آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جیسے جیسے امریکی صدارتی انتخاب قریب آ رہے ہیں صدارتی اور نائب صدارتی اُمیدواروں کے درمیان مباحثوں پر زیادہ بات ہو رہی ہے۔ پہلے تو جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مباحثے کا ذکر رہا پھر نائب صدر کے اُمیدواروں کملا ہیرس اور مائیک پینس کی گفتگو موضوع بحث رہی۔یہ مباحثے نوّے منٹ کے ہوتے ہیں جن میں دونوں فریقوں کو برابر بولنے کے مواقع ملتے ہیں۔ اس وقت تک ان مباحثوں میں اور مختلف سروے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدواروں جوبائیڈن اور کملا ہیرس کو ٹرمپ اور پینس پر واضح برتری حاصل ہے۔

اس سے قبل جو صدارتی مباحثہ ہوا تھا اس میں ٹرمپ نے بار بار مداخلت کی تھی اور جوبائیڈن کے بولنے میں رُکاوٹ ڈالی تھی جس پر تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک صدارتی اُمیدوار نے دُوسرے کو ’’شٹ اَپ‘‘ کہا تھا۔ یعنی جوبائیڈن نے بار بار ٹوکے جانے پر ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ اپنا مُنہ بند رکھیں۔

ری پبلکن پارٹی کے صدر ٹرمپ نے مباحثے میں خاصا جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا مگر اس کے برعکس نائب صدر نے بہت پُرسکون اور تمیزدار انداز میں ٹرمپ کی تلخی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ گوکہ پینس نے ایک بار مداخلت کی کوشش کی مگر کملا ہیرس نے انہیں شائستگی سے روک دیا۔

اب تک کے مباحثوں میں اُمیدواروں نے کورونا وائرس کے امریکا پر تباہ کن نتائج پر زیادہ بات کی ہے۔ پہلے صدارتی مباحثے میں پوری گفتگو کا تقریباً ایک تہائی حصہ وائرس پر ہی بات ہوتی رہی اور نائب صدارتی اُمیدوار کملا نے بھی اسی بات پر حملے کیے۔یاد رہے کہ اب تک کورونا وائرس سے امریکا میں مرنے والوں کی تعداد سوا دو لاکھ تک پہنچنے والی ہے جو صرف چھ مہینوں میں بہت بڑی تعداد ہے اور ظاہر ہے اس میں ٹرمپ انتظامیہ کی نااہلی کا بڑا دخل ہے۔ نائب صدر پینس کا انداز زیادہ تر دفاعی رہا خاص طور پر نائب صدر اپنے صدر ٹرمپ کی ماحول دُشمن پالسی کا دفاع نہ کر سکے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جوبائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی پر اپنے منصوبے میں کئی اہم باتیں شامل کی ہیں اور اسی طرح کملا ہیرس بھی گرین نیو ڈیل یا سبز نئے معاہدے کی موسمیاتی تحریک کو آگے لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں جس کے ذریعے کاربن کے اخراج کو قابو میں لانے اور اس میں خاطرخواہ کمی کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امریکا میں ایک بڑا حلقہ ایسے لوگوں کا موجود ہے جو ماحولیات کے بارے میں حکومتی قواعد کے شدید خلاف ہیں خاص طور پر پین سلوینیا اور اوہایو میں ایسے ووٹر بڑی تعداد میں جو اپنے معاش کے لئے حکومتی قواعد کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی لئے ری پبلکن پارٹی کے اُمیدوار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ گرین نیو ڈیل ٹھیک نہیں ہے اور یہ امریکی توانائی کے لئے نقصان دہ ہے۔اس سلسلے میں اصل مسئلہ فوسل ایندھن یعنی زمین سے نکلنے والے ایندھن کے ذرائع مثلاً تیل، گیس اور کوئلے وغیرہ کا ہے جو اس وقت امریکا کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں مگر ان سے ماحولیات پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایندھن کے غیرفوسل ذرائع مثلاً شمسی توانائی، ہوائی ٹربائن کے ذریعے بجلی وغیرہ ماحولیات کے لئے بہت موزوں ہیں مگر اس سے امریکی معیشت وقتی طور پر متاثر ہوگی اسی لئے دو متحارب گروہ بن گئے ہیں جو ایک دوسرے کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ اب تک ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کا رویہ ماحولیات کے بارے میں قطعی غیرسائنسی رہا ہے مگر مائیک پینس نے ایک مرتبہ ضرور کہا کہ وہ سائنس کی پیروی کریں گے۔

اس کے علاوہ امریکی صدارتی انتخاب میں ایک اور بڑا موضوع گفتگو نسلی امتیاز ہے جس پر ڈیموکریٹک پارٹی واضح مؤقف رکھتی ہے اور ’’منظم نسل پرستی‘‘ کے خاتمے کی بات کرتی ہے جب کہ ری پبلکن اُمیدواروں نے تو اس بات سے ہی انکار کر دیا ہے کہ امریکا میں منظم نسل پرستی موجود ہے۔ٹرمپ اور پینس دونوں یہ کہتے رہے ہیں کہ انہیں امریکی نظام عدل پر پورا اعتماد ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امریکی قوم منظم طور پر نسل پرست ہے وہ قانون کے اداروں کی توہین کر رہے ہیں۔

مباحثوں میں جوبائیڈن اور پھر کملا ہیرس دونوں کا انداز بہت پُراعتماد تھا کیونکہ جوبائیڈن ایک پُرانے سیاست دان ہیں جب کہ خود کملا ہیرس بھی سان فرانسسکوکی سابق پراسی کیوٹر اور کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل ہیں اسی لئے قانون کے معاملوں پر اُن کی خاصی مضبوط گرفت رہی ہے۔ جب کہ ٹرمپ اور پینس ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ہیں۔

اب تک ری پبلکن پارٹی کے اُمیدواروں نے سفید فام برتری پر یقین رکھنے والوں کی کھل کر مذمت نہیں کی ہے۔ ٹرمپ سے بھی جب خاص طور پر پوچھا گیا تب بھی انہوں نے بات گول مول کرنے کی کوشش کی اور ایسے گروہوں کو جو سفید فام بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اُن سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور ’’اسٹینڈ بائی‘‘ رہیں یعنی مناسب وقت کا انتظار کریں۔ لگتا ہے ایک بار پھر ٹرمپ سفید فامر اکثریتی ووٹ اس طرح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار بڑے واضح طور پر سفید فام بالادستی کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ امریکی سیاست میں جو بھی نائب صدر یا اس کا اُمیدوار ہوتا ہے یا ہوتی ہے اُن کی نظریں بالآخر اس مقصد پر ہوتی ہیں کہ مستقبل میں وہ خود صدارتی انتخاب لڑ سکیں یا اس کے لئے نام زدگی حاصل کر سکیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکی صدارتی انتخابات میں اسرائیلی اثر بہت واضح رہا ہے اور امریکا میں موجود یہودی ان انتخابات پر کسی نہ کسی طرح اثرانداز ہوتے رہے ہیں لیکن اب اکیسویں صدی میں بھارتی برادری بھی سامنے آ رہی ہے اور دونوں امریکی جماعتیں بھارتیوں کو خوش کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ ویسے تو تاریخی طور پر بھارت اور اس کے امریکا میں موجود لوگ زیادہ تر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف جھکائو رکھتے رہے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی جے پی کے رہنما مودی سے ذاتی دوستی بنا لی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینیوں کا ساتھ دیا ہے مگر اب بی جے پی کی قیادت میں بھارتی پالیسی بھی بدل چکی ہے اور اسرائیل اور بھارت کو قریب لانے میں ٹرمپ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مودی کے امریکی دورے کے موقع پر ٹرمپ نے مودی کے ساتھ امریکی بھارتیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا تھا اور قریبی دوستی کا تاثر پیدا کیا تھا۔ یہ وہی مودی تھا جس کو بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہونے پر امریکا نے کئی سال ویزا جاری نہیں کیا تھا۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ امریکا میں اسرائیلی کے ساتھ بھارتی برادری بھی ٹرمپ کو ہی ووٹ دے گی۔ اس کے مقابلے کے لئے ہی ڈیموکریٹک پارٹی نے بھارتی نژاد کملا ہیرس کو نائب صدر کا اُمیدوار بنایا ہے جس سے پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

کملا ہیرس مکمل طور پر بھارتی نژاد نہیں ہیں اور ان کی امریکہ میں بنیادی شناخت ایک سیاہ فام امریکی کی ہے۔ کملا ہیرس کے والد جمیکا سے امریکا آئے تھے اور والدہ شیما گوپالن بھارت سے امریکا آئی تھیں اس طرح وہ نصف بھارتی ہیں اور اس پر فخر بھی کرتی ہیں۔ اس لیے بہت سے امریکی بھارتی کملا ہیرس کو پسند بھی کرنے لگے ہیں اور انہیں ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔ پھر کملا ہیرس اب تک ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے انتخابی عطیات لانے میں بھی اہم رہی ہیں۔

بھارتی ووٹ اس لئے بھی اہم ہو سکتے ہیں کہ امریکہ میں بھارتی نژاد ووٹروں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق بیس لاکھ تک ہے خاص طور پر مشی گن اور پین سلوینیا میں بھارتی نژاد امریکی بڑی تعداد میں ہیں لیکن جو بھارتی کشمیر کے مسئلے پر مودی کے ساتھ ہیں وہ ضرور ٹرمپ کو ووٹ دیں گے کیوں کہ ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت اور مودی کی کوئی مذمت نہیں کی بلکہ ایک طرح سے اسے اُکسایا بھی تھا اور کشمیر پر مودی کے مؤقف کی حمایت کی تھی۔ پھر ٹرمپ ہر دہشت پسندی کو اسلامی انتہاپسندی قرار دینے میں پیش پیش رہے ہیں جس سے مذہبی ہندو خوش ہوتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں جوبائیڈن اور کملا ہیرس دونوں کشمیر کے بارے میں مودی کے اقدامات پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جس سے کچھ بھارتی ناراض ہوئے ہیں۔

اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جوبائیڈن کو صدر ٹرمپ پر آٹھ سے بارہ فیصد تک کی برتری حاصل ہے لیکن پھر بھی کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں کے ووٹر عین وقت پر فیصلے کرتے ہیں۔ اس دوران ٹرمپ کو کورونا کی تشخیص بھی ہو چکی ہے اور وہ نسبتاً تھکے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ہر امریکی انتخاب کی طرح اس مرتبہ بھی امریکا میں موجود بھارتی اور پاکستانی نژاد امریکی بھی سرگرم ہیں کیوں کہ تین نومبر کو ہی جب صدارتی انتخاب ہوگا اسی دوران متعدد مقامی اور ریاستی انتخابات کا انعقاد بھی ہوگا جن میں بھارتی اور پاکستانی خواتین بھی حصہ لے رہی ہیں مثال کے طور پر پاکستانی نژاد ثوبینہ ظفر ہیں جو سان فرانسسکو کے قریب ایک چھوٹے شہر کی نائب میئر اور اب میئر کا انتخاب لڑنے والی ہیں۔اسی طرح ایک بھارتی نژاد امریکی شہری رادھیکا کونال ہیں جو نیواڈا سے ریاستی اسمبلی کی اُمیدوار ہیں اور پیشہ ورانہ طور پر ایک سائنس دان ہیں اور مائیکرو بایولوجی میں پی ایچ ڈی امریکا سے ہی کر چکی ہیں۔ ایک اور پاکستانی فرح خان ہیں جو ایک اور چھوٹے شہر سے میئر کی اُمیدوار ہیں جس کا نام اروائن ہے اور جو کیلی فورنیا سے قریب ہے۔اسی طرح ایک بھارتی نژاد اُمیدوار پدما کوپا جو ریاضی دان ہیں اور مشی گن سے پہلے بھی انتخاب جیت چکی ہیں۔

ایک نظر اس نظام پر ڈالتے ہی جس کے تحت امریکی صدر اور نائب صدر منتخب ہوتے ہیں۔ آنے والے انتخاب میں صدر اور نائب صدر کی ہار جیت کا فیصلہ صرف چند امریکی ریاستوں پر منحصر ہو سکتا ہے۔ دراصل یہ دوڑ 270الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کی ہے اور ہر ریاست کے پاس اس کی آبادی کے مخصوص الیکٹورل ووٹ ہوتے ہیں۔

2016ء کے انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اہم ترین ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی تھی جن کے بارے میں سمجھا جا رہا تھا کہ وہاں سے کوئی بھی اُمیدوار کامیاب ہو

سکتا ہے یعنی کسی کو واضح برتری نہیں تھی۔ پورے امریکا میں کل ملا کر 538ووٹ ہیں اور اگر دونوں 269 ووٹ لیں تو نتیجہ برابر ہو سکتا ہے اگر یسا ہو تو امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان یا قومی اسمبلی دونوں اُمیدواروں میں سے کسی ایک اُمیدوار کو ووٹ دیں گی جس سے فیصلہ ہو جائے گا لیکن ایسا پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ایک بار بھی نہیں ہوا۔

ری پبلکن پارٹی امریکا میں روایت پسند یا قدامت پسند سمجھی جاتی ہے اور عام طور پر ٹیکسوں میں کمی کا وعدہ کرتی ہے اور عوام کے اسلحہ رکھنے کے حق کا تحفظ چاہتی ہے ساتھ ہی غیرممالک سے آنے والے تارکین وطن کے بارے میں سخت پالیسی رکھتی ہے۔ اسی لئے اسے عام طور پر دیہی علاقوں سے حمایت ملتی ہے۔ اسی پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے دو باپ بیٹے صدور یعنی جارج بش سینئر اور جارج بش جونیئر صرف آٹھ سال کے وقفے سے صدر منتخب ہوئے تھے اور دونوں نے بڑی جنگیں لڑیں۔

صدر جارج بش سینئر 1992ء میں بل کلنٹن سے شکست کھانے سے قبل کویت کو عراق سے آزاد کرانے کی جنگ لڑ چکے تھے اور اسی طرح بش جونیئر نے 2000ء میں صدر منتخب ہونے کےبعد افغانستان اور عراق میں جنگیں شروع کیں تھیں جو کسی نہ کسی طرح اب تک چل رہی ہیں۔

ڈیمو کریٹک پارٹی نسبتاً روشن خیال یا لبرل ہے جس کے آخری صدر اوباما تھے جن کے ساتھ جو بائیڈن آٹھ سال نائب صدر رہے تھے۔ غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ ایک چوہتّر(74) سالہ صدر کے مقابلے میں ایک اٹھتّر(78) سالہ صدارتی اُمیدوار لڑ رہے ہیں اور لڑائی کا نتیجہ یقیناً دل چسپ ہوگا۔