آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جی ایس پی پلس پاکستان سمیت سب کے لیے مفید ہے، ظہیر اسلم جنجوعہ

جی ایس پی پلس پاکستان ہی کیلئے نہیں بلکہ  باہمی فائدے کے لحاظ سے سب ہی کیلئے مفید ہے۔ ان خیالات کا اظہار بیلجیئم لکسمبرگ اور یورپین یونین کیلئے سفیر پاکستان ظہیر اسلم جنجوعہ نے یورپین کمیشن میں منعقدہ جی ایس پی اسٹیک ہولڈرز فورم میں ایک پینلسٹ کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

فورم میں  ان کے ساتھ ممبران یورپین پارلیمنٹ  آنا کوازینی اور جورڈی کاناس بھی شریک تھے۔ سفیر پاکستان نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس یورپی یونین اور پاکستان دونوں کے لیے باہمی طور پر مفید ہے۔ 

اعداد و شمار سے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے یورپین یونین کو برآمدات 51 فیصد جبکہ یورپ سے پاکستان کو برآمدات 47 فیصد ہیں، اور یہ حجم اس اسکیم کے تحت پہلے روز سے ہی جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ اسی وجہ سے وہ ملک میں انسانی حقوق، لیبر رائٹس، ماحولیات اور ملک میں اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز کے نفاذ میں اس اسکیم کے ہرجائزے میں مستقل پیش رفت کر رہا ہے۔

انہوں نے فورم کو مزید آگاہ کیا کہ پاکستان نے ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور ان پر موثر عمل درآمد کیلئے نہ صرف مطلوبہ قومی قانون سازی کی بلکہ ایک جامع ادارہ جاتی میکانزم بھی تشکیل دیا ہے۔

ظہیر اسلم جنجوعہ نے کہا کہ کوویڈ 19 کے باعث ایک نئی عالمی کساد بازاری کا آغاز ہوا ہے۔ جو 2008 کے عالمی تجارتی بحران سے زیادہ خطر ناک ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ عالمی تجارت سمیت بین الاقوامی تعاون میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اس کرونا وائرس کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کرنے کے باعث اسے روکنے میں  کافی کامیابی ہوئی ہے اور اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 311000 جبکہ اموات ابتک 6400 کے قریب ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے اس مرض کے پھیلاؤ کے دوران حکومت پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مالی رکاوٹوں کے باوجود حکومت نے صحت کی خدمات کیلئے 8 ارب ڈالر مختص کیے جنہیں غریب ترین،  مالی لحاظ سے کمزور گھرانوں، روزانہ اجرت والےمزدوروں،  کم آمدنی والی خواتین، اور چھوٹے کاروبار پر احساس پروگرام کے تحت خرچ کیا گیا ہے۔

اسی طرح بہتر پالیسی کی تشکیل اور بزنس میں آسانیاں فراہم کرکے پاکستانی معیشت اور اس کی ایکسپورٹ  کو واپس ٹریک پر لاکر بحالی کی کوشش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کوویڈ کے بعد کی اقتصادی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس وباء کے درمیان  ترقی پذیر ممالک کے معاشی مسائل کے حل کیلئے ایک گفتگو کا آغاز کیا جائے جو ان کی برآمدات میں اضافے کی سفارشات اور اقدامات کیلئے ہی وقف ہو۔ جس کے دوران پائیدار معاشی بحالی کے لئے قومی ترقیاتی اہداف اور ترجیحات کی حمایت بھی کی جائے۔

قومی خبریں سے مزید