• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’قائدِاعظم اکیڈمی‘‘ کی آزادانہ حیثیت ختم

بانیٔ پاکستان، قائدِ اعظم، محمّد علی جناح ایک ایسی تاریخ ساز ہستی ہیں، جنہوں نے برطانوی استعمار کو شکست دے کر ایک نئی مملکت کی داغ بیل ڈالی۔ تاہم، اُن کی شخصیت اور کارہائے نمایاں اُجاگر کرنے کے لیے قیامِ پاکستان کے بعد مدّتوں تک کوئی سرکاری ادارہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ ذوالفقار علی بھٹّو نے اپنے دَورِ حکومت میں اِس کمی کو محسوس کرتے ہوئے قائدِ اعظم کے صد سالہ جشنِ ولادت کے موقعے پر جنوری 1976ء میں’’ قائدِ اعظم اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک سرکاری ادارہ قائم کیا، جس کے اغراض و مقاصد میں قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان سے متعلق تاریخی دستاویزات کا تحفّظ اور تحقیقی کتب کی اشاعت شامل تھی۔ 

جامعۂ کراچی کے پروفیسر شریف المجاہد اِس اکیڈمی کے پہلے ڈائریکٹر مقرّر کیے گئے، جنہوں نے تن دہی سے قائدِ اعظم سے متعلق ریکارڈ جمع کیا اور پھر اس ریکارڈ پر مبنی کتب کی اشاعت بھی یقینی بنائی۔یہ اکیڈمی 2014ء تک وفاقی حکومت کی مختلف وزارتوں کے ڈویژنز کے تحت ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے کام کرتی رہی، لیکن نئی حکومت کی پالیسی کے مطابق، اب اِس کی خود مختار حیثیت ختم کرکے اِسے’’ قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ‘‘ میں ضم کر کے ایک ماتحت ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ نیز، اس کا ایک ذیلی ادارہ اسلام آباد میں بھی قائم کیا گیا ہے۔ اِس وقت’’ قائدِ اعظم اکیڈمی‘‘ کا کوئی کُل وقتی ڈائریکٹر موجود نہیں اور یہ عُہدہ کئی ماہ سے خالی ہے۔ 

’’قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ‘‘ کے محمّد عارف اکیڈمی قائم مقام ڈائریکٹر ہیں، جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور اُن کی بنیادی ذمّے داری قائدِ اعظم کے مزار کی دیکھ بھال ہے۔ ظاہر ہے، سیکڑوں ایکڑ پر پھیلے مزارِ قائد کے معاملات چلانا کوئی آسان کام نہیں اور ایک انجینئر ہی ان ذمّے داریوں سے بہتر طور پر عُہدہ برآ ہو سکتا ہے، لیکن قائدِ اعظم اکیڈمی ایک قطعی مختلف ادارہ ہے۔ یہ ایک علمی و تحقیقی ادارہ ہے، جسے ایک ماہر تاریخ نویس یا محقّق ہی بہتر طور پر چلا سکتا ہے، جو قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان سے متعلق مضامین میں اعلیٰ ڈگری کا حامل ہو۔ اس ادارے نے گزشتہ45 برسوں میں قائدِ اعظم، اُن کے رفقائے کار اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے انتہائی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اس کا انتظام متعلقہ وفاقی وزارت کے تحت ایک کُل وقتی ڈائریکٹر اور ضروری عملے(بورڈ آف گورنرز) کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ 

اس بورڈ اور مجلسِ عاملہ میں خصوصی طور پر ایسے اراکین کا تقرّر کیا جانا چاہیے، جو اپنی علمی قابلیت، صلاحیت اور تاریخ نویسی کے حوالے سے قائدِ اعظم، تحریکِ پاکستان اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نمایاں حیثیت کے حامل ہوں اور جدید تحقیقی تقاضوں سے بھی بدرجۂ اَتم واقف ہوں۔ دیگر سرکاری اداروں کے برعکس، جن کا انتظام و انصرام بیورو کریسی کے سُپرد ہوتا ہے، قائدِ اعظم اکیڈمی خالصتاً ایک علمی، تحقیقی اور تاریخی نوعیت کا ادارہ ہے، جو روایتی بیورو کریسی کے اثرات سے پاک ہے۔ اس کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی تجربے میں زیادہ دخل نہ رکھنے والے احباب نے اس ادارے کو بھرپور انداز میں چلایا اور کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس سے ادارے کے وقار اور حیثیت پر کوئی حرف آئے۔ اس کے تحت اب تک 100سے زاید ایسی کتب شایع کی جا چُکی ہیں، جو قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے نایاب کہی جا سکتی ہیں۔ 

قائدِ اعظم اکیڈمی کے ریسرچ اسکالرز نے بڑی جانفشانی اور محنت سے ایسا ریکارڈ کھوج نکالا، جو دُنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا، کیوں کہ یہ معرکہ وہی سرانجام دے سکتا تھا، جو تحقیق کی جدید تیکنیک اور تقاضوں سے بخوبی واقف ہو۔ یہ کوئی فائل ورک نہیں تھا، جو ٹوئٹنگ اور ڈرافٹنگ تک محدود ہو۔ تحقیق کے لیے ایک خاص ذہن کی ضرورت ہوتی ہے، جو گہرائی میں اُتر کے حقائق تلاش کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، جب کہ ایک عام بیورو کریٹ کا تعلق محض انتظامی معاملات ہی تک ہوتا ہے۔

قائدِ اعظم اکیڈمی اور قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ میں کوئی قدر مشترک نہیں، بلکہ دونوں اداروں میں بُعدُالمشرقین ہے۔ جس طرح مزارِ قائد کا انتظام و انصرام ایک نان ٹیکنیکل فرد، جس کا انجینئرنگ سے کوئی تعلق نہ ہو، نہیں چلا سکتا، اِسی طرح قائدِ اعظم اکیڈمی کے معاملات کوئی غیر علمی یا غیر تحقیقی مینجمنٹ نہیں چلا سکتی۔ لہٰذا، مناسب یہی ہوگا کہ قائدِ اعظم اکیڈمی کے وقار اور گزشتہ ریکارڈ کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اسے ایک خود مختار ادارے کی حیثیت دی جائے تا کہ اس کا علمی و تحقیقی تشخّص برقرار رہے۔ اس مقصد کے لیے فی الفور ڈائریکٹر کے عُہدے پر کسی علمی و تحقیقی فرد کا تقرّر کیا جانا چاہیے، جو متعلقہ شعبے میں اعلیٰ ڈگری رکھتا ہو۔ مزارِ قائد کے سامنے واقع یہ اکیڈمی محض ایک روایتی نوعیت کا سرکاری ادارہ نہیں،یہ قائدِ اعظم کی شخصیت کے شایانِ شان ہے اور اس کا یہ وقار برقرار رہنا چاہیے۔

قائدِ اعظم اکیڈمی کی سابقہ ڈائریکٹر، ڈاکٹر شہلا کاظمی اِس ضمن میں کہتی ہیں کہ’’مجھے یہ جان کر بے حد مایوسی ہوئی کہ قائدِ اعظم اکیڈمی کو مزار مینجمنٹ بورڈ میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اس کی علیٰحدہ حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ اگر اس اکیڈمی کا موازنہ مزار مینجمنٹ بورڈ سے کیا جائے، تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اکیڈمی کے فرائض و مقاصد کا دائرۂ کار اور دائرۂ عمل مینجمنٹ بورڈ سے یک سَر مختلف ہے۔ اس انضمام سے قائدِ اعظم اکیڈمی، کراچی نے اپنی حقیقی حیثیت اور تشخص کھو دیا ہے۔یہ قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان کے مختلف گوشوں پر تحقیق کرنے والا واحد سرکاری ادارہ تھا، اسے ہر حال میں ایک علیٰحدہ حیثیت میں قائم رہنا چاہیے۔ اگرچہ اس ادارے نے اب تک درجنوں کتب شائع کی ہیں، جن میں اہم تاریخی مواد بھی شامل ہے، لیکن اب بھی قیامِ پاکستان سے متعلق بہت سا مواد شایع ہونا باقی ہے، جس میں ’’مسلم لیگ ڈاکیومینٹ‘‘اور’’ شمس الحسن کلیکشن‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔‘‘

اکیڈمی نے قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان پر متعدّد کانفرنسز، سیمینارز، لیکچرز اور مذاکرے منعقد کرنے کے ساتھ اُردو، انگلش، سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی زبانوں میں کتب اور تراجم شائع کیے ہیں۔ اِس اکیڈمی کی ایک بڑی ریسرچ لائبریری بھی ہے، جہاں بڑی تعداد میں اسکالرز، اساتذہ اور طلبہ استفادے کے لیے آتے ہیں، جن میں غیرمُلکی محقّقین بھی شامل ہیں۔کسی بھی مُلک کا بانی اس مُلک کے اتحاد، عظمت وقار کی علامت ہوتا ہے اور مختلف ممالک نے اپنے بانیوں پر تحقیق کے لیے ادارے قائم کر رکھے ہیں، جونہ صرف بانیوں اور اُن کے عظیم کارناموں کی یاد تازہ رکھتے ہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیقات کے دروازے بھی کُھولتے ہیں۔ چناں چہ، بانیٔ پاکستان کے نام پر قائم ہونے والے اس ادارے کو بھی اپنی اصل حیثیت میں برقرار رہنا چاہیے، جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور پاکستان کے اتحاد، یک جہتی کی ضامن بھی۔

تازہ ترین