آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیپٹن سجاد گل کیسی شخصیت کے مالک تھے؟

پی آئی اے طیارہ حادثہ میں شہید ہونے والے کیپٹن سجاد گل کی صاحبزادی زویا سجاد کا کہنا ہے کہ اُن کے والد کی شہادت پر ناصرف اُنہیں بلکہ پوری قوم کو فخر ہے۔

کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے کیپٹن سجاد گل کی صاحبزادی زویا سجاد کی’ڈان‘ اخبار میں ایک تحریر شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنے والد کی خصوصیات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

زویا سجاد کا اپنی تحریر میں کہنا تھا کہ ان کے والد ایک شہید ہیں اور اُن کی شہادت پر ناصرف مجھے بلکہ ہماری پوری قوم کو فخر ہے، اُنہوں نے کہا کہ ’میرے والد جہاز صرف اس لیے نہیں اڑاتے تھےکہ یہ کام ان کی ملازمت کا حصہ تھا بلکہ انہیں جہاز اڑانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔

کیپٹن سجاد گل کی صاحبزادی نے کہا کہ ’میرے والد ایک بہترین اور عظیم پائلٹ ہونے کے ساتھ شائستہ انسان بھی تھے اور اُن کے نرم مزاج کی وجہ سے لوگ اُنہیں بے حد پسند کرتے،  وہ ہمیشہ مشکل وقت میں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے آگے آگے رہتے تھے۔‘

شہید کیپٹن کی صاحبزادی نے والد کی مزید خصوصیات سے آگاہ کیا کہ  کیسے اُنہوں نے ایک ریٹائرڈ ملازم کے اہلِ خانہ کی مدد کی، اُن کی بیٹیوں کی شادی کروانے میں مالی مدد کی اور ماہانہ خرچہ دیا اور ایک بچے کے علاج کے لیے معاوضہ دیا کیونکہ اُن کو مالی وسائل کی کمی تھی۔‘

زویا سجاد نے بتایا کہ ’والد طیارہ حادثے سے دو روز قبل اپنی ڈیوٹی پر جانے لگے تو میں نے اُن سے کہا کہ عید میں صرف دو دن باقی ہیں اب آپ کیوں جارہے ہیں ہمارے ساتھ گھر میں وقت گُزاریں، جس پر میرے والد نے مجھ سے کہا کہ جیسے آپ اپنے گھروالوں کے ساتھ عید منانا چاہتی ہیں ایسے دوسرے بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ یہ خوشی کا دن اپنے پیاروں کے ساتھ گُزاریں، میں انہیں ان کے پیاروں سے ملانے جا رہا ہوں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’میرے والد مدینہ منورہ کو اپنا دوسرا گھر کہتے تھے، ان کی موت  کے بعد ہمارے پاس مدینہ سے ایک شخص کا فون آیا جس نے ہمیں بتایا کہ اُس نے روضۂ رسول میں ایک آدمی کو دوسروں کی مدد کرتے دیکھا تھا اور جب اُس نے طیارہ حادثہ کی خبر دیکھی تو اُسے معلوم ہوا کہ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ شہید کیپٹن سجاد گل تھے۔‘

شہید کیپٹن کی صاحبزادی نے کہا کہ ’میرے والد کے دوست اور عملے کے ممبران جب ہم سے تعزیت کرنے آئے تو اُنہوں نے بھی میرے والد کی نیک سیرت کے بارے میں بتایا کہ وہ سب کا احترام کرتے تھے اور سب کو بیٹا، بیٹی یا بچہ کہہ کر پکارتے تھے۔‘

زویا سجا د نے کہا کہ ’میرے والد کے لیے اُن کی فیملی اولین ترجیح تھی، وہ ناصرف ہمارے والد تھے بلکہ ایک بہترین دوست بھی تھےجنہوں نے ہمیں ہمیشہ سکھایا کہ دوسروں کی مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’میرے والد نے ہمیشہ اپنا ہر کام سچے دل اور ایمانداری سے کیا۔‘

زویا کا کہنا تھا کہ ’میرے والد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں مستحق لوگوں کی مدد نہیں کروں گا تو میرا اللّہ مجھے کیسے رزق دے گا۔‘

واضح رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کے کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھے، سجاد گل 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ رکھتےتھے ، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پر تقریباً 7 ہزار گھنٹے فلائٹ کا تجربہ شامل تھا وہ گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس اڑا رہے تھے۔

پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مانےجاتے تھےپائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے اور اُن کے 4 بچے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعۃ الوداع کی دوپہر کو لاہور سے کراچی آنے والے قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں97 افراد جاں بحق ہوئے۔

خاص رپورٹ سے مزید