آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حیرانی ہے نیب کرپشن پر کارروائی کیوں نہیں کررہا، خرم شیر زمان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ حیرانی ہے نیب کرپشن پر کارروائی کیوں نہیں کررہا۔

کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے انصاف ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ، آفتاب جہانگیر، ارسلان تاج اور دیگر اراکین شریک تھے۔

پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 10 سالوں سے آر او پلانٹ میں کرپشن کی گئی ہے، حیرانی ہے کہ نیب کرپشن پر کارروائی کیوں نہیں کررہا۔

خرم شیر زمان نے کہا کہ آر او پلانٹ کا بجٹ 13ارب سے بڑھا کر 33ارب کردیا گیا جبکہ منصوبے سے 278 آر او پلانٹ کم لگائے گئے اور اسی منصوبے پر اربوں روپے مرمت کے نام پر بٹورے گئے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 33ارب روپے کی سندھ حکومت نے اس منصوبے میں کرپشن کی ہے، زرداری نے سندھ میں ایشا کاسب سے بڑے آر او پلانٹ لگایا اور افتتاح کے بعد سےہی وہ آر او پلانٹ بند ہے، زرداری نے ایشیا کی سب سے بڑی واٹر کرپشن کی۔

خرم شیر زمان نے کہا کہ اس سارے معاملے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ملوث ہے، تھرپارکر اور سیہون میں آر او پلانٹ لگائے گئے وہ سب بند ہیں، اس کے علاوہ منچھر جھیل پر عدالتی حکم پر چالیس پلانٹ لگائے جس میں سے 38 بند ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ مٹھی، چھاچھرو ،اسلام کورٹ، بدین ،ٹھٹھہ میں لگائے گئے آر او پلانٹ بھی بند ہیں۔ جس کو منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا وہ زرداری کا چہیتا ہے، بلاول ڈیڈی سے پوچھیں کہ یہ کرپشن کیوں ہوئی ہے۔ منصوبے میں جتنے بھی لوگ شامل تھے ان سب کے لندن میں فلیٹس ہیں۔

پریس کانفرنس میں خرم شیر زمان نے کہا کہ شرجیل میمن، جام خان شورو، اویس ٹپی اور ناصر شاہ سے تحقیقات کی جائیں، مراد علی شاہ نے 2018 میں آر او پلانٹ کو کھولنے پر دوبارہ بڑی رقم خرچ کی، آئندہ ہفتے نیب کے دفتر جائیں گے اور نئی درخواست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب اور وزیر اعظم سے گزارش کریں گے کہ واٹر کرپشن کا نوٹس لیں۔

دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پولیس بھی آپ کی ہے آئی جی بھی آپ کا ہے، جن افسران سے مسئلہ تھا وہ اب یہاں نہیں رہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اب پولیس میں آپ کے من پسند افسران ہیں، سندھ میں 25 مختلف ڈاکوئوں کے گروہ ہیں، یہ ڈاکو رات کو پولیس کے ساتھ گشت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیاری گینگ وار کی طرح کچے کو نو گو ایریا بنادیا ہے ، کچھ افراد کو ان ڈاکوؤں نے بھتہ حاصل کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔

حلیم عادل نے کہا کہ پورے سندھ میں رینجر کو خصوصی اختیارات دیے جائیں، ان ڈاکوؤں کو ان کے وزرا کی مدد حاصل ہے، سندھ پولیس میں سفارشی افسران کی تعیناتیاں شروع کردی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رائو انوار کی ٹیم کو بھی کراچی میں تعینات کردیا گیا ہے۔ 

قومی خبریں سے مزید