آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان بیک وقت تین وبائوں کی زد میں ہے۔ تبدیلی کی وبا جو معیشت، سیاست اور معاشرت کو تباہ کررہی ہے۔ دوسرا کورونا کی وبا جو انسانیت کو کھا رہی ہے اور تیسرا ٹڈی دَل کی وبا جو فصلوں کو اُجاڑ رہی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی اور ایشو کو موضوع بحث بنانا، مناسب نہیں۔

تین چار ماہ سے یہی دہائی دے رہا ہوں کہ وزیراعظم سے لے کر مجھ جیسے عام شہری تک ہر بندے کو صرف اور صرف ان وبائوں کے بارے میں سوچنا اور اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے نئے پاکستان میں مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے تنازعات نکال کر اور مخالفین کو نشانہ بنا کر عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول کرانا ہی ہر مسئلے کاحل سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ ایک مشکوک امریکی خاتون کو میدان میں اُتارا گیا۔ انہوں نے اہم تنظیموں اور شخصیات کے بارے میں پاکستان کے ساتھ غداری سے لے کر ریپ تک جیسے سنگین الزامات لگائے۔ پھر ماشاٗء اللہ ہمارا میڈیا بھی اصل ایشوز سے اعراض کا ماہر ہے اور ان کے الزامات کو قومی سطح پر سیاست و صحافت کا موضوع بنا دیا اور اب تو وہ عدالت کا بھی ایشو بن گیا۔

کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس مشکوک امریکی خاتون کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ شاید وہ پورے پاکستان کو رسوا کرکے نکل جائے اور پھر امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کو مزید رسوا کرنے کے لئے لکھنا اور بولنا شروع کردے۔ یوں میں اس حوالے سے یہ چند سوالات اور گزارشات اس ملک کے حاکموں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اس خاتون کا پیشہ کیا ہے؟ وہ اگر جرنلسٹ ہیں تو پھر اُنہوں نے ایک وفاقی وزیرکی صاحبزادی کی ہیلتھ سے متعلق این جی او کے ساتھ کام سے آغاز کیوں کیا؟ جرنلسٹ کسی پارٹی کا میڈیا منیجر نہیں بنتا تاہم وہ خود کہتی ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کی میڈیا ٹیم کا حصہ تھیں لیکن لوگوں کی رقابت کی وجہ سے اُنہیں اس کام سے الگ ہونا پڑا۔

وہ کہتی ہیں کہ ڈاکومینٹری میکر ہیں تو پچھلے چار برسوں میں وہ کس ڈاکومنٹری پر کام کررہی ہیں اور وہ کہاں ہے؟ جب آپ کا پیشہ اور سرگرمیاں واضح نہیں تو کیا اس سے خود بخود یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کا اصل کام کچھ اور ہے اور آپ کسی خاص مشن پر ہیں؟ لاکھوں پاکستانی روزگار کے لئے امریکہ گئے ہیں۔

کروڑوں وہاں جانے کے متمنی ہیں لیکن کوئی امریکی تب تک پاکستان نہیں آتا، جب تک ان کی حکومت یا آرگنائزیشن، جن کے وہ ملازم ہوں، پاکستان آنے کے لئے مجبور نہ کرے۔ بظاہر اس خاتون کو کسی ادارے نے ڈیوٹی کے لئے پاکستان نہیں بھیجا۔ وہ ازخود پاکستان آئی ہیں۔ آنے سے قبل ان کا کسی پاکستانی ادارے کے ساتھ کوئی کنٹریکٹ نہیں ہوا تھا۔

اب اگر انہوں نے روزگار کے لئے پاکستان آنا تھا تو اس کے مواقع تو امریکہ میں پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ پھر اگر وہ صرف گھومنے پھرنے آئی تھیں تو اپنا شوق پورا کرکے واپس کیوں نہیں گئیں؟

یہ مشکوک خاتون خود بتاتی ہیں کہ وہ ایبٹ آباد آپریشن کے فوراً بعد پاکستان آئیں۔ یہ وہ دن تھے کہ جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت خراب ہو گئے تھے۔ اس وقت امریکیوں نے پاکستان سے متعلق اپنے شہریوں کو ٹریول ایڈوائزری جاری کی تھی۔ یہاں وہ القاعدہ اور طالبان کے نشانے پر تھے جبکہ پاکستانی ایجنسیوں نے بھی غیرملکیوں کی سخت نگرانی شروع کی تھی۔

اس دوران پاکستانی ایجنسیوں نے یہاں پر کام کرنے والی غیرملکی این جی اوز کو بھی کام سے روک دیا یا پھر ان کی نگرانی سخت کردی کیونکہ امریکیوں نے اسامہ کو ڈھونڈنے کے لئے ایک بین الاقوامی این جی او کو استعمال کیا تھا۔ پہلے تو اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے کہ اس نازک وقت میں ایک مشکوک امریکی خاتون کو پاکستان آنے کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟

اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے سینکڑوں امریکیوں کو خلاف ضابطہ دبئی سے ویزے جاری کیے تھے۔ اس وقت دبئی میں مقیم پاکستانی سفارتکار امجد شیر نے اپنی حکومت سے اس پر احتجاج بھی کیا تھا تاہم یہ ایبٹ آباد آپریشن سے پہلے کی بات تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس مشکوک خاتون نے اس وقت زندگی کا رسک لے کر پاکستان آنا کیوں ضروری سمجھا؟

جب وہ باقاعدہ جرنلسٹ نہیں اور کسی ادارے کے ساتھ مستقل کام نہیں کر رہیں تو پھر کس لئے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو تو وہ اس کے کرتا دھرتائوں تک پہنچ جاتی ہیں، مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہو تو اس کے رہنمائوں تک رسائی کی کوشش کرتی ہیں اور پی ٹی آئی کی تو نہ صرف میڈیا ٹیم کا حصہ بن جاتی ہیں بلکہ الیکشن سے پہلے اس کے اقتدار کی پیشگوئیاں بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح حساس اور سیکورٹی اداروں میں گھسنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں اور کچھ مہربانوں کی مہربانی سے انہیں وزیرستان، گوادر اور گلگت بلتستان جیسے حساس مقامات تک بھی رسائی مل جاتی ہے۔

رحمٰن ملک اور دیگر کی تصاویر کا ریکارڈ رکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس خاتون نے جو کچھ دیکھا اور کیا ہے، ان میں سے ہر چیز کا ریکارڈ بھی سنبھال رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ امریکہ واپس جاکر سب کے بارے میں اسی طرح کے انکشافات شروع کردیں جو اب وہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے بارے میں کررہی ہیں تو پھر کیا ہوگا؟

یہ مشکوک امریکی خاتون پاکستان اور حب الوطنی کے بعض ٹھیکیداروں کی برکت سے پاکستانیوں کے بارے میں غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹس بانٹ رہی ہیں لیکن وہ بزنس ویزے پر ہیں اور ابھی تک پاکستان کی شہری نہیں بنیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس حیثیت میں پاکستانی سیاست کے اندر مداخلت کررہی ہیں؟

یہ مشکوک امریکی خاتون دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی پر ریسرچ کررہی ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ریسرچ ٹویٹر پر نہیں ہو سکتی بلکہ جس گروہ پر آپ نے ریسرچ کرنی ہو اس کے ساتھ آپ کو ربط ضبط بڑھانا پڑتا اور ان کے لوگوں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کرنا پڑتا ہے۔

اب یہ کیسی ریسرچ ہے کہ جس میں وہ ایک عرصے سے ان دونوں تنظیموں کے بارے میں گالم گلوچ میں لگی ہیں۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی ایم کو امریکہ سے سپورٹ ملتی ہے تو پھر سلامتی کے اداروں نے خود ایک امریکی خاتون کو پی ٹی ایم پر ریسرچ کی اجازت کیسے دی اور اس کے لئے اسے پاکستان میں قیام کی اجازت اور سب کچھ کرنے کی آزادی کس نے دلوائی ہے؟ یوں ہمیں داخلی طور پر عدالتی سطح پر تحقیقات کرانی چاہئیں کہ کس کس فرد اور کس کس پارٹی نے اس مشکوک خاتون کی سرپرستی کی۔

جب تک یہ تحقیقات نہ ہوں اور عدالتی سطح پر اس خاتون کی ڈی بریفنگ نہ ہو، انہیں پاکستان سے جانے نہیں دینا چاہئے ورنہ شاید پھر سب پچھتائیں گے۔