آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کسی شخص کو پسند کرنا، سراہنا، محبت، عزت احترام کرنا اک نارمل سی بات ہے لیکن تعریف و توصیف کے حوالہ سے حدود عبور کر جانا اک انتہائی ابنارمل اور غیر متوازن رویہ ہے۔ہمیں تو یوں بھی ہر مرحلہ ، مقام پر اعتدال اور میانہ روی کا حکم ہے اور یہاں تک کہ عبادت میں بھی ان رویوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے لیکن بہت سے لوگ ’’ہیرو ورشپ‘‘ کی لپیٹ میں آکر خود کو اس حد تک گرا لیتے ہیں کہ ان کی ذہنی، جسمانی، جذباتی، سماجی، روحانی ہیئت، ساخت اور تربیت پر رحم آنے لگتا ہے کہ یہ انداز کسی طرح بھی انسان کے شایان شان نہیں کیونکہ اس طرح کے بیمار رویے پورے کے پورے معاشرہ کو لے ڈوبتے ہیں۔

مخصوص معنوں میں سمجھنے کی کوشش کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ شخصیت پرستی، بت پرستی سے بھی چار ہاتھ آگے کا روگ ہے ۔

بتوں کو پوجنے والے بھی جانتے ہیں کہ مٹی، پلاسٹک، لکڑی یا کسی دھات سے بنا ہوا بت نہ دیکھ سکتا ہے نہ سن سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے نہ محسوس کر سکتا ہے اور تو اور اپنے منہ پر بیٹھی مکھی بھی نہیں اڑا سکتا تو اس کے سامنے جو مرضی کرتے رہو، اس کا دماغ خراب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ بےدماغا ہر قسم کے جذبات سے عاری ہوتا ہے۔

شخصیات کی ’’پرستش‘‘ ان کے دماغ خراب کر دیتی ہے اور ایک معمولی سا فانی انسان خود کو مافوق الفطرت سمجھنے کی حماقت میں مبتلا ہو کر خود اپنا بیڑہ غرق کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ’’پجاریوں ‘‘کو بھی لے ڈوبتا ہے ۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس زمانے کے جرمن اور اٹالین ہٹلر اور مسولینی جیسوں کو کینڈے میں رکھتے تو کیا یہ دونوں اتنے ہی بھیانک انجاموں سے دوچار ہوتے؟ 

ان دو کو بھی چھوڑیں کہ اگر یہ اور ایسے ہی چند اور کرشماتی لیڈروں کو دیوتائوں کی بجائے انسان ہی سمجھا جاتا تو کیا وہ کروڑوں انسان بچائے نہیں جا سکتے تھے جو دوسری جنگ عظیم کی بھینٹ چڑھ گئے ؟تاریخ میں بابائے قوم جیسے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں جو خوشامد پر ڈانٹ دیا کرتے تھے ۔

ایک بار ان کی موجودگی میں کسی جیالے متوالے نے ’’شہنشاہ پاکستان محمد علی جناح‘‘کا نعرہ لگایا تو آپ نےسرعام جھڑک دیا اور سرزنش کی جبکہ خوشامد تو ان لوگوں کی مرغوب ترین غذا ہوتی ہے جو شخصیت پرستی کا محور و مرکز ہو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ شخصیت پرست لوگ انجانے میں ان کے ساتھ بھی ہاتھ کر رہے ہیں ۔

اقتصادیات کا اک اصول ہے ’’افادہ مختتم ‘‘ جس کا اطلاق دولت، عزت، شہرت خوشامد پر نہیں ہوتا کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے کہا گیا ۔"THE MORE YOU HAVE THE MORE YOU WANT"یعنی ان چیزوں کی فراوانی پر ان کی بھوک ختم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے اور پاگل پن کی سرحدیں بھی عبور کر جاتی ہے جس سے آگے وادی جنون کی بربادی شروع ہوتی ہے ۔

خوشامد جس کی خوراک بن جائے وہ انسان نہیں شیطان یا جانور میں تبدیل ہو جاتا ہے، خصوصاً اگر اس کے پاس ’’طاقت‘‘ بھی ہو ۔اس بات کی وضاحت ضروری ہو گی کہ شخصیت پرستی پر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں صرف اور صرف لیڈرز بلکہ ’’سیاسی لیڈرز‘‘ ہیں ورنہ اگر کسی مصور، شاعر، ادیب، کھلاڑی، سنگر، ایکٹر کو دیوانگی کی حدتک چاہنے والے میسر آجائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ کیا کرلے گا؟

اس لئے سیاسی لیڈرز کے حوالہ سے ’’شخصیت پرستی‘‘ خاص طور پر تباہی و بربادی کا سبب بن سکتی ہے اور انسانی تاریخ ایسی بےشمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جب شخصیت پرستوں نے اپنے محبوب کو بھی ذلیل کرا دیا اور خود بھی بری طرح ذلیل و خوار ہوگئے انگریزی کا ایک محاورہ ہے ۔"FLATTERY IS TELLING OTHERS EXACTLY WHAT THEY THINK OF THEMSELVES"اس محاورے میں ’’OTHERS‘‘کی جگہ ’’لیڈرز‘‘ فٹ کر دیں تو بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

یہ بیماری لیڈر کو اک ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس میں وہ مٹی کا پتلا خود کو ناگزیر سمجھنے کے خبط میں یہ بھول جاتا ہے کہ دنیا بھر کے قبرستان اور شمشان گھاٹ ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جن کے نام اور شکلیں تک کسی کویاد نہیں اور اگر مقبرے بھی موجود ہوں تو لوگ وہاں پکنک منانے جاتے ہیں یا حق سیاحت ادا کرنے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شخصیت پرست کون ہوتا ہے ؟بنیادی بات یہ کہ شخصیت پرست وہ ہوتا ہے جس کی اپنی کوئی شخصیت، شناخت یا حیثیت نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہےتو مصنوعی ،کھوکھلی، ادھوری اور مسخ شدہ ہوتی ہے ورنہ وہی بات کہ ....’’دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں‘‘تعظیم تکریم، سینئر جونیئر، چھوٹا بڑا، چاہت، پسندیدگی، والہانہ پن، پیار سب اپنی جگہ لیکن انسانی وقار اپنی جگہ اور ان سب کو ’’شخصیت پرستی ‘‘ کے ساتھ کنفیوژ کرنا انتہائی نامناسب ہو گا۔

لیڈر زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ہے ؟"THE FIRST ONE AMONG THE EQUALS"اور لیڈر جینوئن ہو تو اسی کا پرچارک کا بھی ہوتا ہے ورنہ لیڈر نہیں بہروپیا ہوتا ہے، جگاڑیا ہوتا ہے۔ 

جو اپنے فالورز میں خودی، خودداری، SELF ESTEEMکی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ حوصلہ شکنی کرتا ہے وہ بالآخر سب کے لئے ’’بوسہ مرگ‘‘ ثابت ہوتا ہے ۔اپنے ساتھ اوروں کو بھی لے ڈوبتا ہے ۔