آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان ٹیلی ویژن نے ماضی میں ایک سے بڑھ کر ایک شاہ کار ڈرامے پروڈیوس کیے۔ ان ڈراموں کو آج بھی دِل چسپی سے دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے عالمی شہرت یافتہ ڈراما نگار انور مقصود نے اپنے سپرہٹ ڈراموں کو تھیٹر پر پیش کرنے کا تجربہ کیا، ان کے ڈرامے’’ آنگن ٹیڑھا‘‘ اور ہاف پلیٹ ‘‘ کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔دیکھتے دیکھتے انور مقصود اور دارو محمود نے کئی شاہ کار ڈرامے پیش کیے اور اب دارو محمود، ممتاز ڈراما نگار حسینہ معین کے کلاسیک ٹی وی ڈرامے’’ ان کہی‘‘ کو تھیٹر پر پیش کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔’’ان کہی‘‘ کو نیا رنگ دے کر رواں برس اکتوبر میں آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیا جائے گا۔ فلم ’’باجی‘‘ میں عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کرنے والی باصلاحیت فن کارہ، آمنہ الیاس، ان کہی میں ’’ثناء مراد‘‘ کےلیڈنگ کردار میں جلوے بکھیریں گی۔ ثناء مراد کا یہ یادگار کردار ماضی میں ٹی وی کی سپر اسٹار شہناز شیخ نے ادا کیا تھا۔آمنہ الیاس ڈرامے میں اداکاری کے ساتھ رقص بھی کرتی نظر آئیں گی۔اس سلسلے میں انہوں نے تین درجن کے قریب دل کش لباس بھی تیار کروائے ہیں۔ ساجد حسن اور ثاقب سمیر بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔

’’ان کہی‘‘ ،کو پہلی بار پی ٹی وی پر 1982 میں ٹیلی کاسٹ کیا گیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں اداکارہ شہناز شیخ، جاوید شیخ، شکیل، سلیم ناصر، بہروز سبزواری اور جمشید انصاری شامل تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب ٹیلی ویژن پر حسینہ معین کے لکھے ہوئے ڈراموں کا طوطی بولتا تھا۔ ان کہی، کی ہدایات شعیب منصور نے دی تھیں۔ برِ صغیر پاک و ہند میں جب بھی ٹیلی ویژن ڈرامے کی تاریخ رقم کی جائے گی، مورخ ممتاز ڈراما نگار حسینہ معین کا نام فراموش نہیں کر سکے گا۔ ہمارا ٹیلی ویژن ڈراما ان کی دل کو چُھو لینے والی تحریروں کی وجہ سے دُنیا بھر میں راج کرتا رہا ہے۔ حسینہ معین نے نہایت شان دار اور کام یاب ڈرامے لکھے۔ 

ان میں شہ زوری، ان کہی، تنہائیاں، کرن کہانی، دھوپ کنارے، آہٹ، انکل عُرفی، آنسو، کسک، پرچھائیاں، دھندلے راستے، پڑوسی، پل دو پل، سارے موسم اپنے ہیں اور ’’میری بہن مایا‘‘ شامل ہیں۔ ان کا شوبزنس کیریئر ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامے سے سجا ہوا ہے۔انہیں پڑوسی ملک بھارت سے بھی بہت پذیرائی ملی۔ نام ور پروڈیوسر،ڈائریکٹر اور اداکار راج کپور نے بھارت بُلایا اور فلم ’’حنا‘‘ کے ڈائیلاگ لکھوائے۔ فلم ’’حنا‘‘ کی ہیروئن زیبا بختیار تھیں۔ حسینہ معین نے بھارتی چینلز کے لیے بھی دو ڈرامے تحریر کیے۔ یہ پہلا موقع تھا ،جب کسی پاکستانی رائٹر کا ڈراما بھارت کے قومی چینل پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ اُن کا لکھا ہوا بھارتی ڈراما ’’کش مکش‘‘ کا ٹائٹل سونگ ٹینا ثانی نے گایا تھا اور اس کی موسیقی ارشد محمود نے دی تھی۔

حسینہ معین نے ٹیلی ویژن انڈسٹری میں درجنوں فن کاروں کو متعارف کروایا۔ وہ فن کار آج شہرت کی بلندیوں کو چُھو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کی نئی نسل ان کے ڈرامے کو تھیٹر پر کتنا پسند کرتی ہے۔ان کہی ، ڈرامے کے ہدایت کار داور محمود کا کہنا ہے کہ’’ان کہی‘‘ کو ماضی کے مقبول ڈرامے کا سیکوئل نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ پُرانے ڈرامے کو تھیٹر پر نئے اور دل کش اور نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے میں کئی نئی باتیں سامنے آئیں گی۔ نامور ڈانس ڈائریکٹر وہاب شاہ کے اشارے پر سینکڑوں نئے فن کار رقص کرتے دکھائی دیں گے‘‘۔ ٹیلی ویژن ڈراموں کو تھیٹر پر پیش کرنےکے بارے میں انور مقصود نے بتایا کہ ہمارا یہ تجربہ کام یاب رہا۔ ہم نے سب سے پہلے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کراچی میں پیش کیا۔

میں نے1983 میں ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ لکھا تھا۔ اس ڈرامے میں معین اختر، ارشد محمود، بشریٰ انصاری اور دوسرے فن کاروں نے شان دارپرفارمنس دی تھی۔ مجھے داور محمود نے کہا کہ جب آپ پاکستان کی تاریخ کو دو گھنٹے کے ڈرامے میں پیش کر سکتے ہیں، تو 13 قسطوں کے ڈرامے کو ڈیڑھ گھنٹے میں پیش کرنا کیا مشکل کام ہے۔ ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ میرا سب سے پیارا اور لاڈلا بچہ ہے۔ اسے جب تھیٹر پر پیش کیا، تو زبردست رسپانس آیا۔ یہ ڈراما کراچی میں تین ماہ تک آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیا گیا۔ 

اس کی کاسٹ میں شامل حریم فاروق، یاسر حسین اور دیگر نئے فن کاروں نے عمدہ کام کر کے میرا دل جیت لیا تھا۔ جتنی محنت ان نئے فن کاروں نے ڈرامے کی کام یابی کے لیے کی تھی، اگر ہمارے صوبائی اور وفاقی وزراء کر لیں تو ہمارے ملک کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ میری عمر 80برس ہو نے کو ہے۔ پاکستان میں تو 45 اور 50 برس کی عمر میں لوگ جا رہے ہیں۔ نئی نسل کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں، مجھے نوجوانوں کو پڑھانا چاہیے تھا، میں نے ساری عمر ان کو ہنسانے میں لگا دی۔ میں ناپا اکیڈمی کے لیے بھی لکھنا چاہتا ہوں۔ ناپا اکیڈمی والے انگریزی ڈراموں کے ترجمے اور کھیل پیش کرتے ہیں۔ مجھے انگریزی لکھنا نہیں آتی۔ 

اگر کسی نے اردو میں لکھنے کے لیے رابطہ کیا، تو ضرور لکھوں گا۔ پاکستان میں جس طرح کی اردو زبان کی حالت بنا دی گئی ہے، بہت افسوس ہوتا ہے۔کراچی میں جہاں کتابوں کی درجنوں دکانیں تھیں، اب وہاں پرانی جینز اور جیکٹس فروخت ہوتی ہیں۔ کتابیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ ایک زمانے میں فیض صاحب کی کتاب سوا دو روپے میں مل جاتی تھی۔ اب کتابیں قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔

جن لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے، ان کے پاس پیسے نہیں ہیں اور جن کے پاس پیسے ہیں، انہیں کتابوں میں کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ ہماری ٹیم نے دوسرا ٹی وی ڈراما’’ ہاف پلیٹ‘‘ تھیٹر پر پیش کیا۔ ماضی میں، میں نے یہ ڈراما خالدہ ریاست کے لیے لکھا تھا، اس کے نمایاں فن کاروں میں معین اختر، لطیف کپاڈیا، خالدہ ریاست، جمشید انصاری، بدر خلیل اور ارشد محمود شامل تھے۔یہ ڈراما جب تھیٹر پر پیش کیا گیا تو،اس کے بھی ہدایت کار داور محمود تھے۔ ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ خالدہ ریاست نے اپنی زندگی میں مجھ سے کہا تھا کہ انور میں مر رہی ہوں اور آپ کا لکھا ہوا ڈراما مجھے زندہ کرسکتا ہے۔دراصل ہاف پلیٹ کو تھیٹر پر پیش کرکے ہم نے خالدہ ریاست، معین اختر، محسن علی اور لطیف کپاڈیا کو ٹریبیوٹ دیا تھا۔‘‘

ٹی وی ڈراموں کو جب تھیٹر پر پیش کیا گیا تو ان کی کاسٹ میں نئے فن کاروں کو موقع دیا گیا، جس کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آیا۔ اداکارہ حریم فاروق، انور مقصود کے لکھے ہوئے مقبول ڈرامے ’’پونے 14اگست ‘‘میں فاطمہ جناح اور ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ میں جہاں آراء کے کردار میں دل چُھولینے والی پرفارمنس سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ فلم سازی میں بھی نام کمایا۔ ان کی پروڈیوس کی ہوئی فلموں میں ’’جانان‘‘ ’’پرچی‘‘ اور’’ہیر مان جا‘‘ شامل ہیں۔ 

انہوں نے بہ حیثیت اداکارہ فلم، سیاہ، جانان، دوبارہ پھر سے اور پرچی میں شان دار پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا، اسی طرح اداکار یاسر حُسین نے انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ سے شوبز میں اپنی پہچان بنائی اور پھر وہ فلموں اور ڈراموں کی ضرورت بن گئے۔ انہیں وجاہت رؤف کی فلم ’’کراچی سے لاہور‘‘ میں ’’ہکلے‘‘ کے مزاحیہ کردار میں خُوب شہرت ملی، بعد ازاں وہ صفِ اول کی اداکارہ صبا قمر کے ساتھ بہ طور ہیرو جلوہ افروز ہوئے۔ 

دوسری جانب ثاقب سمیر نے ابتدا، ان ہی تھیٹر ڈراموں سے کی، بعد ازاں وہ کئی فلموں میں نظر آئے، انہیں یاسر نواز کی فلم ’’ مہرالنسا وی لب یُو‘‘ میں ڈبل رول میں فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ نئی نسل کی مقبول اداکارہ آمنہ الیاس ، فیشن کی دُنیا، ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اپنی پہچان بنا کر حسینہ معین کے لکھے ہوئے سپر ہٹ ڈرامے میں تھیٹر پر کیا رنگ جماتی ہیں، اس کے لیے چند دن اور انتظار کرنا ہوگا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید