آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سی سی پی او لاہور کے بیان پر ماہرہ خان بھی بول پڑیں

موٹروے پر اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون سے متعلق سی سی پی او لاہور کے بیان پر معروف اداکارہ و ماڈل ماہرہ خان بھی برس پڑیں۔

فوٹوز اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں ماہرہ خان نے سی سی پی او لاہور کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ماہرہ نے کہا کہ ’پھانسی دے دو، قتل کردو، سرِعام بدنام کرو‘ سے چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے ہی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

درندہ صفت دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، ملزمان خاتون کو موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے۔

بعدازاں سی سی پی او لاہور نے متاثرہ خاتون پر ہی سوالات اٹھادیے اور کہا کہ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی؟

سی سی پی او کے بیان پر ماہرہ خان نے کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے، اور اتنا کہ ایک افسر نے کہا ’اُسے اس وقت گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا‘، اس طرح کا ہے ہمارا معاشرہ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اس معاشرے کے عادی ہیں، ہمارے لیے یہ سب ٹھیک ہے۔

ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ ہم اس طرح کی ذہنیت کو کیسے قبول کریں؟

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہم ایک متاثرہ شخص سے ہی کیوں بار بار سوال کریں ان سے کیوں سوال نہیں کریں جنھوں نے یہ جرم کیا ہے؟

اپنے پیغام میں ماہرہ خان نے منٹو کا ایک قول بھی شیئر کیا جس میں منٹو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں عزت کی حقدار صرف گھر کی عورتوں کو سمجھا جاتا ہے‘۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید