آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھارت پر کڑی تنقید کی گئی اور  گھناؤنے جرائم میں ملوث فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے پر زور دیا گیا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا جہاں گذشتہ روز ہونے والے مباحثے کے دوران بین الاقوامی حقوق کی عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بی جے پی کی حکومت پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کونسل پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی حکومت پر زور دیں کہ وہ ان قابض فوجیوں کے خلاف کارروائی کرے جو مقبوضہ خطے میں گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں۔

ہفتے کے روز یہاں ایجنڈا آئٹم 3 کے تحت منعقدہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے، بین الاقوامی مسلم خواتین یونین (آئی ایم ڈبلیو یو)، ورلڈ مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی)، کمیونٹی ہیومن رائٹس اینڈ ایڈوکیسی سنٹر (سی ایچ آر اور اے سی) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں نے متنازعہ علاقے میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر اپنے خدشات کااظہار کیا۔

اس موقع پر سی ایچ آر اور اے سی کی نمائندہ محترمہ ایمن گیلانی نے تنازعہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ 

اقوام متحدہ نے متعدد قراردادیں منظور کیں جو خطے میں آزادانہ غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے مسئلے کے پر امن حل پر زور دیتی ہیں تاکہ کشمیریوں کو آزادانہ ماحول میں اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا موقع دیا جا سکے۔

انہو ں نے کہا کہ ان قراردادوں کی تائید اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستانی نمائندے نے بھی کی۔ 

اس حقیقت کے باوجود ہندوستان ان قراردادوں پر عمل درآمد کرنے میں ہمیشہ تذبذب کا شکار رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے زبردستی اس علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور اس علاقے میں 9 لاکھ سے زائد فوجی اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا۔ 

عالمی ادارہ کو زیربحث خطے کی صورتحال کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں، آئی ایم ڈبلیو یو کی نمائندہ محترمہ وردا نجم نے حق خود ارادیت کے انکار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو اس حق کا مطالبہ کرنے پر بدترین قسم کے تشدد بنا یا جاتا ہے۔

انہوں نے عالمی سامعین سے مسئلہ کشمیر میں دکھی انسانیت کی پکار سننے پر زور دیتےہوئے کہا کہ اگر ہندوستان سوچتا ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو سینسر کرنے سے دنیا کی آنکھول میں دھول جھونک سکتا ہے توبھارت کی سوچ سراسر غلط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی وہ واحد جگہ ہے جہاں لوگوں کو انصاف سے محرورم رکھا گیا ہے، جہاں فوج کا قبضہ ہے، جہاں لوگوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔

ڈبلیو ایم سی کے نمائندہ مسٹر راجہ سعید الز زمان نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کا قتل عام، جبری گمشدگیوں، کشمیری نوجوانوں کی نظربندی اور تشدد عام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ہراساں کرنا، پیلٹ فائر شاٹ گنوں سے لوگوں کوقتل اور اندھا کرنا بھارتی فوج کے لیے ایک معمول بن گیا ہے۔

اس موقع پر ایمنسٹی کے بین الاقوامی نمائندے نے ہندوستان میں فاشزم، عدم رواداری، اور نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہندوستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش ہےجہاں کالے قوانین کے آڑ میں پرامن مظاہرین اورانسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے۔ 

بھارت کے دیگر ریاستوں میں حالیہ تشدد اورپرامن مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد کے بارے میں انہوں نے کہا جو لوگ شہریت ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، انہیں بے جا طاقت کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو اب نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،  انہوں نے کہا، ہم کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور وعدوں کے لیے جوابدہ بنائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید