آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

درآمدی اور لوکل چینی پر ٹیکسوں کا یکساں نفاذ ناگزیر ہو گیا

اسلام آباد (حنیف خالد) پاکستان کی 87شوگر ملوں نے 10نومبر سے کرشنگ سیزن شروع کرنے سے معذرت کر لی۔ آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے ہفتہ کی شب جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 48شوگر ملیں ہیں‘ باقی شوگر ملیں سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہیں۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اس سابق سینئر عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے شوگر ملیں دس نومبر 2020ء سے چینی کی پیداوار شروع کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن شوگر ملز مالکان دس نومبر سے کرشنگ سیزن شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ اُن سے کین کمشنر کی طرف سے وضاحتیں مانگی جا رہی ہیں‘ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی اور نیب کی انکوائریوں میں ملوث کیا گیا ہے۔ ان کے پاس یہ انکوائریاں بھگتنے کے بعد ملوں کی مرمت‘ مینٹی ننس کرنے کیلئے وقت ہی نہیں ہے۔ گورنمنٹ نے شوگر درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے‘ اور درآمدی شوگر پر تمام ٹیکس‘ ڈیوٹیاں ختم کر دی ہیں اسکے علاوہ پاکستانی شوگر ملوں کی مشاورت کے بغیر

درآمدی شوگر پر سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان تمام وجوہات کے باوجود حکومت پاکستان میں چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہے جو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے بھی بڑھ رہی ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید