آئندہ الیکشن کون جیتے گا؟ وزیر اعظم نواز شریف بنیں گے یا عمران خان؟کیا تحریک انصاف کی سونامی باقی سبھوں کو بہا کر لے جانے میں کامیاب ہو جائے گی یا ن لیگ ہی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھرے گی؟ ان تمام سوالوں کا جواب الیکشن کے دن گیارہ مئی کو ہی ملے گا مگر کسی تبصرہ، کسی سروے، کسی جائزہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کا اس ریس میں کوئی ذکر نہیں۔ کوئی یہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں کہ پی پی پی بھی حکومت بنا سکتی ہے۔ میڈیاکو چھوڑیں یہ بات تو پی پی پی والے خود بھی نہیں کر رہے۔ اگر ٹی وی اور اخبارات کے اشہارات کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پی پی پی کی تو یہ حالت ہے کہ شاذونادر ہی الیکشن کے میدان میں نظر آتی ہے۔ پی پی پی کے اشتہارات دیکھ کر البتہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیسہ (چاہے جیسے بھی کمایا ہو) یقینابولتا ہے۔ مگر کروڑوں کے اخباری اور ٹی وی اشتہارات کے باوجود کوئی پتہ نہیں کون کہاں سے الیکشن لڑ رہا ہے ؟ کسی کو معلوم نہیں کہ پی پی پی کی الیکشن مہم کون چلائے گا؟ صدر زرداری بقول عمران خان کے بھٹو کی اس جماعت کو تباہ و برباد کر کے غیر سیاسی ہو گئے۔ اپنے بیٹے بلاول زرداری کو بھٹو کا نام دیا، اُن کو پارٹی چئیرمین بھی بناڈالا مگر وہ بھی الیکشن مہم چلانے کے قابل نہیں۔ جان کے خطرہ کی وجہ سے بلاول جلسے جلوسوں میں نہیں جا سکتے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف اب تک کئی بڑے بڑے جلسے کر چکے مگر لاکھوں کے جلسے کرنے والی پی پی پی آج ہزاروں کا مجمع اکٹھا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ صدر زرداری کی گزشتہ پانچ سال کی سیاسی چالاکیاں اپنی جگہ مگر 2013 الیکشن میں انہوں نے بھٹو کی جماعت کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا کہ جیت کا نعرہ لگانے والا بھی کوئی نہیں۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے گزشتہ پانچ سالوں میں دیے گئے دو تحفے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بچاروں کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ کرپشن کے سنگین الزامات میں ڈوبے گیلانی تو پہلے ہی نااہل ہو چکے راجہ پرویز اشرف پر بھی نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ پی پی پی کی طرف سے کہا یہ جا رہا تھا کہ گیلانی اور راجہ کی جوڑی مل کے پورے پاکستان میں الیکشن مہم چلائیں گے مگر لگتا ایسا ہے اس”ہنسوں کی جوڑی“ کی ”مقبولیت“ اور ”کارناموں“ کو دیکھ کر فیصلہ تبدیل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدراور کرپشن کے الزامات میں لتھڑے امین فہیم بھی کسی قابل نہیں۔ اپنے بنک اکاؤنٹ میں چار کروڑ روپے آنے سے بے خبر امین فہیم کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ الیکشن کے اس نازک وقت پر اُنکے پارٹی چئیرمین بلاول پاکستان میں بھی موجود ہیں یا نہیں۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صدر آصف علی زرداری کے سر پر ہے۔ یہ تو اس سیاسی جماعت کے ڈرپوک لیڈر (جو صدر زرداری کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں رکھتے) بھی مانتے ہیں کہ پی پی پی کے ساتھ تو زرداری نے وہ کر دیا جو ضیاء الحق مرحوم نہ کر سکے۔ گزشتہ پانچ سال انہوں نے خوب سیاست کی،دوستیاں نبھائیں، لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کا مکمل تحفظ کیا، اپنے وزرائے اعظم کو اپنے اشاروں پر نچایا، اپوزیشن، آرمی، ایجنسیوں سب کو دبائے رکھا مگر عوام کے لیے کچھ نہ کیا۔ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اُنہیں مزید سنگین کر دیا۔ اب جب عوام کا سامنا کرنے کا وقت آیا تو زرداری صاحب غیر سیاسی ہو گئے۔ تاہم کچھ غیر سیاسی اورپی پی حلقے مانتے ہیں کہ صدرزرداری نے تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنے پانچ سال نکال لئے اور ان کو یہ بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی حکومت برقرار رکھی بالکل اپنے اتحادیوں کو بھی ساتھ ملاکررکھا یہ کام کوئی بہت ہی ہوشیار اور سمجھدار آدمی ہی کرسکتا ہے۔ ایک طرف عوام کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں تو دوسری طرف اب یہ بھی ایوان صدر کے لیے قابل برداشت نہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنما صدر زرداری پر تنقید کریں۔یعنی جب اپنی مرضی تھی تو ایوان صدر میں بیٹھ کر خوب سیاست کی اوراچھا بُرا سب کچھ اپنے مخالفین کو کہا۔ اب جب حالات بدلتے دیکھا تو الیکشن کمیشن پہنچ گئے کہ صدر کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مگر الیکشن کمیشن نے ایوان صدر کی اس سیاسی شکایت کو کوئی خاص گھاس نہیں ڈالی۔یہ تو ابھی آئندہ دیکھنا ہے کہ قسمت کی دیوی کس کا ساتھ دیتی ہے اور حکومت کون بناتا ہے مگر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ شاید گیارہ مئی کے بعد زرداری صاحب کے لیے اب غیر سیاسی ایوان صدر میں بھی رہنا ممکن نہ ہو۔ گزشتہ پانچ سال وہ بے تاج بادشاہ رہے۔ موجودہ نگراں حکومت میں بھی اُن کا کافی اثرو رسوخ ہے مگر آئندہ چاہے حکومت ن لیگ بنائے یا تحریک انصاف صدر زرداری کو ایوان صدارت میں اپنا بقیہ عرصہ فضل الٰہی چوہدری بن کر گزارنا پڑے گا کیوں کہ چاہے نواز شریف ہوں یا عمران خان دونوں بڑے ڈاڈے لوگ ہیں۔