آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں قائداعظم کی 15؍اگست 1947کو بحیثیت گورنر جنرل حلف برداری کی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ جہاں تک قائداعظم کا حلف اُٹھانے سے قبل کرسی پر بیٹھنے اور جسٹس عبدالرشید کے کہنے پر اُٹھنے کا تعلق ہے یہ محض ایک من گھڑت واقعہ ہے جسے میں ’’تاریخی افسانے‘‘ کا نام دیتا ہوں۔ ہمارے بعض کالم نگاروں اور اینکرز نے بلا تحقیق اِسے خوب اُچھالا، میں نے لکھا تھا کہ اس واقعے کی شروعات کے ذمہ دار جناب عبدالقدیر رشک ہیں جو روزنامہ احسان کے رپورٹر تھے۔ میرے نزدیک میاں محمد افضل کی دو ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب ’’میرِ کارواں‘‘ ایک معتبر حوالہ ہے اور اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے سات آٹھ برس کس قدر محنت کی ہوگی۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 1214پر جناب عبدالقدیر رشک کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے اس واقعے کی صحت اور سچائی پر شبہے کا اظہار کیا ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ یہ بیان درست نہیں۔ اس کالم کو پڑھنے کے بعد جناب منیر احمد منیر نے مجھے بتایا کہ اس من گھڑت واقعے کے پہلا راوی جناب عبدالقدیر رشک نہیں بلکہ معروف کالم نگار اور سیاسی کارکن میاں محمد شفیع (مرحوم) ہیں جو کئی دہائیوں تک ’’م ش‘‘ کی ڈائری کے عنوان سے کالم لکھتے رہے۔ چونکہ یہ واقعہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے اسلئے میں منیر احمد منیر صاحب کا خط آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

’’آپ کا کالم ’’صبح بخیر‘‘ روزنامہ جنگ لاہور 19؍مئی 2020، قائداعظمؒ کی حلف برداری بطور گورنر جنرل آف پاکستان، چیف جسٹس میاں سر عبدالرشید کے حوالے سے یہ واقعہ سب سے پہلے عبدالقدیر رشک نے 1999ءمیں نہیں لکھا تھا۔ ان سے کوئی سترہ اٹھارہ برس قبل مرحوم میاں محمد شفیع، م، ش، نے اس پر خامہ فرسائی کی تھی۔

ہفتہ وار اداکار، یکم تا 7جون 1975ءسابق چیف جسٹس سر عبدالرشید سے م ش صاحب کا کیا ہوا ایک انتہائی مختصر انٹرویو شائع ہوا۔ اس میں یہ واقعہ نہیں تھا۔ جسٹس صاحب کا انتقال ہوتا ہے 6؍نومبر 1981کو۔ اس پر میاں صاحب نے اپنے کالم میں یہ واقعہ پہلی بار لکھا۔ میں نے ان سے پوچھا جسٹس عبدالرشید کے انٹرویو میں تو یہ واقعہ نہیں تھا۔ آپ کو یہ کس نے بتایا؟ کہنے لگے میاں بشیر احمد نے اور میاں بشیر احمد جسٹس عبدالرشید سے بھی کوئی پونے گیارہ برس قبل 3؍مارچ 1971کو انتقال کر چکے تھے۔ م۔ش صاحب کو جسٹس مرحوم کے ساتھ اس مختصر سے انٹرویو کے دوران میں اس واقعہ کی تصدیق کا خیال کیوں نہ آیا؟ انہیں پھر یہ کب یاد آیا؟ میں نے دلائل کی بنیاد پر اسی وقت اسے مشکوک قرار دیدیا تھا اور اس کی تصدیق کی ٹھانی۔

1977ءسے 1987ءمیرا کراچی جانا آنا اکثر رہا۔ اس دوران میں قائداعظمؒ کے سیکورٹی آفیسر ایف ڈی ہنسوٹیا جو مذہباً پارسی تھے، سے قائداعظمؒ سے متعلق یادیں کریدتا رہا۔ میری کتاب ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ (اردو) جلد اول میں یہ طویل ترین انٹرویو ہے۔ میں نے ہنسوٹیا صاحب سے اس واقعہ کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا :

’’میں اُدھر تقریب میں تھا۔ میرے خیال میں یہ بنایا ہوا واقعہ ہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ بات کرے۔ وہاں ایکسٹرا کوئی کرسی نہیں تھی۔ پھر قائداعظمؒ دوسری کرسی پر کیسے بیٹھے۔ اس موقع کی فلم بھی بنی ہے‘‘۔ (ص316)۔

22؍مئی 2020کے کالم میں آپ نے لکھا ہے ’’ایک احراری مولوی صاحب مجھے ایک دہائی سے یہ طعنے دے رہے ہیں کہ ....تمہارے قائداعظمؒ نے برطانوی حکومت سے وفاداری کا حلف اٹھایا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب! یہ احراری جہالت کی دلدل اور پاکستان دشمنی کی اذیت سے ابھی تک نہیں نکلے۔ انہیں پتا ہونا چاہئے کہ 15,14اگست 1947ءکی درمیانی شب برصغیر کو دو ملکوں بھارت اور پاکستان کی صورت میں جو آزادی ملی، اس وقت ان دونوں کا Dominion Status (بااختیار حکمرانی کا درجہ) تھا۔ رسمی طور پر دونوں ملک تاجِ برطانیہ کے ماتحت تھے۔ اس لئے سربراہِ مملکت و حکومت کے حلف میں اس کا اعتراف امر لازم تھا۔ خود ان احراریوں کے مالی مربی، فکری رہنما، ہندو احیا پرست، مسلمانوں اور اسلام کے اٹل بہری پنڈت جواہر لال نہرو کا جو چلن تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے، نہ اس کے حلف برداری کی عبارت کا۔ نہرو کی تو ساری سیاسی زندگی انگریز کے آگے نگ گھسنوں میں گزری۔ خالی خولی نہیں یہ ریکارڈ کی بات ہے۔

ان احراری مولوی صاحب کو ڈومینین اسٹیٹس والے بھارت کے لئے اٹھایا ہوا حلف کبھی نظر نہیں آئے گا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن بھارت کا پہلا گورنر جنرل تھا۔ اس کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ انگریز تھا لیکن اس انگریز نے 21؍جون 1948کو یہ چارج چھوڑ دیا تھا۔ ان کی جگہ راجگو پال اچاریہ نے گورنر جنرل شپ کا حلف اٹھایا تھا۔ اس میں بھی تاجِ برطانیہ سے وفاداری موجود تھی۔ وہ ان احراری مولوی صاحبان کو کبھی نظر نہیں آئے گی۔ قائداعظمؒ نے اپنے حلف میں تبدیلی کر لی تھی۔ ان کے بھارتی آقائوں کو تو اس کی بھی توفیق نہ ہوئی۔

آپ نے ایک احراری مولوی کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اس سے بھی یہ صاف واضح ہے کہ انہوں نے آج تک پاکستان کو تسلیم کیا ہے نہ قائداعظمؒ کو۔ ان کی سوئی آج بھی پاکستان مخالفت اور اس کی بدخواہی پر پوری شد و مد سے وہیں اٹکی ہوئی ہے۔ آپ ان کی مساجد، مدارس، کتب، رسائل، نجی محفلیں اور خاص طور سے اس مقصد کے لئے قائم کردہ ان کے اشاعتی ادارے دیکھ لیں۔ سب واضح ہو جاتا ہے۔ انہیں قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہوتی ہیں۔ جن کے دل قفل بند ہوں، ذہنی اور فکری طور پر کبھی قومی دھارے میں نہیں آ سکتے۔ آپ ان کے مدارس کا سلیبس تبدیل کر سکتے ہیں، پاکستان، قائداعظمؒ، اقبالؒ حتیٰ کہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے رفقاء کے بارے میں ہرزہ سرائی پر مبنی ان کی لپ سروس پر قدغن کیسے لگائیں گے؟ انہوں نے اپنے ہی ہم مسلک مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع وغیرہ کا پرو پاکستان ’’جرم‘‘ آج تک معاف نہیں کیا‘‘۔