آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاہور قلندرز ورچوئل ہائی پرفارمنس سینٹر کا آغاز

پاکستان سپر لیگ فائیو میں اچھی کارکردگی کے بعد اب توقع ہے کہ اگر ٹورنامنٹ کے بقیہ چار میچ ہوگئے تو لاہور قلندرز کو چیمپین بننے سے روکنا مشکل ہوگا۔چار سالوں سے اپنے پرستاروں کو رلانے والی اس ٹیم نے بالاخر بلندیوں کا سفر شروع کیا لیکن کوروناکی وجہ سے ٹورنامنٹ روک دیا گیا۔پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز ملک کے مقبول ترین ٹورنامنٹ کے ابتدائی چار سالوں میں بدقسمت رہی۔پی ایس ایل میں دنیا کے صف اول اور پاکستان کے مشہور کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود ان کا آخری نمبر آیا۔حیران کن طور پر لاہور قلندرزنے خراب کارکردگی کے باوجود مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔پلیئرز ڈپولپمنٹ پروگرام سے پورے ملک میں ٹیلنٹ ہنٹ کیا پھر لاک ڈاون میں عاطف رانا،ثمین رانا اور عاقب جاوید نے ایک اور منفرد منصوبہ شروع کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

پاکستان سپر لیگ کا ذکر ہو تو لاہور قلندرز ایک نمایاں ٹیم کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گذشتہ چار سیزنز میں زیادہ کامیابی حاصل نہ کر پانے کے باوجود ایک طرف لاہور قلندرز کا پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام اور اس سے نکلنے والے کھلاڑی اس کو سرخیوں میں رکھتے ہیں۔ان کھلاڑیوں میں شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان اور حارث رؤف پاکستان کی ٹیم میں جگہ بنا چکے ہیں۔

لاہور قلندرز کرکٹ میں حیران کن فیصلے کرنے کی وجہ سے شہر ت رکھتی ہے۔پی ایس ایل فائیو میں سہیل اختر کو کپتان بنایا گیا تو ان پر شدید تنقید ہوئی لیکن سہیل اختر نے اپنی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں سے وقار یونس سمیت کئی ناقدین کو خاموش کردیا ۔زیادہ پرانی بات نہیں، پاکستان میں کرکٹ کے بڑے کہہ چکے تھے کہ ملک میں کرکٹ کا ٹیلنٹ یعنی قدرتی باصلاحیت کھلاڑی نہیں ہیں یا پھر اتنی تعداد میں تو یقیناً نہیں ہیں جتنا عام طور پر کہا جاتا ہے۔

ان بڑوں میں سابق کپتان انضمام الحق اور شاہد آفریدی کے علاوہ سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی جیسے نام شامل تھے۔ پھر 2016 میں فرنچائز کرکٹ یعنی پاکستان سپر لیگ کی آمد ہوئی تو اس میں شامل لاہور قلندرز کی ٹیم نے ٹیلنٹ تلاش کرنے کا آغاز کیا۔چار برس کے بعد اب لاہور قلندرز کا منصوبہ باقاعدہ پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام میں تبدیل ہو چکا ہے اور ایک عارضی اکیڈمی سے وہ ہائی پرفارمنس سینٹر تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہائی پرفارمنس سینٹر بناکر اس فرنچائز نے اپنے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پلیئرز ڈیو لپمنٹ پروگرام کی دریافت دائیں ہاتھ کے تیز رفتار بولر حارث رؤف نے آسٹریلیا کی ٹی 20 لیگ بِگ بیش میں میلبورن ا سٹارز کی نمائندگی کرتے ہوئے تباہ کن بولنگ کی۔ 

اس کارکردگی کی بنا پر حارث نے بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ ٹی 20 سیریز میں پاکستانی ٹیم میں جگہ بنائی۔اسی سال پاکستان کے دورے پر آنے والے برطانیہ کی مشہور میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کی ٹیم کے خلاف میچ میں لاہور قلندرز کے لیگ اسپنر معاذ خان نے اوپننگ بیٹسمینکی وکٹ حاصل کی۔ وہ بھی لاہور قلندرز کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی ہی دریافت ہیں۔جب وہ یہاں تھے تو واپس آسٹریلیا میں ان کے متبادل کے طور پر دلبر حسین کو ٹیم میں شامل کیا گیا جو خود بھی لاہور قلندرز کے اسی پروگرام کے ذریعے سامنے آئے تھے۔

عاطف رانا لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر ہیں۔ وہ ٹیم کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے مقاصد اور اہداف کے حوالے سے انتہائی واضح اور جامع منصوبہ بندی رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پروگرام میں سفارش اور ذاتی پسند یا ناپسند کی کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی وہ اس میں کھلاڑیوں سے کوئی فیس وصول کرتے ہیں۔اس پروگرام کے تحت لاہور قلندرز ملک کے مختلف شہروں میں دو روزہ کیمپ لگاتے ہیں جہاں سے ٹرائلز کے ذریعے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔16 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے کر ٹورنامنٹ کروایا جاتا ہے۔عاطف رانا حارث رؤف اور دلبر حسین کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حارث رؤف کی مثال ہمارے ڈویلپمنٹ پروگرام کی بہترین عکاسی ہے۔وہ نہ تو سسٹم کا حصہ تھا اور نہ ہی اسے پاکستان کرکٹ نے اپنایا تھا۔

دلبر حسین کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہدلبر نے تو کبھی کلب کرکٹ بھی نہیں کھیلی تھی۔عاطف رانا کا کہنا ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کا آسٹریلیا کے بِگ بیش میں کھیل جانا ان کے پروگرام کی افادیت اور اہمیت کا ثبوت ہے۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے باجوڑ کے رہائشی معاذ خان نے بھی کبھی بڑے لیول پر کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ انھوں نے یوں ہی ٹہلتے ٹہلتے ایک روز خیبر ایجنسی کے لیے لاہور قلندرز کے ٹرائلز دئیے، منتخب ہوئے اور ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں لیگ ا سپن بولنگ کر اتے ہوئے ہیٹ ٹرک داغ دی۔ وہ آسٹریلیا میں بھی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

لاہور قلندرز نے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کے بعد لاہور قلندرز ورچوئل ہائی پرفارمنس سینٹر کا آغاز کر دیا ہے ۔ عاطف رانا کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے ابھی اسی صورتحال میں رہنا ہے ، سب کام آن لائن ہو رہے ہیں تو ورچوئل ہائی پرفارمنس سنٹر کا کام بھی ممکن ہے ۔ ڈائریکٹرعاقب جاوید کا کہنا ہے کہ حالات کنٹرول ہوتے ہی کھلاڑیوں کو میدان میں لایاجائے گا ۔قلندرز کی انتظامیہ نے ایک اور منفرد اقدام کے تحت ورچوئل ہائی پرفارمنسسینٹر کا آغاز کر دیا ہے اور کھلاڑیوں کی آن لائن اسسمنٹ کے بعد انہیں ٹپس دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں قلندر کے سکندر پروگرام کا کام شروع کیا گیا ہے ۔ 

عاطف رانا کا کہنا ہے کہ کویڈ 19 کی وجہ سے ہائی پرفارمنس سینٹرمیں سرگرمیاں شروع نہیں کر سکتے تھے ابھی اسی صورتحال کے ساتھ چلنا ہے ، اس لیئے ورچوئل کام شروع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کام آن لائن ہو رہا ہے تو ہائی پرفارمنس سینٹر کا کام بھی ممکن ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ لاہور قلندرز کے دیگر منفرد کاموں کی طرح ورچوئل ٹریننگ بھی کامیاب ہو گی ۔ قلندرز کے سکندر کا انتخاب ہو چکا تھا ۔ اب انہیں فارغ بٹھایا نہیں جا سکتا تھا ۔۔

لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ قلندر کے سکندر پروگرام کے کھلاڑیوں کو ایچ ای سی کے سلیبس کے مطابق پڑھایا جائَے گا ۔ پہلے 8 بولرز کی ویڈیوز کےذریعے ٹیکنیکل اسسمنٹ کی گئی ۔ انالسٹ کے ساتھ مل کر اس اسسمنٹ کے مطابق ٹپس دی گئی ہیں ہفتہ اور اتوار کو یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ 16 ہفتوں میں پروگرام مکمل ہو گا ۔ بیٹنگ ، اسپن بولنگ ، فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ کی ورچوئل ٹریننگ دیں گے ۔ اور جونہی حالات کنٹرول ہوں گے کھلاڑیوں کو میدان لایا جائے گا ۔اس پروگرام کو ملک بھر میں پذیرائی ملے گی اور ملک کا مزید ٹیلنٹ پاکستان کے سسٹم میں شامل ہوگا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید