آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ماہرین

پاکستان میں 55 فیصد سے زائد اسپتال اور صحت کی سہولیات نجی شعبے کی ملکیت ہیں جو کہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کمرشل بنیادوں پر چلائے جارہے ہیں۔ ملک میں سرکاری اسپتالوں کی تعداد 28 سے 30 فیصد جبکہ رفاہی اداروں کے ملکیتی اداروں کی تعداد 10 سے 12 فیصد ہے۔

ان خیالات کا اظہار معروف ماہر صحت اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر بابر سعید خان نے کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہیلتھ سسٹم میں نجی شعبہ پیسے بٹورنے جبکہ سرکاری اور رفاہی اداروں کے اسپتال مریضوں کے کئی گنا زیادہ بوجھ کی وجہ سے صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں، پاکستان میں نجی شعبے میں چلائے جانے والے اسپتالوں کو کو اپنی سمت اور رویہ درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاؤ کے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جا سکے۔

ڈاکٹر بابر سعید خان، جنہوں نے حال ہی میں نجی شعبے میں قائم ہونے والے عہد میڈیکل سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ سنبھالا ہے، کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو متعدد اور غیر متعدی بیماریوں سے بچایا جا سکے جبکہ علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ساتھ مریضوں اور عوام الناس میں آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کے تینوں شعبوں میں قائم اسپتال اور ادارے عوام کو صحت کی مکمل سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں بیماریوں کے متعلق شعور اور آگاہی پیدا کی جائے تاکہ بیماریوں سے بچاؤ کے ذریعے نجی و سرکاری اور نجی اسپتالوں سے بوجھ کم کیا جا سکے۔

ڈاکٹر بابر سعید خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے نجی شعبہ جو کہ بڑے اسپتالوں، اسپیشلسٹ کلینکس، جنرل پریکٹشنرز اور اتائیوں پر مشتمل ہے، صرف اور صرف کمرشل بنیادوں پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف کاروبار کرنا اور زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا ہے۔

دوسری جانب سرکاری اسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دب کر عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں جبکہ رفاہی اداروں کی جانب سے چلنے والے اسپتال وسائل کی عدم دست یابی کی وجہ سے لوگوں کو صحت کی مکمل سہولیات فراہم نہیں کر پا رہے۔

ڈاکٹر بابر خان کا مزید کہنا تھا کہ عہد میڈیکل سینٹر نے پاکستان کا پہلا ورچوئل ہیلتھ سسٹم بھی متعارف کرایا ہے جوکہ مریضوں کو ان کے گھروں پر تربیت یافتہ نرسوں اور طبی عملے کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور موجودہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران سیکڑوں مریضوں کو ان کے گھروں پر معیاری علاج معالجہ فراہم کرکے ان کی جان بچائی گئی۔

صحت سے مزید