آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آل بچاؤ، مال بچاؤ، کھال بچاؤ، اتحاد کا نام پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ رکھا، تین مرحلہ احتجاج کا اعلان ہو چکا، اب پتا نہیں، ابھی تک اپوزیشن کی کارکردگی یہ، پارلیمنٹ سے باہر، ایک مولانا کا مارچ، دھرنا، اس میں بھی اپوزیشن اکٹھی نہ تھی، پارلیمنٹ کے اندر، صدارتی الیکشن، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر انتخابات، چیئرمین سینیٹ عدم اتحاد، بجٹ منظوری، فیٹف بل سب میں اپوزیشن ہاری، چوتھی اے پی سی، زرداری صاحب جو اینٹ سے اینٹ بجانے کا مزا چکھ چکے، اس بار دھیمے سروں میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے وقت گزار گئے۔

نواز شریف، باتیں کروڑوں کی، دکان پکوڑوں کی، چند حوالے، ایک آدھ بات، کچھ فل اسٹاپ، کامے اِدھر اُدھر کر دیں تو پچھلے 25برسوں سے وقفے وقفے سے ایک ہی تقریر مسلسل کر رہے، دنیا بدل گئی مگر نواز شریف نہ بدلے، تقریر نویس بدلا نہ تقریر بدلی، میاں صاحب انقلابی ہو جائیں، سمجھ جاؤ، کوئی مسئلہ پھنسا ہوا، لین دین، سودے بازی کے چکر میں، اندازہ کریں، باہر جانے، علاج کروانے کیلئے، 6درخواستیں دیں، میں بوڑھا، تشویشناک حد تک بیمار، سڈن ڈیتھ کا خطرہ، میرا ڈاکٹر لندن میں، انسانی طبی بنیادوں پر علاج کیلئے لندن بھیجا جائے، عدالتوں نے ریلیف دیا۔

حکومت کو رحم آیا، لندن پہنچے، اب لندن سے اسی حکومت کیخلاف میدان میں، جس نے رحم کھا کر لندن بھجوایا، ایسی احسان فراموشیوں سے میاں صاحب کی زندگی بھری پڑی، وہ تشویشناک حد تک بیمار، یہ غلط نکلا، حالت تشویشناک ہوتی، ایک دن ہی اسپتال میں گزار لیتے، انکی کورونا کی وجہ سے سرجری نہیں ہو پارہی، یہ بھی غلط، برطانیہ کے پرائیویٹ اسپتالوں میں 23اپریل 2020سے سرجریاں ہو رہیں۔

میاں صاحب نے اپنی تقریر میں جن خرابیوں، برائیوں کی نشاندہی کی، ان میں سے 50فیصد خرابیوں، برائیوں کے وہ خود ذمہ دار، باقی 50فیصد کی درستگی کیلئے بار بار موقع ملنے کے باوجود کچھ نہ کیا، وہ یوسف رضا گیلانی سے ہمدردی فرما رہے تھے، حالانکہ گیلانی صاحب کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹوانے، وطن دشمن ثابت کرنے کیلئے کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے، فرمایا، حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ پبلک ہونی چاہئے، پہلے اپوزیشن میں بھی یہی کہا کرتے، اقتدار میں آکر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ پبلک کروں گا، بلکہ یہ بھی کہتے، کارگل کمیشن بناؤں گا۔

حکومت میں آئے، سب بھول گئے، مزے کی بات، میاں صاحب کی تقریر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف، اے پی سی اعلامیہ اسٹیبلشمنٹ کیخلاف مگر اے پی سی سے چند دن پہلے شہباز شریف اور اے پی سی میں شریک سیاستدان آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ڈنر، لمبی بیٹھک کر چکے، صادق سنجرانی، اسد قیصر، آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، شاہ محمود قریشی، سراج الحق، شہباز شریف، بلاول بھٹو، شیخ رشید، خواجہ آصف، شیریں رحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسدالرحمٰن کون تھا جو اس مجلس میں نہیں تھا، سنا جارہا، بلاول بھٹو تو اس سے پہلے کراچی میں بھی آرمی چیف سے ملاقات کر چکے، لیکن کسی نے اے پی سی سے پہلے، اے پی سی کے دوران یا بعد میں کسی ملاقات کی ہوا تک نہ لگنے دی، وہ تو ملاقات میں شریک سیاستدانوں کی آپس میں کھسر پھسر ہوئی، باتیں باہر نکلیں۔

اب اسٹیبلشمنٹ کیخلاف نعرہ زن یہ سیاستدان شرموشرمی سب کچھ بتارہے، سنا جارہا، گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر اسلام آباد میں ہوئی اس مشاورتی بیٹھک میں ہر موضوع پر بات ہوئی، الیکشن دھاندلی پر بات ہوئی، سپہ سالار نے کہا، آپ کا کوئی ایک الیکشن جس پر آپ سب متفق ہوں کہ یہ شفاف، آپ بھی عجیب لوگ، چیئرمین نیب خود لگائیں، خود ہی تنقید، چیف الیکشن کمشنر خود لگائیں، خود ہی تنقید، اب ہی اصلاحات، قانون سازی، ادارے مضبوط کر لیں، میری خواہش اگلا الیکشن فوج کے بنا ہو، سنا جارہا۔

مولانا کے بیٹے اسد الرحمٰن نے جعلی مینڈیٹ، جعلی اسمبلیوں کے حوالے سے بات کی تو سپہ سالار نے کہا، ویسے اسمبلیاں جعلی مگر مولانا انہی اسمبلیوں سے صدارتی الیکشن لڑیں تو اسمبلیاں اصلی، اگر وہ صدر منتخب ہو جاتے تو پھر یہ اسمبلیاں مستقل اصلی ہو جاتیں، آرمی چیف نے کہا، حکومت جانے کے دو طریقے، اسمبلی میں عدم اعتماد یا وزیراعظم اسمبلیاں توڑ دیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دھرنوں، احتجاجوں، جلوسوں سے حکومت کو گھر بھجوائے گا تو اس کی غلط فہمی، اس طرح حکومت گئی تو پھر اگلے 20سال الیکشن بھول جائیں۔

سنا جا رہا، جب سیاست میں فوجی مداخلت پر بات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا، چار برسوں میں میرا کوئی ایک سیاسی بیان، آپ سب بیٹھے ہوئے مجھے بتادیں میں کسی کو ملنے کسی کے گھر گیا ہوں، کسی سے ملنے کی درخواست کی ہو، آپ سب ہی ملنے آتے ہیں، نہ آیا کریں مجھ سے ملنے، آپ سب کے ہی مسائل ہوتے ہیں، یہ کردیں، وہ کردیں، یہ نہ کریں، وہ نہ کریں، اپنے سب کام خود کریں اور ہمیں سیاست سے دور رکھیں۔

سنا جارہا، آرمی چیف نے کہا، میں پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں، حکومت، پاکستان کے ساتھ ہوں، نواز شریف وزیراعظم تھے میں ان کے ساتھ تھا، ہمارا ورکنگ ریلشن بہت آئیڈیل تھا، جو انہوں نے کہا، میں نے کیا، حتیٰ کہ ٹویٹ واپس لے لیا، شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، میں انکے ساتھ تھا، معاملات بہتر بنانے سعودیہ ان کے ساتھ گیا، اب عمران خان وزیراعظم میں ان کے ساتھ، کل آپ میں سے کوئی وزیراعظم بنا اگر میں ہوا تو میں نئے وزیراعظم کے ساتھ ہوں گا، سنا جارہا، ایک موقع پر شہباز شریف نے کہا۔

وزیراعظم اپوزیشن کے حوالے سے بہت تضحیک آمیز بیانات دیتے ہیں، سپہ سالار نے کہا، جو جو کہے گا، ایک دن وہ بھگتے گا، وزیراعظم کی تقریریں، بیانات ان کے سامنے آرہے لیکن شہباز صاحب آپ نے بھی پیٹ چیرنے، سڑکوں پر گھسیٹنے، چوک پر لٹکانے کی تقریریں کی ہوئیں، شہباز شریف بولے، میں اس پر معافی مانگ چکا، آرمی چیف نے کہا، آپ نے موٹروے ریپ کیس پر بھی عجیب و غریب سی تقریر کی، شہباز شریف بولے، میں اس پر بھی معافی مانگ چکا، آرمی چیف بولے، اس طرح تو سی سی پی او لاہور بھی معافی مانگ چکے، قبول کریں پھر انکی معافی بھی۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، ذکر ہو رہا تھا اے پی سی کا، میرا ایک سوال، قوم، معاشرے، جمہوریت کی بنیاد اخلاقیات پر، کیا اخلاقی طور پر یہ درست کہ ایک عدالتی اشتہاری اے پی سی سے خطاب کرے، یہاں یہ جواز سننے کو مل رہا کہ پرویز مشرف بھی تو اشتہاری، وہ بھی تو ٹی وی انٹرویوز دیتے رہے، واہ جی واہ، کیا موازنہ، وہ فوجی آمر، آپ جمہوریت پسند، یہ تو ایسے ہی جیسے چرچل سے کوئی پوچھے یہ کام آپ نے کیوں کیا، وہ کہہ دے، اس لئے کیا، کیونکہ یہی کام ہٹلر نے بھی کیا، جمہوریت، جمہوریت پسندوں نے اگر نواز شریف خطاب کی justification مشرف صاحب میں ڈھونڈنی ہے تو یہ عبرت اور شرم کا مقام ہے۔