آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دو جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 2اعشاریہ 29فیصد کا اضافہ نہ صرف صارفین کی قوتِ خرید مزید کم ہونے کی طرف اشارہ ہے بلکہ اگر یہ رجحان آنے والے دنوں میں بھی جاری رہتا ہے تو اسے مہنگائی کی ایک نئی لہر کہنا پڑے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے میں 18اشیا مہنگی، سات سستی اور 26کی قیمتیں مستحکم رہیں جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9اعشاریہ 77فیصد پر آگئی۔ قومی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے اور محتاط اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران انڈے، ٹماٹر، مرغی، پیاز، چینی، آٹا اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت 18اشیا کی قیمتیں بڑھیں جبکہ مسور اور چنے کی دال، آلو، لہسن سمیت سات اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ ملک میں مجموعی لحاظ سے مائیکرو اور میکرو دونوں سطحوں پر مارچ سے اب تک معاشی طور پر کووڈ 19نے گہرے اثرات چھوڑے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں گرانی اور ارزانی کا زیادہ تر دار و مدار توانائی کی قیمتوں پر ہے۔ تین ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم سطح پر رہنے کے بعد اب جو واپس بلندی کی طرف جا رہی ہیں اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنا ایک منطقی عمل ہے۔ دوسری طرف حالیہ بجٹ میں تنخواہوں، پنشنوں اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے سے صارفین کی قوتِ خرید میں مزید کمی آنا بھی ایک قدرتی امر ہے تاہم مصنوعی مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے پاس ہر سطح پر مکینزم موجود ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا ملک میں جال پھیلا ہوا ہے جن میں ہزاروں کی تعداد میں عملہ تعینات ہے، ان حالات میں ضروری ہے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرکے مہنگائی کو موثر طور پر روکا جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998