آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹرمپ کے داماد کا بحرین اسرائیل تعلقات کا خیرمقدم

صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے بحرین کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کےاعلان کو نائن الیون جیسے واقعات، انہتا پسندی اور دہشت گردی روکنے کے لیے بہترین اقدام قرار دیا۔

کشنر نے توقع ظاہر کی کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک اسرائیل سے تعلقات استوار کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بحرین کا اقدام خطے کے ممالک کو مسئلہ فلسطین اپنے قومی مفادات اور خارجہ پالیسی سے الگ کرنے کا موقع دے گا۔

ایوانکا ٹرمپ نے کہا ہے کہ کشنر نے پچھلے ہفتے ہی بحرین کے بادشاہ اور سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی جو آج کی ڈیل کی نشاندہی کرتی ہے۔

واضح رہے کہ بحرین کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے، دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدے پر باضابطہ دستخط منگل کو کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ بحرین اور اسرائیل بھی امن ڈیل کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔

30 روز میں بحرین دوسرا عرب ملک ہے جو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر متفق ہوا ہے۔

امریکا، بحرین اور اسرائیل کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، تحفظ اور خوش حالی بڑھے گی۔

بحرین کے بادشاہ نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی بنیاد پر دائمی امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسرائیل سے امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق دستخطی تقریب کی میزبانی صدر ٹرمپ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

امارات اسرائیل تعلقات کے معاہدے پر 15 ستمبر کو دستخط ہوں گے

امارات میں اسرائیل فوجی اڈا بھی کھول سکتا ہے

اسرائیل کی پہلی خاتون ماڈل مے ٹیگر کا متحدہ عرب امارات میں فوٹو شوٹ

F35 طیارے اسرائیل اور امارات میں تنازع کا باعث

اسرائیل امارات تعلقات مسلم دنیا کیلئے بڑا سانحہ ہے، سراج الحق

دوسری جانب بحرین کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اعلان کی فلسطینی اتھارٹی نے مذمت کرتے ہوئے بحرین سے احتجاجاً اپنا مندوب واپس بلا لیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے بحرین کے اقدام کو مقبوضہ بیت المقدس، مسجدِ اقصیٰ اور مسئلہ فلسطین سے غداری قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سیکریٹری جنرل صائب اریقات نے کہا ہے کہ امارات کی طرح بحرین بھی فلسطینی عوام کے حقوق کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم پر قربان کررہا ہے۔

عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کے اعلان پر بھی فلسطین نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا تاہم عرب لیگ نے امارات کی مذمت سے متعلق فلسطینی قرار داد منظورنہیں کی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید