• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریم نیازی، لاہور

’’میٹھا‘‘ مشرقی معاشرے کی روایات کا امین سمجھا جاتا ہےکہ کوئی بھی تہوار ہو یاخوشی کا موقع، کہیں مہمان بن کر جانا ہو یا مہمانوں نے آنا ہو، دسترخوان پر میٹھے کی ڈش نہ ہو تو ضیافت ادھوری لگتی ہے۔ میٹھے کی اہمیت جس سرعت سے ہماری روایات میں سرایت کر چُکی ہے، اس سے کہیں زیادہ ذیابطیس کا عارضہ عام ہوچُکا ہے۔ خوشی،تہوار وغیرہ کے موقعے پر جہاں میٹھی ڈشز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وہیں ذیابطیس میں مبتلا افراد کی حالت قابلِ دید ہوتی ہے کہ کبھی وہ خود سے اپنا ہاتھ نہیں روک پاتے، تو کبھی اہلِ خانہ یا دوست احباب کی مروت میں میٹھا چکھ کر خون میںشکر کی مقدار بڑھا لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں میٹھی ڈشز میں مٹھاس کے لیے سفید چینی کا استعمال عام ہے، جو صحت کے لیےکسی طور فائدہ مند نہیں، بلکہ کئی تحقیقات کے بعد تو سفید چینی کو’’میٹھا زہر‘‘ قراردے دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب کئی مُمالک میں مختلف اقسام کےمتبادل استعمال کیےجارہے ہیں۔

مثلاً گڑ،براؤن شوگراور شہد وغیرہ، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اسٹیویا (Stevia)نامی پودے سے بھی چینی بنائی جاتی ہے،جو صحت کے لیےقطعاًمضر بھی نہیں ۔اس پودے کے پتّے پھول نکلنے سے قبل توڑ کر خشک کر لیے جاتے ہیں، پھر انہیں پیس کر پاؤڈر کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو عام چینی کی نسبت300 گنا زائد مٹھاس رکھتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اس میں انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر نشاستہ اور حرارے پائے جاتے ہیں،بلکہ ایک تحقیق کے مطابق سفید چینی میں حراروں کی مقدار 80کلو گرام کے مقابلے میں اسٹیویاکے پتّوں میں صرف 4کلو گرام پائی گئی۔ 

علاوہ ازیں، اس میںمنرلز، پروٹینز اور متعدد وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔ سفید چینی تو گنّے یا شکر قندی وغیرہ سے کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد تیار کی جاتی ہے، جب کہ اسٹیویاکے پتّے قدرتی مٹھاس سے مالا مال ہوتے ہیں۔مختلف تحقیقات کے بعد ماہرین نےاسٹیویا کے پتّوں کو سفید چینی کا بہترین اور بے ضرر متبادل قرار دیا ہے۔اس کے پتّےذیابطیس، بُلند فشارِ خون، دانتوں اور معدے سمیت کئی اور عوارض سے تحفّظ فراہم کرتے ہیں۔ جراثیم کُش ہیں، سوزش کم کرنے میں اکسیر ہیں،تو قوّتِ مدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔

پیرا گوئے وہ واحد مُلک ہے، جہاں صدیوں سےاسٹیویاکے پتّے بطور چینی استعمال کیے جارہے ہیں، جب کہ برازیل، کوریا، جاپان، چین اورجنوبی امریکا کے بھی بیش تر علاقے طویل عرصے سے اس کا استعمال کررہے ہیں۔ تاہم، 1990ء میں اس کے استعمال پر امریکا میں پابندی عاید کر دی گئی، لیکن مسلسل تحقیق کے بعدبالآخر 2008ء میں امریکا کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے اسے باقاعدہ طور پر قابلِ استعمال قرار دے دیا۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا سمیت کئی مُمالک میں روزمرّہ کی اشیاء مثلاً مشروبات، چاکلیٹس، چیونگمز، بیکری پراڈکٹس وغیرہ میں اسٹیویا کے پتّوں کا پائوڈر استعمال کیا جارہا ہے۔اس کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ایک تو چینی کے مقابلے میںاسٹیویا مکمل طور پر بے ضرر ہے۔دوم، چینی سے کئی گنا زائد مٹھاس کے سبب پیداواری لاگت بھی کم آتی ہے۔ پاکستان میںاسٹیویاکی کاشت کا آغاز 2003ء میں ہوا ،جب کہ تب سےتاحال مختلف پہلوئوں سے اس پر تحقیق کا کام بھی جاری ہے، جس میں زرعی یونی ورسٹی، فیصل آباد کی زیر نگرانی ایوب زرعی فارم نمایاں کام کررہا ہے، مگر افسوس کہ کوئی بھی حکومت اس کی اہمیت و افادیت اُجاگر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرسکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت اسٹیویاکے پتّوں سے چینی حاصل کرنے کی جانب توجہ دے،تاکہ یہاں کی عوام بھی مضراثرات سے پاک چینی استعمال کرسکیں۔ (مضمون نگار، ماہرِ امراضِ اغذیہ ہیں)

تازہ ترین