• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’چاکلیٹ کیک فار ڈارک بوائے‘، سابق بھارتی کرکٹر نے ساتھی پر نسل پرستی کا الزام عائد کردیا

فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

سابق بھارتی کرکٹر لکشمن شیوارام کرشنن نے کرکٹ کیریئر کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے نسل پرستی کے کئی واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق سابق لیگ اسپنر نے کیریئر میں درپیش رہنے والے ذہنی دباؤ کی وجوہات میں رنگ پرستی کو بھی اہم وجہ قرار دیا ہے۔

لکشمن شیوارام کرشنن نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو ایک حالیہ انٹرویو کے دوران بتایا کہ پہلا واقعہ جب پیش آیا اِس وقت وہ 14 سال کے تھے اور چیپوک کے بھارتی کیمپ میں نیٹ بولر کے طور پر شامل تھے، ایک سینئر کھلاڑی نے اِنہیں جوتے صاف کرنے کو کہا جس پر وہ چونک گئے۔

اُنہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے سینئر سے جواب میں کہا کہ یہ میرا کام نہیں، آپ نے جو کرنا ہے کرلیں‘، بعد میں معلوم ہوا کہ سینئر کھلاڑی نے اِنہیں گراؤنڈ اسٹاف سمجھ لیا تھا۔

اِن کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو ٹیم میں بھی اِنہیں ’کروپا‘ (گہرے رنگ والے) کہا جاتا رہا، مختلف شہروں میں فیلڈنگ کے دوران بھی شائقین اِن کے رنگ کا مذاق اڑاتے تھے۔

لکشمن شیوارام کرشنن کے مطابق سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ اِن کے 17ویں جنم دن پر پیش آیا جب ایک سینئر کھلاڑی نے چاکلیٹ کیک کے رنگ کو اِن کے رنگ سے جوڑ دیا۔ 

 لکشمن شیوارام کرشنن کا کہنا ہے کہ اس وقت سنیل گواسکر نے اِنہیں تسلی دی تاکہ وہ کیک کاٹ سکیں لیکن اِن کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ لکشمن شیوارام کرشنن کے یہ بیانات بھارتی کرکٹ میں موجود نسل پرستی اور کھلاڑیوں پر ذہنی دباؤ کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید