آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نازیبا واقعات کی اصل وجہ

بات تو سچ ہے مگر بات ہے جگ ہنسائی کی، جب حکمرانوں کی ساری توجہ اپنی حکمرانی پر مرکوز ہو تو لوگوں کی عزت، جان، مال کو لوٹنے والوں کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، جبکہ حکومت نام ہی تحفظ فراہم کرنے کا نام ہے، اس وقت حکمران اپنی حکمرانی کو محفوظ بنانے میں پوری طرح کامیاب اور رعیت کی حفاظت میں مکمل ناکام ہیں، سیاست ہو یا ریاست دونوں میں مقام حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، کوئی سیاست دان بنتا ہے تو اپنا نام اور دام پیدا کرنے کے لئے، اگر حکومت میں داخل ہوتا ہے تو حریفوں کو گرانے اور کمانے کے لئے، اسی طرح کوئی افسر بنتا ہے تو افسری کے لئے، حالانکہ ہمیں یہ تلقین کی گئی ہے کہ ہر شعبے کا کام فقط خدمت ہے، والدین بھی کہتے ہیں بیٹا افسر بنے گا ہمارا دبدبہ ہوگا، ہم سب کو دبا کے رکھیں گے، کسی کو سر اٹھانے نہیں دیں گے، چاہے کوئی منہ سے نہ کہے مگر مائنڈ سیٹ یہی چل رہا ہے، اپنے اغراض کی غلامی نا اہلی ہے جس کے باعث جرم عام اور خدمت خلق کا نشان نہیں ملتا، رٹ صرف حکومت ہی کی نہیں ہر فرد کی ہوتی ہے جو نہیں ہے، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ حکومت سے لے کر ہر شخص تک رٹ کا فقدان ہے، رٹ دراصل اچھائی کا نفاذ اور برائی سے روکنا ہے اس ضمن میں سب سے بڑھ کر حکومت کا حکومت کو بچانا ہے اور عام افراد کا صرف اپنے مفادات کے لئے سوچنا ہے، فرق پڑ سکتا ہے، حالات میں خوشگوار تبدیلی آ سکتی ہے بشرطیکہ تعلیم کا شعبہ واقعتاً تعلیم ہی دے رہا ہو، اگر ایک بچے کو فزکس کیمسٹری پڑھائی جائے اور بنیاد میں حسن اخلاق کی اینٹ نہ رکھی جائے تو علم سانپ بن کر ڈستا ہے، قوم کو فائدہ نہیں دے سکتا، موٹروے پر جو ہوا، زینب کیس کا منظر پر آنا، پوری قوم کو ایک نوٹس ہے جس پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے، سزا اور جزا کا سلسلہ صرف بالترتیب بےگناہوں اور نالائقوں کے لئے ہے، برے کو عبرتناک سزا کے بجائے انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے، اچھے کو دھر کر ٹکٹکی پر باندھ دیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ سزا مل رہی، جزا بھی مگر کس کو؟ اسے جو اس کا اہل نہ تھا۔

٭٭٭٭

موت کا ڈر مٹ سکتا ہے

خدا کا ڈر نہیں مگر موت سے ہر شخص ڈرتا ہے۔ پوری دنیا میں لگ بھگ 80فیصد انسان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دوبارہ اٹھنا ہے، اس دنیا میں اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس وسیع کائنات کا کوئی رب نہ ہو، کوئی خالق نہ ہو، کوئی ناظم نہ ہو، اب تو سائنس بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وجود کے قریب قریب جاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی بظاہر میں نہ مانوں کی رٹ لگاتا رہے، خدا کا ڈر کیا ہے یہی کہ انسان، انسان بن کر رہے، جانور نہ بنے، باقی جو خالق ارض و سما ہے بھلا اسے کیا پروا کہ کوئی اسے مانتا ہے یا نہیں مانتا، اس کی صنعت گری و خلاقی ایک ایسی انجانی روشنی ہے جو شعوری نہیں تو لاشعوری طور پر بھی اس کے وجود کو منوانے کے لئے کافی ہے، کسی کے مرنے پر ہم ایک بار ڈر تو جاتے ہیں کہ ایک جیتا جاگتا انسان ہمیشہ کے لئے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے، مگر آپ نے دیکھا ہوگا کہ مرگ پر بھی کسی نہ کسی انداز میں شادی کا سماں ہوتا ہے، جو برسوں نہیں مل پاتے، گلے لگتے دکھائی دیتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہو کر ایک خوشگوار اثر مرتب کرتی ہیں، موت کا ڈر مٹانے کا سستا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان کا دامن ان اعمال سے پاک ہو جو ناجائز انداز میں کئے جاتے ہیں حالانکہ یہی اعمال اگر جائز طریقے سے کئے جائیں تو بھی سزا ایک جیسی ہوتی ہے۔ صرف طریق استعمال درست یا نا درست ہونے سے موت کا ڈر مٹ سکتا ہے اور لگ بھی سکتا ہے، اگر یہ موت ایک جہاں سے دوسرے جہاں میں منتقل ہونا ہے تو پھر وہ موت کہاں جس سے ہم اس قدر خوفزدہ ہوتے ہیں، انسان کو زندہ رکھنے والا ایک جوہر ہی اصل وجود ہے جسے خالقِ کائنات مٹاتا نہیں البتہ اس کا پنجرہ ہمارے پاس رہ جاتا ہے جو خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے، ہم نے کئی اموات کے مواقع پر عزیزوں، رشتہ داروں کو خلوص دل سے گلے لگتے دیکھا، بریانی اڑاتے پایا، مرنے والے کی اچھائیاں، برائیاں بیان کرتے بھی سنا، الغرض ایک ایسا اجتماع جو ہلکے پھلکے خوف کے سائے سائے پلتا دکھائی دیتا ہے، اگر انسان کا دامن برائیوں سے ایک بٹہ چار بھی خالی ہو تو مہربان و کریم ربِ کائنات مرنے کے بعد کا منظر خوشگوار بنا سکتا ہے، اس لئے موت کو اپنے لئے ایک نئی اچھی زندگی میں بدل کر موت کا ڈر ختم کیا جا سکتا ہے۔

٭٭٭٭

سیاست ِدوراں

دنیا کی آبادی اس قدر بڑھ گئی، بیروزگاری اتنی عام ہو گئی کہ اب نہ جاگیریں رہیں نہ خوابوں کی تعبیریں، اس لئے انسان نے وہ کام جو وہ بلامعاوضہ کرنا تھا ان کی بھی قیمت وصول کرنے کا دھندا شروع کر دیا ہے، یہ تو غالبؔ کی کہی بات ہو گئی کہ؎

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی

بن گیا سطح آب پر کائی

انسان نے بہت سی عارضی چیزوں کو مستقل سمجھ لیا ہے، جبکہ وہ عارضی میں بھی مستقل کا مزا لے سکتا ہے، بات ہو رہی ہے آج کل ہمارے ہاں رائج سیاست کی جو رائج ہو کر بھی رائج نہیں، البتہ یہ ایک پیشہ ہے کہ تم ایک پیسہ لگائو گے تمہیں دس لاکھ ملیں گے، اس کے سوا اس کی افادیت اس کے سوا کیا ہے کہ غربت بڑھائو ناکہ غریبوں کا خون پسینہ تمہاری تجوری میں آ جائے، ایک افسر جب فریادیوں کے ہجوم کو دیکھتا ہے ایک سیاستدان جب اپنے پیرو کاروں کے نعرے سنتا ہے تو وہ ان کی سلامتی کی دعا کرتا ہے کہ یا اللہ اس ہجوم کو اسی حال میں بےحال رکھنا ورنہ ہمارا تو بُرا ہی حال ہوگا۔ دینداری جو خالصتاً اللہ کے حضور سر بسجود ہونے کا نام تھا اب اس سے بڑھ کر بکنے والی جنس بازار میں کہاں، اب نیکی بدی میں کوئی کیا فرق سمجھے، بہر صورت سیاست جو لوگوں کو عدل و تحفظ، خوشحالی دینے کا نام ہے اب ان سے یہ تینوں چھیننے کا وہ نیک کام کہلاتا ہے کہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے، اگر جس تن لاگے وہ ہی جانے کی صفت رکھنے والے زمام نظام سنبھال لیں تو بےدرد اور سرد طبقوں کے چودہ طبق تاریک ہو جائیں، اگر کسی جگہ اقتدار سے باہر کے افراد یکجا ہو کر عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی پروگرام بنائیں تو اسی جملے کو الٹا کر پڑھیے مطلب واضح ہو جائے گا، ہم جب پڑھتے ہیں کہ ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا، دربار لگاتا اور انصاف کرتا تھا تو اس شاہانہ جمہوریت کو بھول جاتے ہیں، جو اس کھیت کی مانند ہے جس سے غریب کو ایک خوشہ گندم بھی میسر نہیں ہوتا۔

٭٭٭٭

بلی اور کھمبا، چوہا محفوظ

....Oکورونا پھر سر اٹھانے لگا۔

رنگ لائے گی بیماری جلد بازی ایک دن

ایس او پیز پر عمل نہ روکیں پلیز!

....Oکائرہ: پنجاب میں زیادتی کے کیسز انتہائی افسوسناک ہیں،

پنجاب حکومت کو چاہئے کہ گلی کوچوں میں سفید پوش پولیس کو گشت پر لگائے، گھر کے بڑوں کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت، بچوں کو تنہا گھر سے باہر نہ جانے دیں، بڑوں سے زیادتی کوئی بڑا ہی کرتا یا کراتا ہے۔

....O فیاض چوہان: اپوزیشن سے کرپشن کے سوا ہر ایشو پر بات ہو سکتی ہے۔ قوم و ملک کا ایشو ہی کرپشن ہے، یہ آپ خود کو یا دوسروں کو بچا رہے ہیں۔

٭٭٭٭