آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شدید گرمی اور حبس کے اِس موسم میں بارشیں بارانِ رحمت ثابت ہونے کے بجائے انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے باعثِ زحمت بن گئی ہیں۔ مسلسل دو روز ہونے والی شدید بارشوں نے بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ شدید بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی، چھتیں گرنے، ڈوبنے اور کرنٹ لگنے سے 20افراد جاں بحق ہو گئے۔ بلوچستان کے 21اضلاع متاثر ہوئے، مکران کوسٹل ہائی وے کا پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا، نائی گج ڈیم کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، گاج ندی میں پانی کی سطح 28فٹ بلند ہونے سے کچے گھر منہدم ہوگئے، سامان اور مویشی بہہ گئے، پل اور سڑکیں بہہ جانے سے کوئٹہ کا سندھ اور پنجاب سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ مون سون کی جاری بارشوں اور مزید بارشوں کی پیش گوئی کے مطابق تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ صرف بلوچستان ہی نہیں، گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والی بارشوں نے سندھ اور اُس سے پہلے پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والی بارشوں نے پنجاب حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی پول بھی کھول دی ہے۔ پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے کہ جہاں ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشیں ہوتی ہیں لیکن اُس کے باوجود بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے

اور عوام کو شدید بارشوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے پیشگی اقدامات نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے ہر سال نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ بارشوں کیلئے نکاسیٔ آب کا فول پروف سسٹم بنایا جائے، شہروں میں بروقت نالوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے، میدانی اور بالائی علاقوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کا بھی موثر انتظام کیا جائے تاکہ شدید بارشوں کی صورت میں ہونے والے نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے۔