• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ’سمپسنز‘ میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی کی گئی ہے؟

مستقبل کے واقعات دکھانے کے حوالے سے مشہور کارٹون سیریز ’سمپسنز‘ میں عالمی وبا کورونا وائرس میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موت کے حوالے سے پیشگوئی کی گئی تھی یا نہیں، یہ سوال دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک معمہ بن گیا ہے۔

31 سیزنز اور 677 اقساط پر مبنی اس کارٹون سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہہ شخص جو ایک تابوت میں لیٹا ہوا ہے  کی تصویر زیر گردش ہے اور صارفین کا ماننا ہے کہ اس سیریز میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی کی جا چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ  میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد اس سیریز میں یہ ڈھونڈنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا اس میں امریکی صدر کی موت واقع ہوتی ہے یا نہیں۔

 2000 میں اس سیریز میں دکھایا گیا تھا کہ ایک ڈونلڈ ٹرمپ کی شباہت والا شخص امریکا کا صدر منتخب ہوتا ہے جس کے بعد اب سوشل میڈیا پر اس سیریز میں دکھائے گئے ٹرمپ کی تابوت میں تصاویر وائرل ہونا شروع ہوگئیں اور دعویٰ کیا جانے لگا کہ ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی کی گئی تھی۔

مگر اس سیریز کی 700 سے زائد اقساط دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے اس پیشگوئی کو مسترد کردیا ہے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ ایسا کوئی واقعہ دیکھا اور نہ ہی سنا جس میں ٹرمپ کی موت دکھائی گئی ہو، کیونکہ سمپسنز کی کسی قسط میں ایسا کوئی واقعہ نہیں دکھایا گیا۔

اس سے قبل اس سیریز سے متعلق یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ 1993 میں اس کارٹون نے کورونا وائرس کی حالیہ وبا کی بھی پیش گوئی کی تھی اور اب بیروت دھماکے کے متعلق بھی ایسا ہی دعویٰ سامنے آ گیا ہے۔

1989 میں پیش کیے جانے والے اس کارٹون سیریز کو ایک بہت ہی مشہور اینیمیٹڈ کامیڈی سیریز سمجھا جاتا ہے۔

اس سیریز میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مزاح سے بھرپور مناظر پیش کیے گئے لیکن آج اس سیریز کی وجہ اہمیت و مقبولیت اس کے مذاق نہیں بلکہ اس میں پیش کیے گئے واقعات کا موجودہ دور میں رونما ہونا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید