آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرشکیل الرحمٰن کی گرفتاری لاقانونیت کی بدترین مثال، رہا کیا جائے، سیاسی رہنما

اوکاڑہ / کراچی / چارسدہ (نمائندگان جنگ) سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری لاقانونیت کی بدترین مثال ہے انہیں فوری رہا کیا جائے ۔اوکاڑہ کی سیاسی شخصیات نے ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کی مسلسل اسیری کو بلاجواز اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے لاقانونیت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ آزادرکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے وہ تمام طبقات کر رہے ہیں جو آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کسان ونگ کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج اور لیگی رکن پنجاب اسمبلی چوہدری منیب الحق نے کہا میر شکیل الرحمٰن کو جس طرح بے بنیاد،جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے تحت انتقام کا نشانہ بنایا گیا اس کی مثال تو آمریت کے دور میں بھی ملنا مشکل ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما و سابق صوبائی وزیر محمد اشرف خان سوہنا نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری سے نیب متنازعہ ترین ادارہ بن گیا ہے،اس بلاجواز گرفتاری سے ایسی تاریخ لکھی گئی ہے جس نے ملکی تاریخ کو مسخ کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی ٹکٹ ہولڈر سید علی حسنین نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے تمام ایوانوں میں میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کیلئے آواز اٹھائی گئی لیکن لگتا ہے کہ عمران خان اور اس کی خواہ مخواہ کی حکومت لوہے کے کان رکھتی ہے جسے کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔جماعت اسلامی اوکاڑہ کے نائب امیر ملک افضل اعوان نے کہا کہ میرشکیل الرحمٰن ہی نہیں پاکستان کی صحافت اور آزادی اظہار رائے اس وقت حکومتی قید میں ہے،جماعت اسلامی ہر فورم پر میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے اور ان کی رہائی تک یہ فریضہ ادا کرتی رہے گی۔سنیئر سیاست داں اور مسلم لیگ کے سابق سکریٹری جنرل سید ضیاء عباس نے کہا ہے کہ میڈیا ملک کا چوتھا ستون ہے مگر موجودہ حکومت کے دور میں یہ ستون تباہی کےدہانےپر پہنچ گیا ہے،ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے ایڈ یٹر انچیف میر شکیل الرحمان کئی ماہ سے پابند سلاسل ہیں انہیں جس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے وہ نیب کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں آتا ہے،حکومت کی کنٹرول میڈیا پالیسی کے باعث الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سخت مالی بحران سے دوچار ہیں، ہزاروں ملازمین فارغ ہوچکے ہیں جس قدر بے روز گاری اس شعبے میں سامنے آئی ہے کوئی دوسرا شعبہ اتنا متاثر نہیں ہوا، ملازمین کئی کئی ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا انڈسٹری کے مسائل حل کرے جس سے ہمیشہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور حکومتوں کی غلطیوں کی نشان دہی کی جس کا مقصد ملک اور قوم کی بہتری ہے۔ قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام پر مسلط کی گئی ہے جس نے عوام کو تعلیم صحت سمیت کسی بھی شعبے میں سہولت فراہم نہیں کی ۔ حکومت اپنی ناکامی 18ویں ترمیم ،این ایف سی ایوارڈ اور اب کورونا کے پیچھے چھپا رہی ہے ،حکومت کی جانب سے 35سالہ پرانے ذاتی پراپرٹی کیس میں میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرنا میڈیا کنٹرول کرنے کی سازش ہے ۔ شیر پائو کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے 35سالہ ایک پرانی کیس میں انکوائری مکمل ہونے سے قبل میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا جو سراسرزیادتی ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید