آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔اگر ہم اس طرح کاروبار کریں کہ ایک سال جانور کے جو بچے پیدا ہوں گے، وہ مالک کے ہوں گے اور دوسرے سال اس کے رکھنے اور پالنے والے کے ہوں گے تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب:۔جانوروں میں اس طرح کی شرکت ناجائز ہے۔ اگر کسی نے ایسا کرلیا توجانور نے جو بچے دیے وہ مالک کے ہوں گےاور دوسرے شخص کو اخراجات اور بازار کے مطابق اجرت ملے گی۔اس طرح کے کاروبار کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جانورپالنے کے لیے دے دیں اور پالنے والے کی اجرت طے کردیں ۔اس صورت میں جانور کے بچے اور دودھ وغیرہ مالک کا نفع ہوگا اور دوسرے فریق کو معاوضہ ملے گا۔دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مالک اپنے جانوروں کا آدھا حصہ دوسرے کو بیچ دے،اس طرح جانور دونوں کے درمیان مشترکہ ہوجائیں گے اوران کی بڑھوتری بھی دونوں میں مشترک ہوگی۔اخراجات دونوں فریق برداشت کریں گے اور اگر بالفرض نقصان ہوگیا تو دونوں اٹھائیں گے۔

اقراء سے مزید