آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انوراگ کشیپ ریپ الزامات کی تفتیش کے لیے طلب، سمن جاری

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی کی پولیس نے بولی وڈ فلم ساز و اداکار انوراگ کشیپ کو ریپ الزامات کی تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ممبئی کے ورسووا تھانے نے فلم ساز انوراگ کشیپ کو تفتیش کے لیے تھانے میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانے کے لیے سمن جاری کردیا۔سمن میں انوراگ کشیپ کو یکم اکتوبر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک تھانے پہنچ کر بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کی گئی۔انوراگ کشیپ کو پولیس نے ایسے وقت میں سمن جاری کیا ہے جب کہ ایک روز قبل ہی ان پر الزام لگانے والی اداکارہ پائل گھوش نے اپنے وکلا کے ساتھ ورسووا تھانے پر احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کی شکایت پر سست روی سے کام کر رہی ہے۔پائل گھوش اور ان کے وکیل نتن ستپوتے نے 25 ستمبر کو انوراگ کشیپ کے خلاف ورسووا تھانے پر ʼریپ الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا تھا۔مقدمہ دائر کروائے جانے کے 4 دن تک پولیس کی جانب سے انوراگ کشیپ کو تفتیش کے لیے نہ بلائے جانے پر 29 ستمبر کو پائل گھوش نے پولیس تھانے میں

احتجاج کیا تھا۔اداکارہ کے احتجاج کے ایک دن بعد ہی پولیس نے انوراگ کشیپ کو تھانے میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دے دیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ پائل گھوش نے ابتدائی طور پر 19 ستمبر کو انوراگ کشیپ پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا، تاہم انہوں نے فلم ساز کے خلاف ʼریپ کا مقدمہ دائر کروایا ہے۔ابتدائی طور پر پائل گھوش نے 19 ستمبر کو اپنی مختصر ٹوئٹ میں فلم ساز انوراگ کشیپ کو مینشن کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فلم ساز نے ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔پائل گھوش نے اپنی مختصر ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی مینشن کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔بعد ازاں پائل گھوش نے انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ فلم ساز نے انہیں 6 سال قبل 2014 میں استحصال کا نشانہ بنایا۔

دل لگی سے مزید