آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مغربی بینکوں کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے بڑے نیٹ ورک کا انکشاف

اسلام آباد ( عمر چیمہ ) بینکنگ صنعت سے متعلق ایک خفیہ دستاویزات کی کھیپ پکڑی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح سے صف اول کے مغربی بینکوں کے ذریعہ بلا روک ٹوک غیر قانونی رقوم کی ترسیلات ہو تی ہیں ۔اس کام میں منی لانڈرنگ کے خلاف کریک دائون سے صرف نظر کیا جا تا ہے۔ انفرادی اور تنظیمی سطح پر متنازع فنڈز کی منتقلیاں ہو تی ہیں ۔

ان میں سے کچھ کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ بز فیڈ نے مذکورہ تمام ریکارڈ ایک وہسل بلوور سے حاصل کیا ہے ۔جس نے اسے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس ( آئی سی آئی جے سے شئیر کیا ہے ۔88 ممالک کے 108 میڈیا اداروں کے ساتھ پاکستان سے دی نیوز بھی شراکت دار ہے ۔

جو فائلز پکڑیگئی ہیں انہیں مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس ( ایس اے آرس ) قرار دیا گیا ہے ۔اس بات کا شک ہے کہ بینکوں کے ذریعہ20 کھرب ڈالرز کی ترسیلات ہو تی ہیں۔ 

ایس اے آرس میں انم کے آجانے کا مطلب یہ نہیں کہ جرم چابت ہو گیا۔رقوم کے ذرائع کے حوالے سے پوچھ گچھ کی ضرورت رہتی ہے ۔ امریکی وزارت خزانہ کو اس کی رپورٹ کئے جا نے کے بعد اسے ریکارڈ میں دبا دیا جا تا ہے ۔بز فیڈ نیوز کے مطابق کچھ افشا ہونے والا ریکارڈ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کی تحقیقات کرنے والی امریکی کانگریشنل کمیٹی کی تحقیقات کے حصے کے طور پر جمع کیا گیا ہے ۔ 

جبکہ دیگر مواد جو جمع کیا گیا ہے وہ قانون نافذ کر نے والے اداروں کی طرف سے فن سین سے اس درخواست کے بعد کہ ذرائع کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی ، بز فیڈ نیوز نے ذرائع کی شناخت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ 

آئی سی آئی جے نے 2013 میں بھی آف شورلیکس پیپرز ، 2015 میں سوئس لیکس ، 2016 میں پاناما پیپرز اور 2017 میں پیراڈائز پیپرز کی ٹھقیقات کی تھیں ۔یہ فن سین پیپرز ان سے مختلف ہیں ۔یہ لسہایک یا دو کمپنیوں کی دستاویزات نہیں ہیں بلکہ یہ متعدد بینکوں کی جا نب سے آئی ہیں ۔ ہر دس میں سے ایس اے آرس کی اکثریت اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک ، جے پی مورگن ، بینک آف نیویارک میلون اور ڈوئچے بینک سے متعلق ہے ۔

افشا دستاویزات 2100 ایس اے آرس پر مشتمل ہیں جس میں انفرادی اور مختلف ممالک سے اداروں کے نام درج ہیں کشھ کا تعلق پاکستان سے بھی ہے ۔ پاکستان سے الطاف خانانی کے عالمی کا نام بھی شامل ہے ۔ 

منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے تحت کئی کمپنیاں جن کی مصنوعات میں طالبان کے لئے دھماکہ خیز آلات بنانا شامل ہے ۔ ایس اے آرس میں کچھ انفرادی نام بھی شامل ہیں جن پر غیر قانونی رقوم کی ترسیلات کا شبہ ہے ۔ 

ایس اے آرس میں چھہ پاکستانی بینکوں کے نام بھی درج ہیں جن کے ذریعہ 20کھرب ڈالرز کی ترسیلات ہوئی ہیں ۔خانانی نے عالمی پیمانے پر منی لانڈرنگ کی اس کے کلائنٹس میں منشیات سے لے کر دہشت گرد تنظیموں تک سب ہی شامل ہیں ۔

اس کے عالمی نیٹ ورک کے ذریعہ سالانہ دنیا بھر میں 14 سے 16 ارب ڈالرز تک کی منی لانڈرنگ کی گئی ۔اس مقصد کے لئے دبئی کی مزاکا جنرل ٹریڈنگ کمپنی کو استعمال کیا گیا ۔دسمبر 2013 سے فروری 2014 تک دو کمپنیوں سیبورن اور درائیڈن کی جا نب سے پانچ منتقلیوں کے ذریعہ چار کروڑ بیس لاکھ ڈالرز ملے ۔یہ کمپنیاں منی لانڈرنگ کے حوالے سے بدنام ہیں ۔

اسے مزید سات لاکھ بیس ہزار ڈالرز ہائی لکس سروسز سے ملے جو آذر بائیجان میں منی لانڈرنگ اسکیںڈل میں ملوث تھی ۔ مزاکا کو ڈوئچے بینک میں مزید پانچ کروڑ ڈالرز پانچ کمپنیوں سے ملے ۔ سنگا پور میں ایک کمپنی آسک ؁ریڈنگ کی جانب سے کی جانب سے بھی تین منتقلیاں ہو ئیں ۔ 

خانانی نیٹ ورک کی دو کمپنیوں الضروری ایکس چینج اور وادی الفراح اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ذریعہ منتقلیوں کے لئے استعمال کیا گیا ۔ اسی طرح ڈوئچے بینک کو ایک لاکھ چوراسیہزار ڈالرز کی منتقل یکے لئے استعمال کیاگیا ۔خانانی کو گھیرنے کے لئے مزاکا کو اس وقت استعمال کیا گیا جب گیارہ لاکھ پچس ہزار ڈالرز کی ڈرگ منی اکائونٹ میں منتقل کی گئی ۔ملزم پاناما ائیر پورٹ پر پکڑا گیا ۔

خانانی کو ساڑھے پانچ سال قید کی سزا ہو ئی جو رواں سال جولائی میں مکمل ہو گئی ۔ اس کا موجودہ محل وقوع کسی کے علم میں نہیں اور اس کا وکیل بھی آئی سی آئی جے کے رابطے میں نہیں آرہا ۔ ایس اے آرس سے معلوم ہو تاہے کہ منتقلیوں سے متعلق کئی پاکستانی کمپنیوں نے بھی خطرے کو بھانپ لیاکیونکہ ان پر طالبان کی تخریبی سرگرمیوں کے لئے مبینہ طور پر خام مال فراہم کر نے کا الزام ہے ۔ 

مثال کے طور پر ایک فرٹیلائزر کمپنی نے اپنے اکائونٹ سے تین ارب اسی کروڑ ڈالرز چین ، دبئی اور پاکستان میں نامعلوم کاروباری ادروں کو بھیجے یا وصول کئے۔2012 میں واشنگٹن پوسٹ کیایکرپورٹ کے مطابق طالبان کے لئے بم سازی میں تقریباَ تمام امونیم نائٹریٹ ایک کمپنی نے بنایا ۔ایس اے آرس کے مطابق تین پاکستانی کمپنیاں دھماکہ خیز مواد کے لئے طالبان کی جا نب سے استعمال کیمیائی مواد بناتی ہیں ۔

ایک کمپنی نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ذریعہ بارہ لاکھ ڈالرز کی متحدہ عرب امارات میں نا معلوم اکائونٹ میں منتقلی کی جس میں ارضی ارتعاش کے لئے دھماکوں کا حوالہ دیاگیا۔2009 میں ایک کمپنی کو اس وقت اپنے لائسنس سے محروم ہو جا نا پڑا جب وہ 58 ٹن دھماکہ خیز مواد افغان سرحد پر منےقل کر تے پکڑی گئی ۔

اداروں کے علاوہ کچھ پاکستانی شخصیات کو بھی ایس اے آرس میں نامزد کیا گیا ہے ۔ ایک بیکری کے مالک کو اور اس کے دو بیٹوں کو 2012 میں دبئی سے پاکستان ساڑھے آٹھ لاکھ ڈالرز منتقل ہوئے۔ 

اس وقت ایف بی آر اور انٹلی جنس اداروں کو چوکنا کردیا گیا تھا۔ اس وقت تحقیقات کا کیا نتیجہ برآمد ہوا کسی کو معلوم نہیں ہے ۔

اہم خبریں سے مزید