آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومتی مقبولیت میں کمی، عمران قومی بوجھ بن چکے، خواجہ آصف


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت کی مقبولیت میں تیزی سے کمی ہوئی ہے، عمران خان اس وقت قومی بوجھ بن چکے ہیں، سنیئرصحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ انٹرنیشنلائز ہوگیا ہے،سنیئرتجزیہ کار فہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن نے احتجاج کے لئے درست وقت کا انتخاب کیا،ماہرمعیشت خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی خطے سے 100 فیصد زیادہ ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے پچھلے الیکشن میں گوجرانوالہ ڈویژن سے تمام نشستیں جیتی ہیں، نواز شریف نے اسی اسٹیڈیم میں2012ء میں ایک جلسے سے خطاب کیا تھا، میں اپنے قافلے کے ساتھ گوجرانوالہ پہنچا لیکن جلسہ گاہ میں جگہ نہیں تھی، کل گوجرانوالہ میں اس سے بھی زیادہ مجمع ہوگا، عوام اور کارکنوں میں ایسا جوش اور ولولہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے،اس وقت مہنگائی بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے سب متاثر ہیں، پچھلے دو سال میں حکومت کی مقبولیت میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

عمران خان اس وقت قومی بوجھ بن چکے ہیں، تبدیلی کے نعرہ پر اسے سپورٹ کرنے اور ووٹ دینے والے مایوس ہو کر گھروں پر ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان میں اتنی جرأت نہیں کہ اپوزیشن کی موجودگی میں تقریر کرسکے، کل اپوزیشن نہیں ہوگی اس لئے قومی اسمبلی اجلاس کا بلا یا گیا ہے تاکہ عمران خان تقریر کرسکے، عمران خان کو بھی احساس ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شکل نہیں دکھاسکتا ہے، عمران خان اب کہیں جلسہ کر کے دکھائے اوقات پتا چل جائے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو ایک آئینی اور نظریاتی ایشو ہے، مہنگائی کا ایشو وقتی ہے کل مہنگائی نہیں تھی آج مہنگائی ہے، نااہل لوگوں سے ہماری جان چھوٹے تو ہوسکتا ہے مہنگائی ختم ہوجائے جبکہ ووٹ کی عزت کو ہمیں تحفظ دینا ہے۔

عمران خان ہماری معیشت کو گالی دیتے ہیں مگر ہمارے فائنانس سیکرٹری وقار مسعود کو کابینہ میں لے آئے ہیں، اس حکومت کا ہر دن ملک پر بھاری گزر رہا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام نے نواز شریف سے استعفیٰ مانگا تھا، ظہیر الاسلام کا پیغام جو شخص لایا تھا وہ بہت مشہور آدمی اور بزنس مین ہے کسی موقع پر اس کا نام بھی بتادوں گا، ان صاحب کی بیگم کو جب پتا چلا کہ وہ نواز شریف سے استعفیٰ لینے جارہے ہیں تو اس نے کہا کہ نواز شریف نے 12اکتوبر کو گن پوائنٹ پرا ستعفیٰ نہیں دیا تمہارے کہنے پر کیسے دیں گے، اس وقت کی فوجی قیادت اور افسران بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ظہیر الاسلام مارشل لاء کیلئے لابی کررہے تھے ، جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ نے ظہیر الاسلام کی کوششوں کی مزاحمت کی، ہم نے مشرف کا کیا بگاڑ لیا جو ظہیر الاسلام کیخلاف مقدمہ بن جائے گا، ظہیر الاسلام میں اتنی جرأت ہونی چاہئے کہ تسلیم کریں، ہمارا وقت آئے گا تو یہ سب حساب کتاب ہوں گے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کا جلسہ کامیاب کروانے کیلئے جو ہتھکنڈے استعمال کرسکتی تھی کررہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اور عثمان بزدار کی حکومت مریم نواز، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن کی مخالف نہیں ان کیلئے کام کررہی ہے، گوجرانوالہ کا جلسہ روٹین میں ہونے دیا جاتا تو روٹین میں ہی لیا جاتا، حکومت نے پینک میں آکر پہلے بغاوت کا مقدمہ کردیا پھر بینرز اتارنے، کنٹینر کھڑے کرنے، گرفتاریاں کرنا شروع کردیں، تمام وزراء جلسے پر پریس کانفرنسیں کررہے او ر چیلنج دے رہے ہیں، گوجرانوالہ کا جلسہ انٹرنیشنلائز ہوگیا ہے، آج تین غیرملکی صحافیوں نے مجھ سے رابطہ کر کے جلسہ کور کرنے کیلئے جانے کا بتایا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت جتنی تیزی سے غیرمقبول ہوئی ہے ماضی میں کوئی حکومت نہیں ہوئی۔

عمران خان کو غیرمنتخب لوگوں نے گھیرا ہوا ہے جو کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے، ان کی حکومت کے ترجمان غیرمنتخب نمائندے ہیں جو حکومت چلارہے ہیں، بہت سے سینئر وزراء اسی وجہ سے کچھ نہیں بولتے ہیں، حکومت کے وزراء اپنے بیانات سے اپوزیشن کے بیانیہ کو سپورٹ کررہے ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ حکومت کے دعوے اور دھمکیاں بہت ہیں لیکن عوام کو ریلیف دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، اپوزیشن اسلام آباد میں کسی کو بلائے نہ بلائے لوگ خود ہی چلے آرہے ہیں، اپوزیشن کی کال کے بغیر ہی لیڈی ہیلتھ ورکرز، مزدور، کلرک ایسوسی ایشن اسلام آباد آگئے ہیں، عمران خان دو سال سے کہہ رہے ہیں مہنگائی کرنے والوں سے سختی سے نمٹوں گا ابھی تک کچھ نہیں کرسکے۔

اہم خبریں سے مزید