آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گرمی اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ اب تو نہاتے نہاتے بھی پسینہ آجاتاہے۔پنکھے نہ چلیں تو دماغ چلنا شروع ہوجاتاہے اور بندہ ایسی ایسی باتیں کرنا شروع ہوجاتاہے جنہیں سن کرچھ سات منٹ بعد سمجھ آتی ہے کہ کیا بونگی سرزد ہوگئی ہے۔ میرا ایک دوست گرمی کے موسم میں اپنے تمام تر ہوش و حواس پورے اہتمام سے کھو بیٹھتاہے۔ کل چھ گھنٹے تک لائٹ بند رہی تو اس کی باتیں سننے والی تھیں۔ فریج میں چونکہ ٹھنڈا پانی نہیں تھا لہٰذا آفس بوائے سے کہنے لگا، جائو بیس روپے کی برف لے کر آئو لیکن ٹھنڈی لانا۔یہ انتہائی سخت موسم ہے لیکن آپ نے کئی ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو اس موسم میںبھی کچھ ایسی چیزیں پسند کرتے ہیں جنہیں نارمل انسان کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔مثلاً میرے محلے دار سلیم صاحب جون جولائی میں بھی روز چار انڈے کھاتے ہیں، کل مجھے انہیں کہنا ہی پڑا کہ حضور بس کردیں، اِس موسم میں تو چیل بھی انڈے چھوڑ دیتی ہے۔قبلہ نے ابھی تک گیزر بندنہیں کیا اور پانی گرم کرکے نہاتے ہیں، وجہ پوچھی تو فرمایا’گرم پانی سے نہانا انتہائی فائدہ مند ہے، اس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔‘ ‘ بے اختیار پوچھنا پڑا کہ ہڈیوں کے اوپر گوشت بھی تو ہوتاہے ، اُس کی کیاحالت ہوتی ہے؟بے نیازی سے بولے’سڑ جاتاہے، لیکن بڑے مقاصد کے لیے چھوٹی چھوٹی قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں‘۔

ہر ذی شعور بندے کی طرح میری بھی گرمیوں سے جان جاتی ہے۔ باریک سے باریک کپڑے بھی پہنے ہوںتو محسوس ہوتاہے رضائی اوڑھی ہوئی ہے۔پینٹ شرٹ پہننے والے حضرات اس موسم میں مجاہد کہلانے کے مستحق ہیں۔پینٹ پہننے کے لوازمات سخت گرمی میں جب اپنا اثر دکھاتے ہیں تو یہ اِدھر اُدھر ٹہل کر ٹائم پاس کرتے ہیں۔رہی سہی کسر بوٹ اور جرابیںنکال دیتی ہیں۔ مجبوری ہے، پینٹ کے نیچے قینچی چپل پہننے کا رواج نہیں لہٰذا بوٹ اورجرابیں پہن کر گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ چلو یہ تو کسی حد تک برداشت ہوہی جاتا ہے لیکن اس بدترین موسم میں کوٹ اور ٹائی کا استعمال صر ف پہننے والے کو ہی نہیں ، دیکھنے والے کو بھی خارش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود اچھی ڈریسنگ کے شوقین سخت گرمی میں بھی کوٹ ٹائی پہنتے ہیں۔ سنا ہے گرمی میں پہنا جانے والا کوٹ ’ٹھنڈا کوٹ‘ کہلاتاہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے گرمیوں کے لیے ٹھنڈا ہیٹر یا ٹھنڈی رضائی کا لفظ استعمال کیا جائے۔ کوٹ تو کوٹ ہے،یہ بھلا کیسے ٹھنڈا ہوسکتاہے، میں نے اپنے ایک دوست کا ٹھنڈا کوٹ ٹرائی کے لیے پہن کر دیکھا تو میرے رونگٹے بیٹھ گئے۔

اصل میں کچھ چیزیں دنیا کی مجبوری ہوتی ہیں، ہمہ وقت ٹائی کوٹ میں ملبوس افراد عموماً گھر میں’بنیان اورکچھا‘ پہن کر گھوم رہے ہوتے ہیں۔کسی دودھ دہی والے پہلوان کی دکان پر بھی آپ کو زیادہ تر ٹائی پہنے میڈیکل ریپ ہی نظر آتے ہیں جو صبح ڈیوٹی پر جانے سے پہلے بڑا گلاس لسی کا چڑھا کر نکلتے ہیں۔اس گرم ترین فضا میں ہر بندہ اپنے معمول کے کام جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ موسم کی وجہ سے نہ کسی کا لباس متاثر ہوا ہے نہ محنت۔ مزدور آج بھی دھوپ میں مزدوری کر رہا ہے۔ تندور والاآج بھی جہنم کے کنارے کھڑا روٹیاں لگا رہا ہے، ٹھیلے والے، ریڑھی والے سب لوگ اپنے کام میں مصروف ہیں، ہاں اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ چہروں کی بشاشت میں فرق آگیا ہے، تھکن کا احساس زیادہ ہونے لگا ہے اورسایہ دار جگہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔کاش کبھی گرمیاں، سردیوں میں بھی آئیں تو لطف دوبالا ہوجائے۔ویسے تو زندہ دل لوگ گرمیوں میں بھی نئی نئی دلچسپیاں تلاش کر لیتے ہیں مثلاً میرا دوست اپنے دفتر میں اپنی میز کے نیچے پانی کی بالٹی میں پچیس روپے کی برف ڈلوا کر اس میں پائوں رکھ کر اطمینان سے سارا دن کام کرتاہے۔ ایک دن میں نے اس کی بالٹی میں عجیب سا کالے رنگ کا پانی دیکھا ۔ پہلے تو لگا کہ موصوف نے پائوں دھوئے بغیر بالٹی میں ڈالے ہوئے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ حضرت نے پانی میں فالسے گھولے ہوئے ہیں۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ فالسے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔میرے منہ سے بے اختیار نکلا…’فالسے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا‘۔مجھے لگتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے گرمیاں انسان کی اصلیت ظاہرکرنے کے لیے بنائی ہیں۔ گرمیوں میںباآسانی پتا چلا یا جاسکتا کہ کون سا بندہ اصل میں بہت غصے والا ہے، کون سا زیادہ جلدی ’تپ‘ جاتاہے، کس میں قوت برداشت کی کمی ہے، کون صفائی پسند ہے، کون روز نہاتاہے، کون خوش لباس ہے، کون اے سی کے بغیر زیرو ہے، کون پنکھے کی نعمت کو سمجھتاہے، کون لائن مین سے ملاقات کے لیے میٹر کے اوپر کاغذ لکھ کر چپکاتاہے…اور کون موسم کی پروا کیے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیتاہے۔اس کے باوجودیہ گرمیاں ہی ہیں جو ہمارے لیے آم لاتی ہیں، تربوز لاتی ہیں، گرما لاتی ہیں، فالسہ لاتی ہیں، جامن لاتی ہیں۔ پھلوں کے حوالے سے گرمیوں سے اچھا موسم کوئی نہیں، لیکن اخراجات کے حوالے سے بھی گرمیوں سے برا موسم کوئی نہیں۔ یہ پانی والی موٹر کے خراب ہونے کا موسم ہے، ٹرانسفارمر اُڑنے کا موسم ہے، ایئرکولر کی خس بھروانے کا موسم ہے، اے سی کی گیس بھروانے کا موسم ہے، یو پی ایس کی بیٹری تبدیل کروانے کا موسم ہے ۔ جن گھروں کے فریج اس موسم میں کولنگ نہیں کرتے ان گھروں کی بیگمات کو چاہئے کہ اپنے شوہروں پر نظر رکھیں جو آتے جاتے ہر دو منٹ بعد فریزر میں منہ دے کر ٹھنڈحاصل کرنےکی کوشش کرتے رہتے ہیں۔شادی شدہ لوگوں کے لیے گرمیوں کا موسم کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ خواتین کو داد دینی چاہئے جو آدھی گرمیاں چولہے کے سامنے کھڑے ہوکر گزار دیتی ہیں۔ ویسے تو ایسے مردوں کی بھی کمی نہیں جو ’مدری روٹیوں‘ کی آس میں تندور پر ڈیڑھ میل لمبی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود زیادہ نمبر خواتین کے ہی بنتے ہیں۔ ایسی خواتین واقعی قابل تعریف ہیں جن کا آدھا دن چولہے پر گزرتا ہے…اور آدھا دن بچوں کو سنبھالتے ہوئے۔ایسے میں اگر وہ شوہرحضرات کی خواہشات کا احترام نہ کرتے ہوئے ایک آدھ گستاخی کر بھی جائیں تو اسے درگزر کرنا چاہئے اورروایات سنانے کی بجائے ٹھنڈے پانی سے نہا کر سوجانا چاہئے۔