آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ چند ماہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی مہلک وبائی مرض، کورونا سے متاثر ہے۔اس مرض کی وجہ سے اب تک ہزاروںافراد جاں بحق ہو چُکےہیں اور کئی زندگی اور موت کے بیچ جُھول رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے اثرات نے سماجی نظام ِ زندگی کو شدید متاثر کیاہے۔کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں،جواس سے متاثر نہ ہوا ہو۔کیا ڈاکٹر ، تاجر، وکیل،ادیب ، سیاست دان ، مذہبی شخصیات ،بچّے ،بوڑھے سب ہی اس سے متاثر ہیںاور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان متاثرین کی تعدادمیں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے پوری دنیا کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ مل بیٹھنا،باہمی گفت و شنید، سفری تقاضے، مکالمے ، مباحثے،تفریحی مواقع، کھیل کے میدان، کاروباری طریقۂ کار، عبادات ،تعلیمی نظام ،ملکی و بین الاقوامی ترجیحات،سب ہی کچھ توبدل کے رہ گیا۔لوگوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ شاید یہ دنیا میں زندگی کی آخری صدی ہے، واللہ عالم۔کورونا کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ایک ساتھ مل بیٹھنا تو درکنار، اب تو ایک دوسرے سےگفتگو تک کرنے میںبھی خوف محسوس ہوتا ہے۔گھنٹوں بازاروں میں پھرکر، بیسیوں دُکانیں چھاننے والی خواتین تک آج آن لائن خریداری پر مجبور ہو گئی ہیں۔لگتا ہے آن کی آن میں دنیا کا ’’پاز‘‘ بٹن دبا دیا گیا ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیںکہ اتنی تباہی اور انسانی جانوں کے زیاں کے بعد، کورونا کا خوف ایک طویل عرصے تک، بلکہ شاید ویکسین کی دریافت کے بعد تک لوگوں کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لیے رکھے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لاک ڈاؤن، کرفیو کی سی کیفیت، ڈر ڈر کر جینےکا سلسلہ آخر کتنے دِنوں تک جا ری رہے گا…؟؟یہ کوئی مستقل حل تو نہیں، تو بہر حال ہمیں زندگی جینے کے تقاضے بدلنے پڑیں گے۔دنیا کورونا سے تباہ حال سوشل اسٹرکچر کی تعمیرِ نوکے لیے مختلف طریقہ ہائے کار پر سوچ بچار کررہی ہے۔معاشرتی فاصلے کو سمجھنے اور اس کو مد ّ ِنظر رکھ کر نظام ِزندگی چلانے کے نئے نئے طریقے اخذ کیے جا رہے ہیں۔ہوٹلز،اسکولز،معالجین ،اشیائے خورونوش کی خریداری تک سب کچھ موبائل کے ایک ’’ٹچ‘‘ پر میّسرآنے لگا ہے۔ لیکن دوسری جانب، اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گو کہ پاکستان کے بچّے بچّے کے ہاتھ میںاسمارٹ فون نظر آتا ہے، مگر اب بھی عوام النّاس کو آن لائن نظام سے ہم آہنگی میں خاصا وقت لگے گا۔ بہر کیف، حالات کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اب ہمیں بھی اپنا آپ آن لائن نظام کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا،اب وہ چاہے آن لائن خریداری ہو، تعلیم یا صحت کے معاملات ۔ اِسی آن لائن سسٹم کو دھوکا دہی اور فراڈ سے پاک وشفاف بنانا ہوگا۔ابتداًاس نظام کو نافذ کرنے میں تھوڑی دقّت تو ضرور ہوگی ،لیکن اس کے دیر پا اور مثبت نتائج سے انکاربھی ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر جب طبقاتی تفریق اور فیسز کے بوجھ تلے پرورش پاتی نوجوان نسل کو،مصنوعی رویّوں، اے-سی کلاس رومز،متاثر کُن زیبائش سے آراستہ اسکول ، کالجز کی عمارتوں سے ہٹ کر، سستی اور معیاری تعلیم ملے گی تو نتائج اچھے ہی حاصل ہوں گے، خراب نہیں۔یہاں دینی مدارس کے منتظمین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی حالات کو مدّ ِ نظر رکھتے ہوئے اپنے تعلیمی نظام کو آن لائن کرنے کی کوشش کریں، خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں ، تاکہ وہ بھی گھر بیٹھے، محدود وسائل کے ساتھ گھر گھرتک اپنے اندازِ تعلیم کو رواج دے سکیں۔اور اس نظام کو متعارف کروانے کے لیےسب سے پہلے اپنے اساتذہ کو آن لائن سسٹم سے آگاہی اور تربیت فراہم کریں۔مدارسِ دینیہ کے نصاب کو عربی ،اردو ،انگلش زبان کی سہولت کے ساتھ جد ید ایپلی کیشنز میں لانچ کریںکہ اس عمل سے پوری دنیا سے طلبہ کی صُورت ایسی کھیپ حاصل ہوگی ،جو پھرکسی بھی مُلک، جگہ،مقام پر رہتے ہوئے دین کے پیغام کو عام کرسکے گی۔


کورونا وائرس کے بعدبہت سے شعبوں میں تبدیلی کے مثبت مواقع میسر آئے ہیں۔اس میں مقامی سطح کے تمام شعبے چاہے وہ امن و امان سے وابستہ ہوں ،مالیاتی یاصحت و انصاف سے متعلق تمام میں عصرِ حاضر کے مطابق سماجی دوری کو مدّ ِ نظر رکھتےہوئےجدّت لائی جاسکتی ہے۔جیسے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں آن لائن خریداری کو فروغ حاصل ہوا۔ کون نہیں جانتا کہ دُکان خریدنے یا کرائے پر لینے، پھر بزنس سیٹ کرنے میںکتنا وقت اور محنت لگتی ہے، پھر رِسک فیکٹر الگ کہ نہ جانے کام چلے گا یا نہیں، تو آن لائن خرید و فروخت کے نظام نے دکان لینے، سیٹ کرنے وغیرہ کے جھنجھٹ سے تو چھٹکارا دلوا ہی دیا ہے کہ اب بس تمام تر توجّہ بزنس کی تشہیر اور کام پر مرکوز رکھنی ہوگی۔جو کاروباری افراد ابھی تک آن لائن سسٹم سے نا بلد ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اپنا کاروبار نئےسسٹم کے مطابق ڈھال لیں کہ جب وہ اپنی مصنوعات صحیح معلومات کے ساتھ مناسب داموں فروخت کے لیے پیش کریں گے ،تو نہ صرف اس دَوڑ میں اچھا بزنس کر سکیں گے،بلکہ نامی گرامی پلازا، مالز،دکانوں، ظاہری نمود و نمائش ، وغیرہ کے اخراجات اوربھاری بھرکم بلزادائیگی کی مصیبت سے بھی آزاد ہو جائیں گے۔


دوستو! مہلک وبائی مرض، کورونا کے آنے سے نظامِ زندگی کا یک سر بدل جانا ایک تلخ حقیقت ہے۔یقینا ًیہ تبدیلی قبول کرنا، اس کے مطابق اپنے معمولات بدلنا بے انتہا مشکل تو ضرورہے، لیکن نا ممکن ہر گز نہیں۔یا درکھیں!آج تک وہی قومیں کام یاب ہوئی ہیں، جنہوں نے حالات کا رُخ بھانپ کر بر وقت صحیح سمت کا تعین کیا۔اس کے بر عکس جن قوموں نے چشم پوشی کا مظاہرہ کیا، ان کے ابترحالات سے بھی تاریخ بھری پڑی ہے۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی قوم کا نام، کام یاب قوموں کے باب میں درج کروانا چاہتے ہیں یا ناکام قوم کے نام سے پہچان بنانی ہے۔