تجزیہ کاروں کے مطابق کلسٹر بم ایسے ہتھیار ہیں جو وسیع علاقے میں بارودی مواد پھیلاتے ہیں اور خاص طور پر شہری آبادی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے 17 مارچ کو ایرانی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کے قتل کے چند گھنٹوں بعد، ایران نے مرکزی اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں کی ایک لہر داغی، جسے اسلامی پاسدارنِ انقلاب گارڈ (آئی آر جی سی) نے علی لاریجانی کے قتل کا بدلہ قرار دیا۔
اس حملے میں ایسے میزائل استعمال کیے گئے جن میں متعدد وارہیڈز نصب تھے، جو دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔
حملے میں تل ابیب کے قریبی علاقے میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
کلسٹر وارہیڈ روایتی بموں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس میں ایک بڑے دھماکے کے بجائے درجنوں چھوٹے بم لیٹس شامل ہوتے ہیں جو ہدف کے قریب پہنچ کر فضا میں پھیل جاتے ہیں اور وسیع علاقے کو نشانہ بناتے ہیں۔
اسرائیلی میزائل دفاعی پروگرام کے بانی اوزی روبن کے مطابق میزائل کا اگلا حصہ کھل کر چھوٹے بم چھوڑتا ہے جو زمین پر مختلف مقامات پر گرتے ہیں۔ ایک میزائل میں 20 سے 80 تک بم لیٹس ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ہتھیار خاص طور پر ایسے اہداف کے خلاف استعمال ہوتے ہیں جو پھیلے ہوئے ہوں، جیسے فوجی دستے، گاڑیاں یا فضائی دفاعی نظام۔
ایران کا میزائل پروگرام مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں مختلف اقسام کے بیلسٹک اور کروز میزائل شامل ہیں، جنہیں طویل عرصے میں تیار کیا گیا ہے۔
ان میں نمایاں شہاب-3، عماد، قدر-1، خرم شہر سیریز، سجیل، خیبر شکن اور حاج قاسم شامل ہیں۔ اسی طرح ایران کے پاس کروز میزائل بھی موجود ہیں، جن میں سومار، یا علی، قدس، حویظہ اور دیگر شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق کلسٹر نظام کی وجہ سے ان میزائلوں کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر میزائل کو اس کے کھلنے سے پہلے تباہ نہ کیا جائے تو وہ فضا میں متعدد حصوں میں تقسیم ہو کر کئی اہداف پر ایک ساتھ حملہ کرتا ہے، جس سے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
یہ ہتھیار نا صرف زیادہ تباہی پھیلاتے ہیں بلکہ ایک نفسیاتی اثر بھی پیدا کرتے ہیں، کیونکہ ایک ہی میزائل متعدد دھماکوں اور خوف کا باعث بنتا ہے۔
کلسٹر ہتھیاروں پر عالمی سطح پر مکمل پابندی نہیں، تاہم 2008ء کے کنونشن کے تحت 100 سے زائد ممالک نے ان کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ تاہم امریکا، اسرائیل اور ایران اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں ان ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق کلسٹر ہتھیاروں سے ہونے والے 93 فیصد متاثرین عام شہری ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ وسیع علاقے میں پھیلتے ہیں، کئی بم فوری طور پر نہیں پھٹتے، نہ پھٹنے والے بم (duds) برسوں تک زمین میں موجود رہ سکتے ہیں۔
ماہر پیٹرک فروشے کے مطابق یہ نہ پھٹنے والے بم خاص طور پر بچوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اکثر انہیں کھلونا سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں۔
کلسٹر بموں کا استعمال دیگر جنگوں میں بھی دیکھا گیا ہے، بشمول روس-یوکرین جنگ، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اور سوڈان میں تنازعات قابل ذکر ہیں۔
ان ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی سطح پر مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہ فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔