آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بلوچستان کو اربوں کھربوں بجٹ ملتا ہے، 80 فیصد کھالیا جاتا ہے، چیف جسٹس


چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کو اربوں کھربوں روپے کا بجٹ ملتا ہے جو کھالیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار سے متعلق سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران سیکریٹری کالجز ہاشم غلزئی، سیکریٹری تعلیم اسکولز شیرخان، سابق سیکریٹری طیب لہڑی عدالت میں پیش ہوئے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں کی حالت سے متعلق سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروادی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ 14 ہزار اسکولوں پر کتنے ارب روپے خرچ ہوئے؟

انھوں نے ریمارکس دیے کہ جن فنڈز کا ذکر ہے اس میں تو سارے اسکول فائیو اسٹار بن سکتے ہیں، ہم نے اسے دیکھا ہے، ایک اسکول پر پانچ کروڑ روپے سے زائد فنڈ آتا ہے۔

سیکریٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس میں صرف 4 ارب روپے ترقیاتی کاموں کا بجٹ ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا کوئی پیمانہ ہے کس کو کیسے ترقیاتی فنڈز دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرپشن کو روکنا ہمارا مقصد ہے، ہم کسی کو کھانے پینے نہیں دیں گے، اس کا آڈٹ کروائیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ صوبے کو اربوں کھربوں کا بجٹ ملتا ہے، 80 فیصد کھالیا جاتا ہے۔

انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ بلوچستان کا پیسہ پتہ نہیں کہاں کہاں جاتا یے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیسہ سانس کے ساتھ پکڑ کر رکھیں، کسی کو لوٹنے نہ دیں۔

صوبے میں تعلیمی اداروں سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ اسکولوں میں گائے بھینسیں بندھی ہوتی ہیں، تعلیم نہیں ہوتی۔

سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں اساتذہ رکشے چلا رہے ہیں، انہیں پاکستان کی ہجے بھی نہیں آتی۔

بلوچستان سے متعلق بات کرتے ہوئے جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ کوئی نیا مڈل یا ہائی اسکول نہیں بنایا، نہ ہی ان کو اپ گریڈ کیا گیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

قومی خبریں سے مزید