداد تیس ہزار ہوگئی۔ تاہم، تحقیقات کے بعد ان میں سے چودہ سو افراد کو خارج کردیا گیا، جو یا تو سرکاری ملازمین ہیں یا مستحقین کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔‘‘ محکمہ ٔ پولیس، گھوٹکی کے پبلک ریلیش آفیسر، افتخار آرائیں نے اس حوالے سے بتایا کہ ’’ہم نے ایسے چار ایجنٹس کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا ہے، جو بارہ ہزار کی ادائیگی پر پانچ سو روپے کی کٹوتی کررہے تھے۔‘‘ علاوہ ازیں، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کیپٹن (ر) خالد سلیم کے مطابق، ’’اب تک پچھترہزار افراد کو بارہ ہزار روپے فی کس ادائیگی کردی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ضلع گھوٹکی میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کو احساس کفالت پروگرام کے تحت ادائیگیاں کی جائیں گی۔‘‘

اگرچہ نئے طریقہ کار کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ/احساس کفالت پروگرام میں فی الحال بدعنوانی کا خاتمہ ہوگیا ہے، ماسوائے ادائیگی کے دوران کچھ کٹوتی کی شکایات کے۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ نادار و غریب مستحقین کے حق کو مالِ غنیمت سمجھ کر کروڑوں روپے لُوٹنے والوں کو قانون کی گرفت میں لاکر ان کے خلاف ایسی قانونی اور موثر کارروائی کی جائے، جس سے اس طرح کی کرپشن اور بدعنوانی کاہمیشہ کے لیے سدّباب اور خاتمہ ہوسکے۔ یوںتو کرپشن ملک و قوم کے لیے ایک بدترین ناسور ہے، مگر کرپشن کی ایسی شکل میں ملّوث افراد،جس میں غریب و نادار اور مفلوک الحال طبقہ ہو اور انہیں ملنے والی انکم سپورٹ پر نقب زنی کی جائے، کسی رحم اورہم دردی کے مستحق نہیں بلکہ ان کے خلاف سخت ترین انضباطی کارروائی کو یقینی بنانا ہی انصاف اور عدل کی بالادستی کا بنیادی تقاضا ہے۔