آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم معاشرے کی سچائی کا سامنا نہیں چاہتے: ماہرہ خان

پاکستان فلم انڈسٹری کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی معاشرے کی بدصورت سچائی کا سامنا کرنا نہیں چاہتا۔

سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام پر اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے انسٹاگرام پر موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے واقعے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آج بھی یاد ہے کہ جب فلم ’ورنہ‘ ریلیز ہوئی تو اس میں موجود اغوا کے سین پر سب سے زیادہ لوگوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ میرے خیال سے فلم پر ایسا اظہار خیال کرنے والوں کو اب جواب مل گیا ہوگا کیونکہ فلم بننے سے قبل  بھی بالترتیب ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں۔

ہارون شاہد کے اس بیان سے ماہرہ خان نے بھی بھرپور اتفاق کیا اور کہا کہ ہم معاشرے کی سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ موجودہ حالات سے بچنے کا یہ واحد آسان راستہ ہے۔

اس سے قبل ہارون شاہد نے اپنی اسی فلم کی شُوٹنگ کے دوران ہدایتکار و پروڈیوسر شعیب منصور سے  اسی موضوع پر کی گئی گفتگو شیئر کی تھی۔

اداکار نے لکھا کہ ’مجھے یاد ہے کہ ورنہ کی شُوٹنگ کے دوران جب میں نے شعیب صاحب سے سوال کیا کہ ایسا کیسا ممکن ہے کہ دن دہاڑے کوئی شخص آئے پارک سے لڑکی کو اغوا کرے اور اسے زیادتی کا نشانہ بنائے، یہ سننے میں بالکل ناممکن لگتا ہے۔‘

ہارون شاہد کے سوال کے جواب میں شعیب منصور نے کہا کہ ’ہوتا رہا ہے، ہوسکتا ہے اور ہوتا رہے گا۔‘

خیال رہے کہ شعیب منصور کی فلم ورنہ خواتین کے ساتھ زیادتی، نا انصافی اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات کے گرد گھومتی ہے اور اس میں حکومت کی خواتین کے حقوق پر عدم توجہ کو بھی دکھایا گیا ہے۔

فلم کی ریلیز سے قبل شعیب منصور نے ’ورنہ‘ کے حوالے سے فیس بک پر ایک طویل پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’ریپ پاکستان میں ہونے والے سنگین جرائم میں سے ایک ہے۔ اگرچہ خواتین نے ایک تحریک کے ذریعے قانون دانوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کوششیں کی ہیں مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب بھی معاشرے سوچ ایک بڑا چیلنج ہے۔‘

شعیب منصور نے پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں کوئی نا کوئی خاتون ریپ کا نشانہ بنتی ہے۔

انہوں نے لکھا تھا کہ یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ کس طرح معاشرے میں طاقتور ریپ کو کمزور کی تذلیل اور اس کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید