• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیشرفت، جوڈیشل ریمانڈ کالعدم قرار

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

کراچی کی مقامی عدالت نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کا جوڈیشل ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

سیشن عدالت جنوبی میں منشیات فروش انمول عرف پنکی اور اس کے شریک ملزمان کے خلاف گارڈن تھانے میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔

 تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ایک مقدمے میں ملزمہ انمول کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جبکہ دیگر مقدمات میں جیل کسٹڈی کیا، ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی نے منشیات کے دوسرے مقدمے میں بھی ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دیا۔

تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ شریک ملزمان ذیشان اور سہیل کو 16 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز ڈیوٹی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کے باوجود جوڈیشل ریمانڈ دیا، تفتیش کے لیے ملزمان ذیشان اور سہیل کا جسمانی ریمانڈ انتہائی ضروری ہے، ملزمان سے برآمد موبائل فون سے اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ملزمہ انمول سے متعلق کنفیوژنگ آرڈر جاری کر کے غیر قانونی اقدام کیا، ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

جج نے کہا کہ شریک ملزمان سے موبائل فون بطور شواہد پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں، تحقیقات کے دوران موبائل فون کی جانچ کے لیے ملزمان کی کسٹڈی ضروری نہیں، موبائل فون کی جانچ آن لائن ویریفکیشن اور فرانزک کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ شریک ملزمان کے ریمانڈ سے متعلق نظرِ ثانی کی درخواست میرٹ کے مطابق نہیں، ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ریمانڈ سے متعلق فیصلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں، شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی افسر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید