آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جھگڑےکی جڑ FATF قانون ہے: شیری رحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن کہتی ہیں کہ جھگڑےکی جڑ نیب قانون نہیں ایف اے ٹی ایف قانون ہے۔

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی رعایت نہیں مانگی، حکومت نے بلوں کی منظوری کے لیے ہم سے رابطہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف اےٹی ایف قانون میں ترمیم نہ کر کے انہوں نے دھوکا دیا، جو ایف اےٹی ایف نہیں مانگ رہا تھا، وہ ترمیم کی گئی، ایف اےٹی ایف کی تجاویز میں نہ معاشی دہشت گردی، نہ 90 دن تک لاپتہ کرنے کا ذکر تھا، اس میں جو ضروری ترمیم کی تو وہ کیوں نظر نہیں آئی؟

شیری رحمٰن نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ اکثریت کا غلط استعمال نہیں ہو گا، این آر او کون چاہتا ہے؟ نیب کو اپنے پاس رکھیں، ہم نے ان سے کوئی رعایت نہیں مانگی، یہ اپنےاین آر او کا آرڈیننس لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا وتیرہ ہے کہ اس نے ہر چیز کا ڈٹ کر سامنا کیا، زرداری صاحب کا فون آیا، میں 11 سال جیل کاٹ چکا ہوں، کیا میں ان سے این آر ا و مانگوں گا؟ کوئی ایسی ترمیم نہیں ہو گی جو عوام کے حقوق کی دھجیاں اڑائے، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان پہلے بھی تھا لیکن ہم نے خاموشی سے اس سے نکالا۔

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پہلے بھی پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلا گیا، تباہی سرکار نے پارلیمان کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کی، جھگڑا نیب قانون کا نہیں بلکہ ایف اے ٹی ایف قوانین بغیر مشاورت کے پیش کرنا تھا، اپوزیشن نے جو ترامیم دیں وہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بلز کے ساتھ پیش ہی نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر دھچکا لگا، حالانکہ حکومت نے خود ہماری ترامیم کو درست کہا تھا، پارلیمنٹ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی ہے، ہم نے سینیٹ ممبرز کو بلا لیا کہ ہم ان بلز کو بغیر ترامیم کے منظور نہیں ہونے دیں گے، اس کے بعد حکومت نے ہماری ترامیم پر اتفاق کیا اور بلز آج سینیٹ سے منظور ہوئے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ جھگڑے کی جڑ نیب قوانین نہیں بلکہ ایف اے ٹی ایف قوانین میں ان کی جانب سے دھوکے کی وجہ ہے، کمیٹی میں جو ترامیم ہوئیں وہ پاکستانی شہریوں کے حقوق کا تحفظ تھا جو ان بلوں میں نہیں تھا، ہمیں دھچکا لگا تھا کہ نہ اکانامک ٹیررازم تھا نہ 90 دنوں میں غائب کروانے کا منصوبہ تھا۔

یہ بھی پڑھیئے: وزیرِاعظم عمران خان فلاپ ہوچکے، شیری رحمٰن

انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کہ خاطر ان سے بات کی اور کہا کہ سینیٹ اس بدنیتی کو پاس نہیں کرے گی، افسوس کہ وہ وقت نہیں کہ ان کے پاس اکثریت ہو اور یہ پاکستان کو روند دیں، اپنا نیب یہ اپنے پاس رکھیں، سب بھگت رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ حکومت ہمارے پاس آئی تھی، نیب سے متعلق خود کوئی ڈرافٹ نہیں لا سکے، اپنی این ار او کا آرڈیننس واپس لے آئے جو وہ چاہتے ہیں، ہم نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں، پاکستانی عوام کے لیے اپوزیشن نے اپنا فریضہ پورا کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ وزراء کو شرمناک تقریریں نہیں کرنی چاہئیں، پیپلز پارٹی ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، ایسا قانون منظور نہیں ہوگا جو عوام کے حقوق کی دھجیاں اڑا دے، یہ پارلیمنٹ کو حقارت سے دیکھتے ہیں، پارلیمان کا یہ غلط استعمال نہ کریں۔

شیری رحمٰن نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں صدارتی سسٹم نہیں، پاکستان پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا ہے، تباہی سرکار نے پارلیمان کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید