آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کے دور میں ریاستیں بنیادی طور پر شہریوں کے دیے ہوئے محصولات یا ٹیکسوں سے چلتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں لوگ ٹیکس دینا اپنی لازمی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ حکمراں، سیاسی رہنما اور عوام سب اپنے اوپر عائد ہونے والا پورا ٹیکس بروقت ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ٹیکس کلچر اب تک مستحکم نہیں ہو سکا ہے اور ٹیکس لگانے والے یعنی ذمہ داران حکومت اور ارکان پارلیمنٹ تک پورا ٹیکس نہیں دیتے۔ اس کی تازہ ترین گواہی ان اعداد و شمار سے ملتی ہے جو گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ 30جون 2018کو ختم ہونے والے مالی سال کی اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری میں دیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 2لاکھ 82ہزار 449روپے، قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے 97لاکھ 30ہزار‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 24کروڑ 13لاکھ‘ آصف زرداری نے 28لاکھ 91ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔شاہد خاقان عباسی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن پارلیمنٹ رہے جنہوں نے بجا طور پر کہا کہ ٹیکس دینا کسی پر احسان نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی ہر شہری ذمہ داری ہے۔ حیرت انگیز طور پر فقیر منش امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تقریباً اتنا ہی ٹیکس دیا جتنا وزیراعظم عمران خان اور بلاول بھٹو نے حالانکہ ان رہنماؤں کے طرز بودوباش میں زمین آسمان کا

فرق ہے۔ شاہانہ ٹھاٹ باٹ رکھنے والے کئی وفاقی وزراء اور سیاسی قائدین نے بھی سراج الحق سے کم یا لگ بھگ اتنا ہی ٹیکس دیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار‘ فیصل واوڈا‘ عامر محمود کیانی‘ صاحبزادہ محبوب سلطان‘ محسن داوڑ‘ زرتاج گل‘ فیصل جاوید و دیگر نے سرے سے ایک دھیلا بھی ٹیکس کے نام پر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔ صفر ٹیکس والوں کی اس فہرست میں پچاس سے زائد ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی شامل ہیں۔ کھرب پتی ہونے کی شہرت رکھنے والے آصف زرداری اور شہباز شریف جیسے سیاسی قائدین کے ادا کردہ ٹیکس کا حجم بھی بظاہر اس طرز زندگی کے مقابلے میں بہت کم ہے جو انہوں نے اپنا رکھا ہے۔ ان حقائق سے واضح ہے کہ ہمارے وہ مقتدر طبقے جنہوں نے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کرکے ان کی زندگیاں اجیرن کررکھی ہیں‘ خود پورے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے تمام ممکنہ حربے استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ قطعی ٹیکس نہ دینے والے درجنوں ارکان سینیٹ وقومی اسمبلی اور وفاقی وزراء تو اپنی اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے سے عَلانیہ اِنحراف کے مرتکب ہوئے ہیں جس پر ان سے لازماً باز پرس بھی ہونی چاہئے اور عائد ہونے والا پورا ٹیکس بھی عام آدمی کے خلاف بےمحابا استعمال ہونے والے قانون کے مطابق جرمانے سمیت وصول کیا جانا چاہئے۔ ٹیکس ڈائرکٹری کے مطابق ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے 80کروڑ روپے جب کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے مجموعی طور 34کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا جس سے واضح ہے کہ قوم کی سیاسی قیادت کرنے والے ان لوگوں میں سے بیشتر کے رہن سہن اور ادا کردہ ٹیکس میں کوئی مطابقت نہیں۔ یہ معاملہ صرف سیاسی قیادت تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی کے افراد پر محیط ہے، تاہم تنخواہ پر گزارہ کرنے والوں کے لئے بالعموم ٹیکس چرانا ممکن نہیں ہوتا جبکہ بےشمار بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے ملک کا غریب ترین شہری بھی خطیر رقم بطور ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اگر باوسیلہ لوگ پورا انکم ٹیکس ادا کریں تو غریب عوامی طبقوں کا مالی بوجھ قابلِ لحاظ حد تک کم کیا جا سکتا اور ریاست کے تمام اخراجات آسانی سے پورے کئے جا سکتے ہیں۔ وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا یہ کہنا حقیقت حال کی بالکل درست عکاسی ہے کہ صاحبِ حیثیت لوگ پورا ٹیکس دیں تو پاکستان کو دنیا کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے مگر اس کے لئے سب سے پہلے ٹیکس لگانے والوں یعنی ملک کی سیاسی قیادت کو مثال قائم کرنا ہوگی۔