آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم چودہ اگست کو یوم آزادی مناتے مناتے یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کا پہلا یوم آزادی پندرہ اگست 1947ء کو منایا گیا تھا اگرچہ چودہ اگست کے دن بھی عوامی و سرکاری سطح پر آزادی کی تقریبات منعقد ہوئی تھیں۔

قومی زندگی کے مقدس لمحات کی یادیں ہمیشہ تازہ رہنی چاہئیں کہ ان سے قلب و روح کو مسرت اور تسکین حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ یاد رکھیں کہ پاکستان 14اور 15اگست کی نصف شب معرض وجود میں آیا اس لئے پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا گیا۔ چودہ پندرہ اگست کی درمیانی شب ستائیسویں رمضان تھی جسے ہم عام طور پر لیلۃ القدر کا درجہ دیتے ہیں۔ پندرہ اگست جمعۃ الوداع تھا۔

ان تمام قرائن نے مل کر آزادی کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا جو بعد ازاں کبھی نصیب نہ ہو سکا۔ وائسرائے مائونٹ بیٹن تیرہ اگست کو کراچی پہنچے تھے۔ ان کے تعصبانہ رویے کی بنا پر قائد اعظم ان کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ نہیں گئے جس سے وائسرائے رنجیدہ رہا اور اس کے ملٹری سیکرٹری نے اس پر دو تین بار اظہار ناراضی بھی کیا۔

ہندو جوتشیوں کا خیال تھا کہ ہندوستان کے لئے چودہ کے بجائے پندرہ اگست کا دن زیادہ بابرکت ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل کانگریسی قیادت ان کے دبائو میں تھی۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ آزادی کا سرکاری اعلان بارہ بج کر ایک منٹ پر کیا جائے تاکہ پندرہ اگست شروع ہو چکا ہو۔ مائونٹ بیٹن نے چودہ اگست کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کیا۔

انہوں نے بادشاہ برطانیہ کی جانب سے آزادی کا اعلان اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مائونٹ بیٹن نے رواداری کے حوالے سے اکبر بادشاہ کی مثال دی۔ قائد اعظم نے جواباً شکریہ ادا کیا۔ قائد اعظم نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی رواداری کی تاریخ تیرہ سو سال پرانی ہے جب ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں سے بہترین سلوک کیا تھا۔ یہ اشارہ تھا ریاست مدینہ اور میثاق مدینہ کی جانب۔ تقریریں ختم ہوئیں۔

قائد اعظم اور مائونٹ بیٹن اسمبلی کے باب داخلہ کی جانب بڑھے جہاں برطانوی اقتدار کی علامت یونین جیک لہرا رہا تھا۔ فوجی پسپائی کی غمگین دھنوں میں یونین جیک اتارا گیا۔ قائد اعظم نے اسے تہ کر کے مائونٹ بیٹن کے حوالے کر دیا۔ پھر قائداعظم نے آگے بڑھ کر پاکستان کا جھنڈا لہرایا جسے 31توپوں کی سلامی دے کر پاکستان کی ولادت کا اعلان کر دیا گیا۔

اگرچہ مائونٹ بیٹن نے کہا تھا کہ آج نصف شب برطانوی عملداری ختم ہو جائے گی لیکن عملی طور پر پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہی عوامی سطح پر آزادی کے جشن شروع ہو گئے۔ اس تاریخی پس منظر میں حکومت پاکستان نے قائد اعظم کی منظوری سے جولائی 1948ء میں یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں ہر سال یوم آزادی چودہ اگست کو منایا جائے گا جس دن دستور ساز اسمبلی کی عمارت سے یونین جیک اتار کر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا تھا۔

بقول عطا ربانی (ADC) انہوں نے قائداعظم کی ہدایت پر ’’ممتاز مقامی ہندوئوں کو انتقال اقتدار کی اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے جاری کئے تھے لیکن کوئی بھی ہندو شریک نہ ہوا۔‘‘ خفیہ رپورٹ کے مطابق آزادی کے جلوس کے دوران قائداعظم پر بم سے قاتلانہ حملے کا منصوبہ تھا

۔ قائداعظم کو کھلی گاڑی میں سفر سے منع کیا گیا لیکن وہ وائسرائے کے ساتھ کھلی گاڑی میں ہی چودہ اگست کی صبح دستور ساز اسمبلی گئے اور کھلی گاڑی میں ہی واپس آئے۔ قائداعظم نے خوفزدہ ہونے سے انکار کر دیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں بخیر و عافیت گورنر جنرل ہائوس لے آیا۔

راستہ بھر فلک شگاف نعروں، عوامی جوش و خروش، کھمبوں اور عمارتوں سے لٹکے لوگ اور سڑک کے دونوں جانب انبوہ نے ان لمحات کو یادگار بنا دیا۔ گورنر جنرل ہائوس واپس پہنچتے ہی مائونٹ بیٹن واپس نیودہلی چلے گئے۔

14۔15اگست کی شب گیارہ بج کر پچاس منٹ پر آل انڈیا ریڈیو نے پاکستان کی سرحدوں کے اندر واقع کراچی، لاہور، ڈھاکہ ریڈیو اسٹیشن ہمیشہ کے لئے بند کر دیے۔ اس رات کروڑوں لوگ ریڈیو کے ساتھ کان لگائے بے چینی سے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔ دوسری طرف فسادات کی آگ پھوٹ پڑی تھی اور مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا ایسا خوفناک قتل عام شروع ہو چکا تھا جس کی عالمی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

بارہ بجے شب کے لگ بھگ براڈ کاسٹر ظہور آذر نے اعلان کیا کہ ٹھیک آدھی رات کو پاکستان کی آزاد مملکت معرض وجود میں آ جائے گی۔ بارہ بجے جب انگریزی میں ظہور آذر نے اعلان کیا کہ یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے اور پھر اردو میں مصطفیٰ ہمدانی نے یہی الفاظ دہرائے تو پوری قوم جھوم اٹھی۔

اس کے بعد مولانا زاہر قاسمی نے سورۃ الفتح کی پہلی چار آیات کی تلاوت کی کہ ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی......‘‘

لیکن ہم نے بحیثیت قوم اس نعمت کی تکمیل کا جو حشر کیا وہ سات دہائیوں پر محیط دردناک داستان ہے۔ ہم نے اسلامی قدروں کو پامال کر کے لوٹ مار، رشوت خوری، قتل و غارت، کمیشن خوری، شراب و جنس پرستی، جھوٹ، بے انصافی اور عوامی استحصال کا غدر برپا کئے رکھا اور گلہ پھر بھی اللہ پاک سے ہے۔ نعمت ملتی ہے تو اس کی پاسداری کے کچھ اصول بھی ہوتے ہیں۔ نعمت برستی ہے تو اپنے ساتھ آزمائش بھی لاتی ہے۔ آزمائش کیا ہے؟

آزمائش شکر بجا لانے اور خدائی حدود کے اندر رہنے کی۔ دراصل خلوص نیت سے اللہ پاک کی نعمت کا شکر بجا لانا بذات خود تقاضا کرتا ہے کہ ہم رضائے الٰہی کے لئے ان حدود و قیود کو پامال نہ کریں جو اللہ پاک نے متعین کر رکھی ہیں۔ لیکن ذرا غور کیجئے ہم نے شکر بجا لانے کے بجائے ہر وہ کام کیا جو رضائے الٰہی کے بجائے غضب الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔

جس ملک کی قومی اسمبلی میں ایک غیر مسلم رکن شراب پر بندش کا بل پیش کرے اور چند مذہبی اراکین کے علاوہ دوسرے اراکین اس کی حمایت نہ کریں کیا وہ قومی اسمبلی کسی اسلامی ملک یا مسلمان قوم کی قانون ساز اسمبلی کہلوانے کا حق رکھتی ہے؟ جس ملک کے اقتدار پر مختلف مافیاز قابض ہوں جو مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے عوام کاخون چوستے ہوں اور جس کی قیادت کے بارے میں اربوں کھربوں لوٹ کر بیرون ملک محلات خریدنے کی کہانیاں زبان زدعام ہوں کیا اس ملک اور ایسے نمائندوں کو منتخب کرنے والی قوم پر اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی نعمت کی تکمیل فرمائے گا؟

اللہ پاک نے کھلی فتح عطا کر دی، یقیناً کر دی لیکن ہمارے کارناموں اور اعمال نے نعمت کی تکمیل نہیں ہونے دی۔