آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عاصمہ خان

ایک گاؤں میں غریب لکڑہارا رہتاتھا۔وہ روزانہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور انھیں بیچ کر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتا تھا۔ لکڑہارا بہت غریب لیکن ایمان دار، رحم دل اور اچھے اَخلاق والا آدمی تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے کا م آتا اور بے زبان جانوروں ، پرندوں وغیرہ کا بھی خیال رکھتا تھا۔

ایک دن جنگل میں لکڑیاں اکٹھّی کرنے کے بعد وہ کافی تھک گیا اور ایک سایا دار درخت کے نیچے سُستانے کے لیے لیٹ گیا۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظر اوپر پڑی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ اس نے کیا دیکھا کہ ایک سانپ درخت پر بنے ہوئے گھونسلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس گھونسلے میں کوّے کے بچّے تھے جو سانپ کے ڈر سے چیٖں چیٖں کررہے تھے۔ بچّوں کے ماں باپ دونوں دانہ چگنے کہیں دور گئے ہوئے تھے۔ رحم دل لکڑ ہارا اپنی تھکان بھول کر فوراًاُٹھ بیٹھا اور کوّے کے بچّوں کو سانپ سے بچانے کے لیے درخت پر چڑھنے لگا ۔ 

سانپ نے خطرہ بھانپ لیا اور گھونسلے سے دور بھاگنے لگا۔ اسی دوران کوّے بھی لوٹ آئے ۔ لکڑہارے کو پیڑ پر چڑھا دیکھا تو وہ سمجھے کہ اس نے ضرور بچّوں کو مار دیا ہوگا۔ وہ غصّے میں کائیں کائیں چِلّا نے لگے اور لکڑہارے کو چونچیں مارمار کر اَدھ مَرا کردیا ۔ بے چارہ لکڑہارا کسی طرح جان بچا کر نیچے اُترا اور چین کی سانس لی۔

لیکن جب کوّے اپنے گھونسلے میں گئے تو بچّے وہاں دبکے بیٹھے تھے، بچّوں نے ماں باپ کو ساری بات بتائی اور تب ہی انہوں نے دیکھا کہ سانپ بھی درخت سے اُتر کر بھاگ رہا ہے۔ اب کوّوں کو اپنی غلَطی کا احساس ہوا ۔ وہ بہت زیادہ شرمندہ ہوئے ۔ کوّے لکڑہارے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ کوّے نے گھونسلے میں رکھا ہوا اصلی موتیوں کا قیمتی ہار جو انھیں کچھ ہی دن پہلے گاؤں کے تالاب کے کنارے مِلا تھا۔ اُس ہا ر کو اُٹھا کر لکڑہارے کے آگے ڈال دیا اور تھوڑی دوردرخت پر بیٹھ کر کائیں کائیں کرنے لگے، جیسے کوّے اپنے پیارے بچّوں کی جان بچانے پر رحم دل لکڑہارے کا شکریہ ادا کررہے ہوں ۔ غریٖب لکڑہارا بھی قیٖمتی ہار پاکر بہت خوش ہوا اور اُس نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

جب لکڑہارا لکڑیوں کا گٹھّا سر پر اُٹھا کر اپنے گاؤں کی طرف چلا تو کوّے بھی اس کے اوپر کائیں کائیں کرتے اُڑرہے تھے۔ لیکن چونچ مارنے کے لیے نہیں بلکہ اُسے دور تک الوداع کرنے کے لیے۔