آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سکھر میں اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے ساتھ اسٹریٹ کرائم چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہر کی گنجان آبادی والے علاقے میانی روڈ اور باغ حیات شاہ کے گھر اور اور میانی روڈ پر تاجر کی دوکان میں دن دیہاڑے اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کی وارداتوں اور سکھر، روہڑی پنوعاقل سمیت دیگر علاقوں میں موٹر سائیکل چھینے یا چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے پولیس کی کارگردگی پر سوالیہ نشان لگادئیے ہیں۔ 

سکھر ضلع کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو 8 افراد اغواء یا غائب ہیں جن کا سراغ لگانے میں پولیس کو تاحال ناکامی کا سامنا ہے۔ ایک جانب پولیس ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں کررہی ہے تو دوسری جانب جرائم کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے خاص طور پر اغواء کی وارداتیں جن کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا گیا ۔ان وارداتوں کا دوبارہ شروع ہو جانا باعث تشویش ہے ۔سکھر میں مثالی امن قائم کرنے اور جرائم کے ساتھ معاشرتی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ایس ایس پی تنویر حسین تنیو اور امجد احمد شیخ نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا اور امن و امان کی فضاء کو بحال رکھا لیکن اس کے بعد ضلع میں پولیس کی گرفت کمزور پڑتی گئی اور اب صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ 

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ امن و امان کی فضاء کو بحال رکھا جائے۔ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر پولیس ترجمان کی جانب سے پریس ریلیز جاری کیا جاتا ہے کہ اتنے جرائم پیشہ پکڑے گئے ڈاکو زخمی ہوگئے یا کبھی کوئی ڈاکو مبینہ مقابلے میں مارا بھی جاتا ہے۔ ان کارروائیوں کے باوجود جرائم کا تیزی سے بڑھنا حیران کن ہے۔ ایس ایس پی سکھر کو اپنی پالیسیوں اور تھانوں پر تعینات پولیس افسران کا کارگردگی کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ جرائم کی وارداتوں کا قلع قمع کیا جاسکے ۔

اس وقت پولیس کی ڈاکوؤں و جرائم پیشہ عناصر پر گرفت کمزور پڑنے کی وجہ سے شہر ونواحی علاقوں میں جرائم، اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے ساتھ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز قبل پرانا سکھر میں گھر کے باہرچارپائی بچھاکر سونے والے 2 افراد کو اغوا کرلیا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ پرانا سکھر کے علاقے مریم کالونی کے رہائشی 2خاکروبوں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ 

مغویوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد رات کو بیگاری بند کے نزدیک چارپائی بچھاکر سوئے تھے۔صبح چارپائی خالی تھی، دونوں سالے اور بہنوئی ہیں۔ ان ، دونوں افراد کی چپلیں اور دیگر سازو سامان چارپائی کے پاس موجود ہے۔پولیس کو مطلع کیا ہے۔ خدشہ ہے کہ انہیں اغواء کیا گیا ہے۔دوسری جانب مذکورہ دونوں افراد کے اغوا ہونے کے بعد ضلع بھر سے اغواہونے والے افراد کی تعداد 8ہوگئی ہے، اس سے قبل 6افرادکو اغوا کیا جاچکا ہے۔اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث شہریوں و تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہےجب کہ لوگ خوف و ہراس کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔شہری وسماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے بعد اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہوگئی ہیں۔ ضلع میں امن و امان کی فضاءمخدوش ہو رہی ہے۔ 

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی و دیگر بالا حکام سے اپیل کی ہے کہان تمام واقعات کا سخت نوٹس لیا جائے اور امن و امان کی فضاء کو برقرار رکھنے کے لیےفوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں و جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے، اسٹریٹ کرائم اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں میں پائی جانے والی خوف کی فضاء کا خاتمہ ہوسکے۔ پولیس کے مطابق 8 افراد غائب ہیں، جن کے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں، ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تمام لوگ اغوا ہوئے ہیں یا خود کہیں چلے گئے ہیں۔، پولیس ہر زاویے سے تحقیقات کررہی ہے۔

دوسری جانب شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تاجر برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے تاجر تنظیموں کے عہدیداران پر مشتمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ موٹر سائیکل چوری اور مختلف گھروں اور دکانوں میں چوری کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں۔ سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر ایک بڑا کاروباری حب ہے۔ کرائمز کے اضافے سے تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اجلاس میں محمد زبیر قریشی، بابو فاروقی، عبدالباری انصاری، شریف ڈاڈا، محمد منیر میمن، رئیس قریشی، محمد رضوان قادری، محمد شبیر میمن، لالہ محب، امداد جھنڈیر، شفیق الرحمن، صداقت خان، ڈاکٹر سعید اعوان، و دیگر نے شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران تاجر برادری شدید پریشانی سے دوچار ہے تو دوسری طرف کرائمز میں اضافے نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 

سکھر شہر ہی نہیں اندرون سندھ میں بھی جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جو سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ان کی چوائس پرتعینات کیے گئے آئی جی سندھ ذمہ دار اور فرض شناس افسران کی ٹیم نہیں لاسکے جس سے سندھ میں جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ تاجر رہنماؤںنے اے آئی جی سکھر ریجن، ڈی آئی جی سکھر و دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ سکھرضلع میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کا نوٹس لے کر امن و امان کے قیام کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ تاجروں اور شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جن پولیس افسران کو غفلت، لاپرائی یا دیگر شکایات پر تھانوں سےبہ طور سزا ہٹایا جاتاہے، انہیں کچھ ہی دنوں بعد دوبارہ انہی تھانوں یا اس سے بھی بہتر تھانے پر تعینات کردیا جاتا ہے۔ ماضی میں اگر کسی ایس ایچ او کو معطل کرکے تھانے سے ہٹایا جاتا تھا تو اسے کئی ماہ تھانے پر تعیناتی تو دور کی بات ہے معطلی ختم نہیں ہوتی تھی لیکن اب صورتحال اس کےبالکل برعکس ہے۔ 

معطل کیے جانے والا پولیس افسر چند روز میں نا صرف بحال بلکہ دوبارہ تھانے پر تعینات کردیا جاتا ہے۔ہمارے خیال میں اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر بہتر ہوگا کہ کسی افسر کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے کیونکہ اس طرح کی کاروائی کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے۔سندھ پولیس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید