آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بابیل خان والد کے لیے باعث شرمندگی کیوں؟

رواں سال 29 اپریل کو اِس دنیا سے رخصت ہونے والے بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان کے بیٹے بابیل خان کا کہنا ہے کہ ’میں واقعی اُن لوگوں کا احترام کھوچُکا ہوں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ میرے والد کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ تُم ایسی بحث میں نہیں پڑو جس سے تمہارے والد شرمندہ ہوں۔‘

سماجی رابطےکی ویب سائٹ انسٹاگرام پر بابیل خان نے اپنے والد عرفان خان کی کچھ تصاویر پوسٹ کیں اور اُس کے ساتھ ہی اپنے جذبات کا اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک طویل پیغام بھی جاری کیا۔


بابیل خان نے لکھا کہ ’میں نے لوگوں کی نفرت سے آزادی کا احساس محسوس کیا ہے کیونکہ اُن لوگوں کے پاس نفرت کرنے کے سوا اور سچے لوگوں کے بارے میں منفی فیصلے کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘

عرفان خان کے بیٹے نے لکھا کہ جو لوگ اُن کے والد کے مداح ہیں وہ باتیں بنانے کے بجائے اس بات کا ثبوت دیں۔

اُنہوں نے لکھا کہ ’میں اور میرے والد ایک دوسرے کے بہترین دوست تھے اس لیے مجھے نہ بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا  نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے والد کس بات سے ناراض ہوتے تھے۔‘

بابیل خان نے لکھا کہ ’جہاں غلط ہوگا میں وہاں اپنی آواز بُلند کروں گا۔‘

اِس سے قبل بابیل خان نے بھارتی فلمساز انوراگ کشیپ کی حمایت میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ جاری کی تھی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ#Metoo جیسی انمول تحریک کا کسی ایسے شخص کے خلاف اس طرح کے بدنما طریقے سے غلط استعمال کیا جارہا ہے جس نےوہ جرم کیا ہی نہیں اور ہمیشہ انڈسٹری میں صنفی مساوات کو فروغ دیا۔‘


بابیل خان کا کہنا تھا  کہ ’اگر اداکارہ درست ثابت ہوگئیں تو وہ ان کے الفاظ کی ذمہ داری لیں گے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی فلمساز انوراگ کشیپ پر بھارتی اداکارہ کو ہراساں کرنے کی خبر سامنے آئی تھی جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید